×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / بغیر قبضہ کردہ مال میں زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-17 07:52 AM | مناظر:2236
- Aa +

کیا بغیر قبضہ کردہ مال میں زکوٰۃ واجب ہے؟

زكاة المال الذي لم يُقْبَض

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

بغیر قبضہ کردہ مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لئے کہ وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط ملکیت بھی ہے ، اس پر سب علماء کا اتفاق ہے ، اور ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے: ﴿ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لو تاکہ یہ زکوٰۃ ان کو پاک و صاف کردے﴾ {التوبۃ: ۱۰۳} جبکہ یہاں اس کے پاس سرے سے مال ہی نہیں ہے ، لیکن جیسا کہ آج کل ایک رواج چل پڑا ہے کہ اس مال کو بطورِ بدلہ کے دیا جاتا ہے یا ایک طرف سے بطورِ استحقاق کے ، لہٰذ ا جب تک قبضہ حاصل نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لئے سوال کرنے والی صاحبہ پر اس کے مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، لیکن جب قبضہ ہوجائے تو قبضہ کے وقت سے سال شمار کیا جائے گا جیسا کہ مثال کے طور پر اگر آپ کو ماہِ محرّم میں قبضہ حاصل ہوجائے تو آئندہ ماہِ محرّم میں اگر آپ کے پاس مال باقی رہا اور زکوٰۃ کے مقررہ نصاب کے مطابق اس میں کوئی کمی نہ ہو تو آپ اس کی زکوٰۃ ادا کریں


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں