فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

شریعت اور سیاست / غلطی سے بلی قتل کرنے کا حکم

غلطی سے بلی قتل کرنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-20 | مناظر : 1299
- Aa +

میں ایک چھ منزلہ اوپر ایک فلیٹ میں رہتا ہوں ، میں ایک مرتبہ گھر میں بلی لے کر آیا جسے میری بیٹی روزانہ گھر میں داخل کرتی تھی اور اسے کھلاتی تھی ، اور ہم کبھی کبھی اس بلی کو راستے کی جانب ایک گیلری پر بٹھاتے تھے اور اسی طرح وہ اسی پر بیٹھی رہتی ، ایک دن ہم نے اس بلی کو اسی طر ح گیلری میں بٹھایا اور ہم خود گھر سے باہر نکل گئے اور پھر جب دیر سے گھر سے لوٹے تو ہم نے دیکھا کہ بلی اوپر گیلری سے گر کر مر چکی ہے ، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح مجھ پر اس کا گناہ ہوگا ؟ اور اگر یہ گناہ ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟

ما حكم قتل القطط بالخطأ؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آ پ کے سوال کاجواب پیشِ خدمت ہے:

اگر آپ نے بغیر قصد وارادہ کے اس کو اس جگہ نہیں بٹھایا اور اس سے کھانا پینا نہیں روکا تو پھر آپ پر اس کا کوئی گناہ نہیں ، لیکن دوبارہ اس طرح کرنے سے خبردارر ہیں اس لئے کہ اللہ کے رسولنے ارشاد فرمایا: "ایک عورت صرف بلی کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی اس لئے کہ اس نے نہ تو خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے آزاد چھوڑا تا کہ وہ زمین میں سے چوہے وغیرہ کھائے اسلئے وہ مرگئی" {رواہ مسلم}۔

باقی اللہ بہتر جانتا ہے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں