فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / لیٹ تنخواہوں میں زکوٰۃ کا حکم

لیٹ تنخواہوں میں زکوٰۃ کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-17 | مناظر : 906
- Aa +

کیا لیٹ تنخواہوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟

هل في الرواتب المتأخرة زكاة؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

ان تنخواہوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لئے کہ یہ ان اموال میں سے ہے جو اس کے قبضہ میں نہیں ہے ، جبکہ اموال کے اندر وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط مکمل طور پر ملکیت بھی ہے ، اور اس کو اس مال پر قبضہ حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ مال سرکاری خزانہ یا اس ادارہ میں ہے جس میں اس نے کام کیا ہے ، لہٰذا اس میں اس کی ملکیت تام نہیں ہے ، اس لئے اس اعتبار سے اس پر کوئی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

اسی طرح لوگوں کے وہ تمام اموال جو بیت المال کے پاس ہوں یا وزارتِ مالیہ کے پاس یا ان حکومتی اداروں کے پاس ہوں جو کبھی کبھی کئی سالوں تک باقی رہتی ہیں یہاں تک کہ اس کا حاصل کرنا اور اس کا چھڑانا پورا ہوجاتا ہے لہٰذا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اور فقہائے کرام نے تو اس بات کی پوری طرح سے وضاحت کردی ہے کہ وہ مال جو بیت المال میں ہو تو وہ اس حکم کے قریب کے ہے کہ اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اور قرضوں کا معاملہ نہیں کیا جائے گا ، اس لئے کہ قرضوں کی انواع مختلف ہوتی ہیں ، اس لئے کہ قرضے کا مطالبہ کیا جاتاہے اس حال میں کہ وہ ایک پرسنل ادارے میں ہو، برخلاف اس کے اگر وہ بیت المال میں ہو یا کسی ایسی مصلحت کی بنیاد پر ہو عام مسلمانوں کی مال کی حفاظت کرتا ہو

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں