×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / تاخیرکردہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-18 02:59 PM | مناظر:1828
- Aa +

مجھ پر پچھلے زکاتوں کا ایک انبار لگا ہوا ہے (یعنی میں نے پہلے کوئی زکوٰۃ ادا نہیں کی) لیکن اب میں نے اللہ کے بارگاہ میں توبہ کرلی ہے اور پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت کرلی ہے ، اب سوال یہ ہے کہ اس سال کے ساتھ پچھلے سالوں کی زکوٰۃ کا کچھ کچھ حصہ ادا کرنا جائز ہے؟

حكم تقسيم الزكاة المتأخرة

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

آپ کو چاہئے کہ جتنا جلد از جلد ممکن ہوسکے تو ان تمام پچھلے زکاتوں کو ادا کرلیں ، اور اگر آپ زکوٰۃ کی ادائیگی پر ابھی قادر ہیں تو آپ کے لئے مزید تاخیر کرنا جائز نہیں ہے ، اور میں آپ کو یہ ہمدردانہ نصیحت کرتا ہوں کہ ان کی ادائیگی سے پہلے ان کا وقت آنے کے اندیشہ سے آپ ان کو اپنے ذمہ میں باقی رکھیں۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

08/11/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں