×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / زیورات میں زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-18 02:41 PM | مناظر:2055
- Aa +

ایک عورت کے پاس سونے کے بہت سارے کنگن اور ہار ہیں اور ان کی زکوٰۃ بہت زیادہ ہے ، اور عورت کو بذاتِ خود ان میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ، اور خاوند کے لئے ہمیشہ ان کی زکوٰۃ نکالنا آسان نہیں ہے ، اور وہ عورت ان زیورات اور گہنوں کو بہت کم پہنتی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ عورت ان زیورات کو تنگی کے وقت کے لئے کسی ضرورت کے تحت رکھے اور ان کی زکوٰۃ نہ نکالے تو کیا اس پر گناہ ہوگا؟ اور یہ بات ضرور پیشِ نظر رہے کہ اس عورت کا خاوند آج کل مالی بحران کا شکار ہے اور وہ کسی بھی دن ان کو فروخت کر سکتا ہے

زكاة الحلي

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

سوال سے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ ان گہنوں اور زیورات سے مقصود زیب و زینت نہیں ہے بلکہ ان کو وقتِ ضرورت کے لئے رکھا گیا ہے اور کتاب وسنت میں وارد شدہ نصوص کی عمومیت کا اعتبار کرتے ہوئے زیورات پر زکوٰۃ کے وجوب کی وجہ سے ان میں زکوٰۃ واجب ہے ، اگر اس کے پاس نقدی نہیں ہے تو جتنی زکوٰۃ اس پر واجب ہوئی ہے تو نفسِ سونا سے اس کی زکوٰۃ نکال لے ، یا پھر اس کی قیمت لگالے سو جو قیمت اس کی بن جائے تو اس کے بقدر اس کی زکوٰۃ نکال لے اور وہ زکوٰۃ کا مال مستحقینِ زکوٰۃ کو دے دیں ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

11/11/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں