فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​زکوٰۃ / قرضدار پرتجارتی مال میں زکوٰۃ کا حکم

قرضدار پرتجارتی مال میں زکوٰۃ کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-19 | مناظر : 1232
- Aa +

میرا سوال یہ ہے کہ میں چند تجارتی جگہوں کا مالک ہوں تو میرے لئے ان تجارتی جگہوں کی زکوٰۃ نکالنا کیسے ممکن ہے ؟ لیکن یہ بات ضرور مدِنظر رہے کہ میرے ان اموال پر ابھی تک پورا سال نہیں گزرا، اور یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ اس جگہ جو سامان ہے اس کی قیمت تقریبا پانچ ہزار دینار بنتے ہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر مجھ پر قرضہ ہو تو کیا مجھ پر اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہے ؟

أنا مديون فهل تجارتي عليها زكاة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

زکوٰۃ کے نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ سال میں مثال کے طور پر محرم یا رمضان کا ایک دن مقرر کرلیں، پھر اس جگہ آپ کے پاس جو تجارتی مال ہے اس کا اندازہ لگالیں اور اس کی قیمت کی زکوٰۃ نکال لیں ، اگر اس جگہ آپ کے پاس اس کی قیمت چار ہزار دینار ہوں تو آپ پر سو دینار زکوٰۃ آئے گی ، اور یہ لازم نہیں ہے کہ آپ کے پاس اس جگہ سامان ہو اور اس پر سال گزر جائے اس لئے کہ سامان میں اعتبار اس کی قیمت کا کیا جاتا ہے نہ اس کی ذات کا ، جبکہ اس صورت میں اس کی قیمت آپ کے پاس موجود ہے ، اگر آپ کے پاس نصاب موجود ہے تو آپ پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے ، اور اگر آپ پر قرضہ بھی ہو تو قرضہ بھی وجوبِ زکوٰۃ کے لئے مانع نہیں ہے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں