فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

شریعت اور سیاست / کسی حادثہ میں قتلِ خطأ کے کفارے کا حکم

کسی حادثہ میں قتلِ خطأ کے کفارے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-20 | مناظر : 1440
- Aa +

میرے ساتھ ایک کار ایکسڈنٹ واقعہ پیش آیا جس میں ایک ڈرائیور ، ایک عورت اور ایک بچہ مرگئے ، اس حادثہ میں تین گاڑیاں مشترک تھیں ، اور جو آدمی اس حادثہ میں مرا تھا میرے گمان کے مطابق اس حادثہ کا وہ خود سبب بنا تھا ، لیکن حادثہ کی جگہ گواہوں کے نہ ہونے اور تیسری گاڑی کے ڈرائیور کے یاد نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک والے نے مجھ پر چالیس فیصد چالان کیا اور باقی دونوں پر تیس تیس فیصد ، اور مجھے اس لئے زیادہ چالان کیا کہ میری سپیڈ مقررہ سپیڈ سے زیادہ تھی ، لیکن یہ بات مدّ نظر رہے کہ میں نے محدودہ سپیڈ سے تجاوز نہیں کیا تھا ، اور قاضی نے سب پر نسبت کے اعتبار سے دیت کا حکم لگایا، اور مقررہ دیت کو حوالہ کرنا تام ہوگیا ، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہاں مجھ پر کفارہ لازم آتا ہے جبکہ قاضی نے اس موضوع کے متعلق کچھ بھی ذکر نہیں کیا؟

كفارة القتل الخطأ في حادث

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

اگر واقعی آپ کی طرف سے کوئی زیادتی یا حد سے تجاوز نہیں ہے تو پھر آپ پر کچھ بھی لازم نہیں آتا لیکن اگر آپ کی طرف سے ذرا بھی زیادتی یا تجاوز پایا گیا ہے تو پھر آپ پر کفارہ واجب ہے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں