فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / عارضی طورپر ضرورت کے لئے دی گئی زمینوں میں زکوٰۃ کا حکم

عارضی طورپر ضرورت کے لئے دی گئی زمینوں میں زکوٰۃ کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-16 | مناظر : 1170
- Aa +

کیا عارضی طورپر ضرورت کے لئے دی گئی زمینوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟

هل في أراضي المنح زكاة؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

عارضی طور پر ضرورت کے لئے دی جانے والی زمینوں کے مالک ہوتے ہیں ، لیکن بعد میں ان کے احوال مختلف ہوتے ہیں ، اگر کوئی اس زمین کو اس کی حالت پر باقی رکھے یعنی نہ تو اس زمین کو تجارت کے لئے پیش کرے اور نہ ہی اس سے کوئی سرمایہ حاصل کرے تواس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لئے کہ یہ وہ مال ہے جس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لئے کہ زکوٰۃ میں اصل وہ چیز ہے جس کا تعلق زمینوں سے ہو اور جسے تجارت کے لئے پیش کیا گیا ہو اور جسے تجارت کے لئے پیش نہ کیا گیا ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔

اسی طرح یہ مسئلہ بھی ہے کہ جس کے پاس یہ زمین آئے اور اس زمین کو اسی حالت پر باقی رکھے اور اسے تجارت کے لئے پیش نہ کرے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، جیساکہ اگر کوئی اس زمین کو فروخت کرے اور اس کا مال بھی چاہے اور اسے استفادہ بھی کرے لیکن اس سے مقصود تجارت اور سرمایہ کاری نہ ہو بایں صورت کہ وہ زمین دور ہو، یا اسے اس زمین کی ضرورت نہ ہو، یا اسے اس زمین کے پیسوں کی ضرورت پڑے ، تو ان تمام صورتوں میں جو بات ظاہر ہورہی وہ یہ ہے کہ اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ۔

 لیکن بعض اہل علم اسے بھی تجارتی سامان میں سے شمار کرتے ہیں ، لیکن تجارتی سامان کے ساتھ یہاں ایک قاعدہ متعلق ہے ، وہ یہ کہ جب معاملہ کی نوعیت کچھ یوں ہوجائے کہ آیا تجارتی سامان ہونے کی وجہ سے اس مال میں زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں تو اصل اس میں عدمِ وجوبِ زکوٰۃ ہے ، خاص کر زکوٰۃ کی اصل کے اعتبار سے تجارتی سامان میں اہل علم کے درمیان بہت بڑا اختلاف واقع ہوا ہے۔

بہرکیف !  یہ زمینیں لوگوں کو عارضی طور پر ضرورت کے لئے دی جاتی ہیں اس لئے ان میں زکوٰۃ واجب نہیں آتی البتہ اگر ان سے سرمایہ حاصل کیا گیا یا یہ تجارت کے لئے پیش کی گئی (تو پھر ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی)۔ اور اگر ان کو زمینوں کے مال حاصل کرنے کے لئے فروخت کیا گیا یا کسی اور سبب کی وجہ سے فروخت کیا گیا بایں صورت کہ وہ دورہوں ، یا ان سے فائدہ نہ اٹھایا جاتا ہو، یا ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ان تمام احوال میں زکوٰۃ واجب نہیں آتی۔

الغرض:  تمام مسئلہ کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہے کہ اگر زمین کا مالک اس سے تجارت کا ارادہ کرے اور تجارت کے لئے اسے پیش کرے تواس صورت میں اس پر زکوٰۃ آئے گی اور اگر سوائے مالک ہونے یا اس کو مصیبت و حاجت کے وقت کے لئے ذخیرہ کرنے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں آئے گی

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں