فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

شریعت اور سیاست / قتلِ خطأ کا کفارہ

قتلِ خطأ کا کفارہ

تاریخ شائع کریں : 2017-05-20 | مناظر : 1469
- Aa +

میرے ایک رشتہ دار نے ایک نوجوان کو ایکسڈنٹ کے ذریعہ کار سے مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا، ایک انشورنس کمپنی نے دیت میں پوری گاڑی مانگ لی، یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ انشورنس ایک تجارتی کمپنی ہے جو کہ اجباری ہے، اب انہوں نے میرے رشتہ دار سے دیت میں یہ مانگا جبکہ وہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن اتنا کر سکتا ہے کہ وہ یہ رقم اپنے گھر والوں سے حاصل کرسکتا ہے یا کم ازکم کسی سے ادھار لے سکتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس نے جو کیا ہے کیا یہ کسی بھی صورت میں جائز ہے؟ اور کفارہ کے اعتبارسے کیا وہ ابھی سے دوماہ لگاتا رروزے رکھے گا یا وہ اسے مؤخر کرے گا اس لئے کہ ابھی رمضان آرہا ہے اور اس کے بعد عید الفطر ہے اور کیا یہ ان روزوں میں شمار ہوں گے ، اور روزوں کے بارے میں آپ اسے کیا نصیحت کرنا چاہیں گے؟

كفارة القتل الخطأ

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

انشورنس ان عقود میں سے ہے جس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، اس کے بارے میں اکثر اہل علم کا مذہب حرمت کا ہے ، اور بعض اہل علم اس کی اباحت کا کہتے ہیں ، اب اگر آپ اس کی تحریم سے لاعلمی کی وجہ سے اس عقد میں داخل ہوگئے ہیں تو آپ پر کوئی گناہ نہیں ، اور آپ نے جو مال انشورنس کمپنیوں کو دیا ہے تو آپ کو اس کے لینے اور میت کے گھر والوں کو دینے کا حق ہے ، اورمیرے نزدیک یہ حکم تب ہے جب آپ کو انشورنس پر مجبور کیا گیا ہو۔

باقی اگر ایکسڈنٹ ڈرائیور سے غلطی کی وجہ سے یا چلانے میں تجاوز کرنے کی وجہ سے ہوا ہو تو اس پر کفارہ واجب ہے اور کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا ہے ، اگر یہ نہیں کر سکتا تو پھر دو ماہ لگاتار روزے رکھ لے ، اور یہ جب بھی چاہے کرسکتا ہے ، یعنی اس کو یہاں تک اختیار ہے کہ وہ ان روزوں کو چھوٹے دنوں اورٹھنڈے موسم میں رکھ لے ، لیکن صحیح قول یہ ہے کہ قتلِ خطأ کا کفارہ فوراََ واجب نہیں ہوتا یہی احناف، حنابلہ اور شوافع کا مذہب ہے ۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

06/09/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں