×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / قرضدار پرتجارتی مال میں زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-19 12:37 PM | مناظر:2664
- Aa +

میرا سوال یہ ہے کہ میں چند تجارتی جگہوں کا مالک ہوں تو میرے لئے ان تجارتی جگہوں کی زکوٰۃ نکالنا کیسے ممکن ہے ؟ لیکن یہ بات ضرور مدِنظر رہے کہ میرے ان اموال پر ابھی تک پورا سال نہیں گزرا، اور یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ اس جگہ جو سامان ہے اس کی قیمت تقریبا پانچ ہزار دینار بنتے ہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر مجھ پر قرضہ ہو تو کیا مجھ پر اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہے ؟

أنا مديون فهل تجارتي عليها زكاة

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

زکوٰۃ کے نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ سال میں مثال کے طور پر محرم یا رمضان کا ایک دن مقرر کرلیں، پھر اس جگہ آپ کے پاس جو تجارتی مال ہے اس کا اندازہ لگالیں اور اس کی قیمت کی زکوٰۃ نکال لیں ، اگر اس جگہ آپ کے پاس اس کی قیمت چار ہزار دینار ہوں تو آپ پر سو دینار زکوٰۃ آئے گی ، اور یہ لازم نہیں ہے کہ آپ کے پاس اس جگہ سامان ہو اور اس پر سال گزر جائے اس لئے کہ سامان میں اعتبار اس کی قیمت کا کیا جاتا ہے نہ اس کی ذات کا ، جبکہ اس صورت میں اس کی قیمت آپ کے پاس موجود ہے ، اگر آپ کے پاس نصاب موجود ہے تو آپ پر اس کی زکوٰۃ واجب ہے ، اور اگر آپ پر قرضہ بھی ہو تو قرضہ بھی وجوبِ زکوٰۃ کے لئے مانع نہیں ہے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں