فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

شریعت اور سیاست / اسے اپنا آپ زناکار لگتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

اسے اپنا آپ زناکار لگتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-05-20 | مناظر : 1141
- Aa +

میرے ایک بھائی نے مجھے بتایا کہ اسے جب کوئی عورت اچھی لگتی ہے تو پھر وہ خیالوں میں اس سے جماع کرتا ہے ، اور کہتا ہے کہ ایسا میں نے نہ توحقیقت میں کیا اور نہ ہی زبان سے میں نے اس کا اظہار کیا ہے ، اور حدیث تو اس کے بارے میں مشہور ہے ، بعض علماء اس فعل کو حرام قرار دیتے ہیں ، اور مجھے ان کی دلیل اب یاد نہیں ہے، اب اس بھائی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے

يتخيل نفسه يزني، فما حكمه؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

آپ کا بھائی جس حدیث کی طرف اشارہ کررہا ہے اس کو امام بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ آپنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں آنے والے خیالات کو معاف کر دیا ہے بشرطیکہ جب تک اس فعل کا ارتکاب نہ کرلے یا زبان سے اس کا اظہار نہ کرلے‘‘۔ اور دل میں جو بات بار بار آتی رہے کہ کروں یا نہ کروں تو اس پر کوئی گناہ نہیں البتہ جس پر پختہ عزم کرلے اور اس کی طرف اس کا دل مکمل مائل ہو جائے تو اس پر اس کی پرسش اور باز پرس ہوگی ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اللہ تمہاری لغو قسموں میں تمہاری بازپرس نہیں کرتا لیکن جس پر تمہارے دل پختہ ارادہ کرلے تو اس پر تمہاری باز پرس کرتا ہے﴾ (البقرۃ:۲۲۵) اورابن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان ثوری سے پوچھا: کہ دلی خیال پر بندہ کا محاسبہ ہوگا؟فرمایا: اگر پختہ ارادہ کے ساتھ ہو تو پھرضرور اس کا محاسبہ ہوگا۔ اسی کو اکثر فقہائے کرام اور محدثین کرام نے کہا ہے ، اور ارشاد باری تعالیٰ بھی اس کی تائید کرتی ہے: ﴿خوب جان لو تمہارے دلوں میں جو کچھ بھی ہے اللہ اسے خوب جانتا ہے لہٰذا اس سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا بہت بردبار ہے﴾ (البقرۃ: ۲۳۵) یہ سب ان اعمال کے بارے میں ہے جو جوارح سے سرزد ہوں جیسے زناکاری ، چوری چکاری ، مئے خواری ، خونریزی اور بہتان وغیرہ وغیرہ۔ باقی جن اعمال کا تعلق دل سے ہے جیسے تکبر، خودرائی، ریاکاری، حسد، بلاوجہ کسی مسلمان کے ساتھ بدگمانی تو ان سب پر اس سے پوچھ گچھ اور بازپرس کی جائے گی ، اور دلی اعمال پرمؤاخذہ کا علماء کا اجماع منقول ہے جسے کئی اہل علم نے نقل کیا ہے ۔

باقی آپ نے اپنے بھائی کے بارے میں جو بات کہی کہ اس کو اجنبی عورت کے خیالات آتے ہیں جب اسے اچھی لگتی ہے تو اگر یہ خیال اس پر اکثر غالب ہو تو پھر اس پر کچھ بھی نہیں ہے ، اور اگر وہ خود سے اس خیال میں لگتا ہو اور اسکو طلب کرتا ہو تو پھر اس پر اس کا مؤاخذہ ہوگا، اور اس کی تائید صحیحین میں واردشدہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث بھی کرتی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ہر آدم کی اولاد پر زنا کا ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے جس کو وہ کرکے رہے گا ، پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، اور نفس تمنا کرتا ہے اور چاہتا ہے، اور شرمگاہ آگے اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے‘‘۔ اور مسلم کی روایت میں ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث وارد ہوئی ہے: ’’اور دل چاہتا ہے اور تمنی کرتا ہے‘‘۔ اس حدیث میں اللہ کے رسولنے دل کے چاہنے اور تمنی کرنے کو زنا کے اسباب اور وسائل میں سے شمار کیا ہے ، اب اگر بندے کا اس پر مؤاخذہ نہ ہوتا تو اللہ کے رسول اس کو زنا میں سے شمار نہ کرتے ، جیسا کہ اہل علم کے نزدیک یہ قاعدہ ہے کہ جب حرام سے اجتناب حرام سے ہی ہوتا ہو تو پھر اس سے اجتناب واجب ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو اس لئے کہ وہ بہت گندا اور برا راستہ ہے ﴾ (الاسراء: ۳۲

اللہ تعالیٰ ہم سب کی شیطان کے وساوس سے حفاظت فرمائے۔

باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

06/09/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں