×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / کیا کسی کو ادائے حج یا ادائے عمرہ کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا جا سکتا ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-16 11:55 AM | مناظر:1900
- Aa +

کیا کسی کو ادائے حج یا ادائے عمرہ کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا جا سکتا ہے؟

هل يجوز إعطاء زكاة المال لمن أراد الحج أو العمرة؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اس مسئلے میں اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے کہ ان جیسے امور میں زکوٰۃ ادا نہیں کی جائے گی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زکوٰۃ کے مصارف محدود کردئیے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’بے شک صدقات فقراء، مساکین، ان پر کام کرنے والوں، نئے اسلام لانے والوں کی دلجوئی، غلاموں، قرضداروں، اللہ کی راہ میں چلنے والوں اور راہ گیر مسافروں کے لئے ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ بہت علم والا بہت حکمت والا ہے‘‘{التوبہ: ۶۰یعنی زکوٰۃ کے یہ مصارف اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے ان طبقات میں زکوٰۃ کے مصارف کی جو تخصیص و تحدید کی ہے تو یہ حکمت سے خالی نہیں ہے ، لہٰذا کسی کو حج وعمرہ کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کا مال دینا قرآن میں مذکورہ مصارف کے خلاف ہے ، اگر آپ اس کی مدد کرنا چاہتے بھی ہیں تو آپ اس مالی بحران کا سدِّ باب کرلیں جس کی وجہ سے عمرہ کی ادائیگی میں رکاوٹ پیش آرہی ہے یا پھر زکوٰۃ کے مال کے علاوہ کسی اور صدقہ کے مال یا ہدیہ وغیرہ سے اس کی مدد کریں ، آپ کو انشاء اللہ اس میں بھی اجر ملے گا


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں