فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / قرضے کی زکوٰۃ کی کیفیت

قرضے کی زکوٰۃ کی کیفیت

تاریخ شائع کریں : 2017-05-16 | مناظر : 899
- Aa +

قرضے کی زکوٰۃ کی کیا کیفیت ہے؟

ما هي كيفية زكاة الدَّيْن؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

لوگوں کے پاس جو قسطیں ہوتی ہیں چاہے ان کا سبب ٹھیکے ہوں یا چاہے ان کا سبب گاڑیوں کی قسطیں ہوں یا پھر دیون میں سے تھوک تجارات کی اقسام ہوں سب برابر ہے، لہٰذا اگر کسی انسان کو قرضہ ملنے کی امید ہو تو جمہور علماء کے نزدیک ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب ہے ، اور زکوٰۃ کے طریقہ میں اہل علم دو اقوال ہیں:

 پہلا قول:  یہ ہے کہ جب سال پورا ہوگا تو وہ اپنے مال کے ساتھ اس کی زکوٰۃ نکالے گا۔

دوسرا قول:  یہ ہے کہ اس کا اتنا انتظار کیا جائے گا کہ جو مال اس نے بطورِ قرض دیا ہے اس کو وصول کرلے ، اور پھر جتنے سال وہ مال قرضداروں کے پاس رہا ہے تو اتنے سالوں کی زکوٰۃ نکالے گا۔

اور دونوں اقوال کافی زیرِ غور ہیں ، لیکن اگر اسے قرضدار کے نہ آنے کا اندیشہ ہو ، جیسا کہ اگر مال کسی تنگدست و خستہ حال کے پاس ہو اور اس کے نہ آنے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، لیکن اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جب اسے اپنے مال پر قبضہ ہو جائے تو ایک سال کی زکوٰۃ نکال لے ۔

باقی جو اموال لوگوں کے پا س بطور ٹھیکہ کے ہیں اگر وہ ایک سال تک ان کے ذمہ میں رہیں اور آپ کے لئے ثابت بھی ہو جائے اور آپ کو اس کے حاصل ہونے کی بھی قوی امید ہے تو اس حال میں اس کی زکوٰۃ ادا کرلیں، یا تو اپنے مال کے ساتھ یا پھر جب آپ کو قبضہ حاصل ہوجائے تو باقی ماندہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرلیں، آخری قسط اگر مثال کے طور پر تین سال کے ذمہ میں باقی رہے، اور آپ کو قبضہ حاصل ہوجائے تو تین سالوں کی زکوٰۃ ادا کرلیں ، باقی رہی پہلے قسط کی بات تو اس پہ شاید سال بھی نہ گزرے اور وہ آپ کے ہاتھ میں آجائے اس لئے اس حالت میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں