فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / کیا کسی کو ادائے حج یا ادائے عمرہ کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا جا سکتا ہے؟

کیا کسی کو ادائے حج یا ادائے عمرہ کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا جا سکتا ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-05-16 | مناظر : 1291
- Aa +

کیا کسی کو ادائے حج یا ادائے عمرہ کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا جا سکتا ہے؟

هل يجوز إعطاء زكاة المال لمن أراد الحج أو العمرة؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اس مسئلے میں اکثر اہل علم کا یہی مذہب ہے کہ ان جیسے امور میں زکوٰۃ ادا نہیں کی جائے گی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زکوٰۃ کے مصارف محدود کردئیے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’بے شک صدقات فقراء، مساکین، ان پر کام کرنے والوں، نئے اسلام لانے والوں کی دلجوئی، غلاموں، قرضداروں، اللہ کی راہ میں چلنے والوں اور راہ گیر مسافروں کے لئے ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ بہت علم والا بہت حکمت والا ہے‘‘{التوبہ: ۶۰یعنی زکوٰۃ کے یہ مصارف اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے ان طبقات میں زکوٰۃ کے مصارف کی جو تخصیص و تحدید کی ہے تو یہ حکمت سے خالی نہیں ہے ، لہٰذا کسی کو حج وعمرہ کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کا مال دینا قرآن میں مذکورہ مصارف کے خلاف ہے ، اگر آپ اس کی مدد کرنا چاہتے بھی ہیں تو آپ اس مالی بحران کا سدِّ باب کرلیں جس کی وجہ سے عمرہ کی ادائیگی میں رکاوٹ پیش آرہی ہے یا پھر زکوٰۃ کے مال کے علاوہ کسی اور صدقہ کے مال یا ہدیہ وغیرہ سے اس کی مدد کریں ، آپ کو انشاء اللہ اس میں بھی اجر ملے گا

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں