×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / اپنے ذاتی استعمال کے لئے بنائے گئے سونے کے زیورات میں زکوٰۃ

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-18 03:19 PM | مناظر:1406
- Aa +

میں بچپن سے ہی پہننے کے شوق میں سونے کے گہنے جمع کرتی تھی اور ضرورت کے وقت ان کو بیچنا میرے حاشیۂ خیال پر نہیں گزرتا تھا، اسی طرح میں اسے جمع کرکے پہنتی رہی یہاں تک کہ سونا کافی مقدار میں میرے پاس جمع ہوگیا ، لیکن اب میں اپنے میاں کے ساتھ کہیں سفر پر چلی گئی ہوں اور اپنے گہنے اپنی ماں کے پاس رکھ لئے ہیں اور اب وہ ماں کے پاس پچھلے پانچ سالوں سے ہیں ، اور اس سفر میں اسے استعمال بھی نہیں کر سکتی ، لہٰذا کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے ؟ مصیبت تو یہ ہے کہ مجھے اس کی مقدار کا بھی علم نہیں ہے لیکن نہ وہ زیادہ ہیں اور نہ ہی تھوڑے ، اور مجھے یہ بھی بالکل نہیں معلوم کہ وہ کب سے میرے پاس ہیں لہٰذا میں ان کا حساب کرکے اندازہ نہیں لگا سکتی۔ اب اس گُتھی کو کیسے سلجھاؤں ؟ لہٰذا ازراہِ کرم پہلے آپ مجھے یہ بتائیں کہ سونے کی زکوٰۃ کی مقدار کیا ہے ؟ دوسرا یہ کہ میرے ان گہنوں پر پچھلے پانچ سالوں کی زکوٰۃ واجب ہے ؟ تیسرا یہ کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے جبکہ نہ تو میں خود سونے کا اندازہ لگا سکتی ہوں اور عمر رسیدگی کی وجہ سے والدہ بھی نہیں بتا سکتی؟ لہٰذا میں کوئی بھی مقدار زکوٰۃ کی نیت سے ادا کرسکتی ہوں؟ اور وہ مقدار کتنی ہونی چاہئے ؟

زكاة الذهب المعد للاستعمال الشخصي

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

پہلا جواب : سونے میں واجب مقدار عشر میں چوتھائی حصہ ہے ، اور یہ سو فیصد میں ڈھائی فیصد بنتے ہیں ۔

دوسراجواب : زیادہ احتیاط تو اسی میں ہے کہ آپ پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرلیں ، بشرطیکہ وہ سونا زیب و زینت کے لئے ہو، البتہ اگر وہ سونا ذخیرہ اندوزی کے لئے ہو تو پھر بالاتفاق سب کے ہاں اس پر زکوٰۃ واجب ہے ۔ واللہ أعلم

تیسرا جواب : زکوٰۃ نکالنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ زکوٰۃ کے وقت تمام سالوں کے سونے کے گرام کی قیمت لکھیں ، پھر جب آپ واپس لوٹیں تو اس وقت آپ دیکھیں کہ سونے کی مقدار کی کیا شرح ہے اور اس طرح پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرلیں ، اور آپ کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اپنی والدہ سے یہ طلب کریں کہ وہ اس کا وزن کرے اور سونے کی عالمی قیمت کے اعتبار سے اس کی زکوٰۃ ادا کرلے ۔

اللہ آپ کو توفیق دے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں