فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / زکوٰۃ کو اس کے وقتِ وجوب سے مؤخر کرنا

زکوٰۃ کو اس کے وقتِ وجوب سے مؤخر کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-05-17 | مناظر : 1104
- Aa +

زکوٰۃ کو اس کے وقتِ وجوب سے مؤخر کرنے کا کیا حکم ہے؟

تأخير الزكاة عن وقتها

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

زکوٰۃ دینِ اسلام کے عظیم شعائر و ارکان میں سے ہے بایں طور کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے زکوٰۃ کو قرآن کریم میں بیشتر جگہوں میں نماز کے ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے ، اور زکوٰۃ کی منزلت و مرتبت ایک بندۂ مؤمن سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، کہ یہ دینِ اسلام کا ایک بہت بڑا فریضہ اوربہت بڑی مذہبی رسم وعلامت ہے ، اور زکوٰۃ انسانوں کا آپس میں امن و چاشنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے ، اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جا بجا نماز اور زکوٰۃ کو ایک ساتھ ذکر فرمایا، کہ نماز بندہ اور رب کے درمیان تعلق کا ذریعہ ہے اور زکوٰۃ بندوں کے آپس میں تعلق کا ذریعہ ہے ، اسی لئے دونوں کو ساتھ ساتھ ذکر کیا جاتا ہے اورعلمائے کرام کے نزدیک بھی کتاب اللہ میں دونوں کو ایک ساتھ ذکر کرنے کی یہی حکمت ہے ۔

باقی رہا زکوٰۃ کو وقتِ وجوب سے مؤخر کرنے کا مسئلہ تو اللہ تعالیٰ نے پھلوں میں زکوٰۃ کے وقت کو مقرر و متعین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿اورکٹائی کے دن ہی (غریب) کو اس کا حق دیا کرو﴾ {الانعام: ۱۴۰} لہٰذا کٹائی کے دن ہی کو زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے متعین فرمایا ، اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکوٰۃ اپنے مقررہ وقت پر ہی فرض ہے اس لئے کہ ایک ایمان والے کو چاہئے کہ وہ زکوٰۃ کے مقررہ وقت سے تاخیرنہ کرے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مقررہ وقت کون سا ہے؟

جواب: جہاں تک نقدی کا سوال ہے تو اس کا مقررہ وقت جمہورعلماء کے نزدیک سال کا گزرنا ہے ، کہ سونا چاندی اور نقدی اور جو چیز بھی ان کے قائم مقام ہو تو ان پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی ۔

اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ ایک ایمان والے کو چاہئے کہ وہ زکوٰۃ کو اس کے وقتِ وجوب میں ادا کرنے میں عجلت سے کام لے ، اور تاخیرِ جواز میں علماء کا اختلاف ہے ، جس میں جمہور کے نزدیک تاخیر کرنا جائز نہیں ہے ، اور صرف ایک دو دن یا تین دن تک تاخیر کی اجازت دی ہے ، یا اسی طرح اگر کسی ضرورت یا مصلحت کے پیشِ نظر مؤخر کی جائے تو جمہورکے نزدیک تین دن تک مؤخر کی جاسکتی ہے اس سے زیادہ نہیں ۔

اسی پر ایک فرعی مسئلہ ہے کہ اگر مثال کے طورپر کسی پر رجب کے مہینے میں زکوٰۃ واجب ہوجائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس کے لئے رمضان تک مؤخر کرنا جائز نہیں ہے ، وقت کی فضیلت کو پانے کی وجہ سے ، اس لئے کہ وقت کی فضیلت کو پانا ایک ایمان والے پر واجب کو فوت کردیتا ہے ، اور وہ زکوٰۃ کو اس کے واجب وقت میں ادا کرنے سے متعلق ہے ۔

اس لئے ایک ایمان والے کو چاہئے کہ وہ زکوٰۃ کو اس کے مقررہ وقتِ وجوب میں ادا کرے اور اس میں تاخیر نہ کرے ، اور تاخیر کے ذریعہ فضیلت کے اوقات کا انتظار نہ کرے ، اس لئے کہ اگر اس نے ادئیگی میں تاخیر کی تو جمہور علماء کے نزدیک وہ گناہگار ہوگا۔

زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر ایک صورت میں جائز ہے ، اوروہ یہ کہ وہ تاخیر کسی ضرورت یا مصلحت کے پیشِ نظر ہو ، اور اگر یہ تاخیر صرف وقت کی فضیلت کو پانے کے لئے ہو تو پھر اس میں افضل وقت وہ ہے جس میں زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے اور وہ اس کا وقتِ وجوب ہے ، لہٰذا اس میں تاخیر نہ کی جائے ۔

درحقیقت بعض لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ یہ ایک احسان ہے کہ ماہِ رمضان میں زکوٰۃ کے انبار لگا دیتے ہیں اور اس طرح باقی تمام سال فقراء ومساکین ان اموال کے لینے سے محروم ہوتے ہیں۔

لہٰذا افضل وہی ہے جو ایک فقیر آدمی کے لئے زیادہ نفع بخش ہو ، اور فقیر کا نفع وقت اور زمانہ پر مقدم ہوتا ہے ، اور فضیلت کا تعلق ضرورت کے پورا کرنے کے ساتھ ہے ، اور عبادات سے یہی مقصود ہے

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں