فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / کیا سرمایہ کاری کے فنڈ پر زکاۃ ہے؟

کیا سرمایہ کاری کے فنڈ پر زکاۃ ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-05-18 | مناظر : 950
- Aa +

کیا سرمایہ کاری کے فنڈ پر زکاۃ ہے؟

زكاة على الصناديق الاستثمارية

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

سرمایہ کارانہ فنڈز: (انوسٹمنٹ فنڈز) جس کا انسان مالک ہوتا ہے وہ مختلف یونٹس (حصوں)پر مشتمل ہوتا ہے، لہٰذا اس پر ان یونٹس (حصوں)کی قیمت کی بقدر زکاۃ ہے اس بات سے قطع نظر کہ ان حصص کی قیمت زیادہ ہے یا کم، اس میں کوئی فرق نہیں،کیونکہ حقیقت میں یہ تجارتی سامان ہے جس کی بیع و شراء ہوتی ہے، اور قیمت کا اتار چڑھاؤ اس پرأثر انداز نہیں ہوگا، اور جب زکاۃ دینے کا وقت آجائے تو وہ اپنے حصص کی قیمت معلوم کرے چاہے تو یونٹس کی تعداد سے یا پھر کمپنی والوں سے اپنی حصص کی قیمت معلوم کرے، کہ میرا کتنا مال آپ لوگوں کے پاس جمع ہے لہٰذا اپنے مال کی بقدر اس کی زکاۃ نکالے۔

اب یہاں ایک مسئلہ درپیش ہے وہ یہ کہ: ان حصص کا اصل میں زمہ داری ہوتی ہو تو اگر اس میں خسارہ ہو جائے اس کا زمہ دار کون ہوگا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ مختلف بینک اس خسارے کی زمہ داری لیتے ہیں، کیونکہ سٹاک مارکیٹ میں دو قسم کے کوگ ہوتے ہیں:

۱۔ ایک وہ گروہ جو خود بازار میں خریداری کرتا ہے اور خود ہی اپنے معاملات کو سنبھالتے ہیں،تو یہ لوگ خود  اپنی زمہ داری پر نقصان اٹھاتے ہیں جیسا کہ نفع بھی انہی کا ہوتا ہے کیونکہ یہ براہ راست اپنے کام میں لگا ہوتا ہے۔

۲۔ دوسرا وہ گروہ جو سرمایہ کاری کرتے ہیں ، اور لوگوں کے درمیان یہ بات پھیل گئی ہے کہ یہ سرمایہ کاری اور حصص بطورِ امانت محفوظ ہے اور ان کو اطمئنان حاصل ہوتا ہے کہ اگر ان حصص کی قیمت گر جائے تو بقدر نقصان ان کو واپس مل جاتا ہے۔

اور حقیقت میں اس سرمایہ کاری کی کوئی زمہ داری نہیں رہی اور اب اس کا وہی حکم ہے جو ایک بندہ خود براہ راست بازار میں بیع و شراء کرتا ہے تو نقصان اور نفع کا زمہ دار وہ خود ہی ہوتا ہے، تو اس سرمایہ کاری میں ہر بیع سے نفع ہوتا ہے، کیونکہ یہ دونوں جانب سے کمیشن وصول کرتا ہے، پھر وہ لوگوں کے حقوق کی زمہ داری نہیں لیتا بلکہ صرف اس سرمایہ کاری کی زمہ داری ہوتی ہے۔

لہذا وزارتِ مالیات کو چاہئے کہ ان کمپنیوں پر یہ حکم لاگو کریں کہ ان سے اگر کمی زیادتی ہویا وہ اس امانت میں کوتاہی کریں تو لوگوں کو اس کا بدلہ دیں،کیونکہ یہ اموال کوئی مباح چیز نہیں نہ ہی یہ کوئی آسان کام ہے کہ بینک والے اس میں اپنی مرضی کرے، اور نہ سٹاک کمپنی اپنی مرضی سے اس میں تصرف کرے کہ لوگوں کے ساتھ جو معاہدہ اور بات طے پائی ہے (کہ ان کا مال اور نفع محفوظ ہے)۔

پس جب ریٹ گرتا ہے تو سٹاک کمپنی والے یہ کہتے ہیں: کہ ہم بھی عام لوگوں کے ساتھ اس میں برابر ہے۔ (یہ غلط ہے)۔ کیونکہ آپ نے خود ہی لوگوں کو دعوت دی کہ آجاؤ ! ہمارے ساتھ سرمایہ کاری کرو، ایک سال میں دوگنا نفع ملے گا اور آپ کا سرمایہ بالکل محفوظ رہے گا، ہمارے پاس اعلی قسم کے آفیسراور منیجر ہے جو مارکیٹ میں ہونے والے ہر نقصان کے خطرے سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں۔

ٹھیک ہے ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اچانک یہ خطرات سامنے آگئے، لیکن ان خطرات کے آنے سے پہلے اس کے أثرات جب نمایہ ہوئے تب آپ کے افسران کہاں تھیں؟؟ اور انہوں نے لوگوں کے حقوق کے لئے دوڑ دھوپ کیوں نہیں کی؟؟ کم از کم اتنا لوگوں کو بتا دیتے کہ نقصان ہونے والا ہے، لہذا جس شخص نے اپنا مال نکالنا ہوتو وہ نکال لے۔یہ نہیں کہ وہ اس مصیبت میں پھنس جائے پھر وہ اس سے نکل نہ سکے اور نہ وہ باقی رہ سکے، اور وہ اپنی آنکھوں سے اپنے حصص اور سرمایہ کاری کو ڈوبتا ہوئے دیکھ رہا ہو۔

اور یہ ایک مثال دی ہے جو بینک والے اس طرح کرتے ہیں، اس لئے ہر بینک والے کو چاہئے کہ ان معاملات میں اللہ سے ڈرے اور لوگوں کو جو دھوکہ دیا ہے اس کا عوض ان کو دے دیں۔

پھر سائل آکر کہتا ہے : میں نے نقصان اٹھایا ہے ، اس میں لوگوں کا کیا قصور ہے؟ کیونکہ بینک کو ہر حالت میں نفع یہ نفع ہوتا ہے۔ بینک کسی صورت میں نقصان نہیں اٹھاتا اور اپنا کمیشن پورا کا پورا اصول کرتا ہے ،اگرچہ حصص کی قیمتوں میں کمی آجائے۔ تو کیا ان لوگوں کے کوئی حقوق نہیں؟

لہذا تمام مالیاتی اداروں سے درخواست ہے کہ سٹاک اور شیئرز کمپنیوں پر جرمانہ عائد کرے، تاکہ لوگوں کی نقصان کی صورت میں ان کو بدلہ دینا پڑے۔

اور اس کے ساتھ لوگوں کو بھی چاہئے کہ ہوش کے ناخن لیں، اور ان بینکوں میں حصص لینے سے پہلے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔خاص طور پر آج کل ہر طرف خسارہ ہی خسارہ ہے۔

لیکن اب توپانی سر سے گزر گیا ہے،اور آئے دن یہ مسائل بڑھتے جارہے ہیں لہذا ہمیں اس بارے میں سوچ کر کوئی اطمئنان والا حل نکالنا چاہئے، اور کوئی ایسا زمہ دارانہ نظام قائم کریں جس میں لوگوں کو دھوکہ اور فریب سے بچائیں اور ان کی نقصان کی تلافی کی جائے۔

دوسری بات: جو لوگوں سے متعلق ہے وہ یہ کہ جب ان حصص میں خسارہ ہوتا ہے تو لوگ بینک سے متنفرہو کے اس سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں، پھر اگر کچھ عرصہ بعد کسی کمپنی کو نفع ہوتا ہے تو لوگ واپس اس کی طرف لوٹ آتے ہیں اور حقیقت میں یہ لوگوں کی بھول ہے۔

خلاصہِ کلام یہ ہے کہ لوگوں کو اس سے آگاہ کرنا اور خود بھی اس سے باخبر رہنا ضروری ہے تاکہ نقصان سے بچا جائے، اور تمام مالیاتی اداروں کو بھی عوام کی فکر کرنی چاہئے کہ ان کو دھوکے اور فریب سے نکال لیں۔

میں ایک بوڑھے آدمی کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک ملین ریال تھے اور اس نے ان کمپنیوں میں شیئر خریدے اب اس کی یہ حالت ہے کہ ایک ریال بھی نہیں بچا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس کو اس کا بہتر بدلہ عطاء فرمائے۔

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں