×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / لیٹ تنخواہوں میں زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-17 07:56 AM | مناظر:1904
- Aa +

کیا لیٹ تنخواہوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟

هل في الرواتب المتأخرة زكاة؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

ان تنخواہوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لئے کہ یہ ان اموال میں سے ہے جو اس کے قبضہ میں نہیں ہے ، جبکہ اموال کے اندر وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط میں سے ایک شرط مکمل طور پر ملکیت بھی ہے ، اور اس کو اس مال پر قبضہ حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ مال سرکاری خزانہ یا اس ادارہ میں ہے جس میں اس نے کام کیا ہے ، لہٰذا اس میں اس کی ملکیت تام نہیں ہے ، اس لئے اس اعتبار سے اس پر کوئی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

اسی طرح لوگوں کے وہ تمام اموال جو بیت المال کے پاس ہوں یا وزارتِ مالیہ کے پاس یا ان حکومتی اداروں کے پاس ہوں جو کبھی کبھی کئی سالوں تک باقی رہتی ہیں یہاں تک کہ اس کا حاصل کرنا اور اس کا چھڑانا پورا ہوجاتا ہے لہٰذا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اور فقہائے کرام نے تو اس بات کی پوری طرح سے وضاحت کردی ہے کہ وہ مال جو بیت المال میں ہو تو وہ اس حکم کے قریب کے ہے کہ اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اور قرضوں کا معاملہ نہیں کیا جائے گا ، اس لئے کہ قرضوں کی انواع مختلف ہوتی ہیں ، اس لئے کہ قرضے کا مطالبہ کیا جاتاہے اس حال میں کہ وہ ایک پرسنل ادارے میں ہو، برخلاف اس کے اگر وہ بیت المال میں ہو یا کسی ایسی مصلحت کی بنیاد پر ہو عام مسلمانوں کی مال کی حفاظت کرتا ہو


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں