×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / وہ شئیرز جو ضائع ہو گئی ہو اس کی زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-18 12:22 PM | مناظر:1717
- Aa +

وہ شئیرز جو ضائع ہو گئی ہو اس کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

الزكاة في المساهمات المتعثِّرة

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے

اہل علم کے صحیح قول کے مطابق وہ شئیرز جو ضائع ہو گئی ہو اس میں نہ تو ایک بار زکوٰۃ واجب ہے اور نہ کئی بار، اس لئے کہ یہ نہ ملے ہوئے مالِ گم گشتہ کے حکم میں ہے، اور مالِ گم گشتہ اگر انسان کوبکہیں سے یکبارگی اور اچانک سے مل جائے تو یہ بطورِ حادثہ اس کو ملتا ہے لہٰذا اس مال میں اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔

اب سوال کرنے والا شاید یہ سوال کرلے کہ کیا جاگیری سرمایہ کاری کا قرضہ جو اس نے نو لاکھ مقرر کیا ہے اس مالِ زکوٰۃ پر اثر انداز ہو سکتا ہے جو اس کے قبضہ میں ہے ؟

جواب:  انسان پر جو قرضے ہوتے ہیں وہ تب مالِ زکوٰۃ پر اثر انداز ہوتے ہیں جب وہ مال نقدین (سونا چاندی) میں سے ہو ، لہٰذ امیرا گمان یہ ہے کہ اب آپ کے پاس نقدی بھی ہے اور آپ پر قرضہ بھی ہے ، لہٰذا اب آپ ایسا کریں کہ قرضہ کو حاضر مال میں سے کم کردو، پھراس سے جو باقی رہ جائے تو باقی ماندہ کی زکوٰۃ ادا کردو، اور اگر کچھ بھی باقی نہ بچے تو پھر اس حال میں آپ پر کوئی زکوٰۃ نہیں ۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں