فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​​قربانی کے مسائل / دوسرے ملک میں قربانی کے جانور کی قیمت بھیجنا

دوسرے ملک میں قربانی کے جانور کی قیمت بھیجنا

تاریخ شائع کریں : 2017-05-21 | مناظر : 1804
- Aa +

ہم یہاں امریکا میں رہائش پذیر ہیں کیا ہمارے لئے یہاں سے پاکستان یا عراق وغیرہ اسلامی ممالک میں قربانی کے جانور کی قیمت بھیجنا جائز ہے جبکہ وقت کے اعتبار سے ہمارے اور ان کے درمیان چھ گھنٹے کا فرق ہے ؟ اور ہم نے یہ سنا ہے کہ جو قربانی کرنا چاہے تو وہ شیو کرنے اور بالوں وغیرہ کے کاٹنے سے رکے گا جبکہ وقت کے اعتبار سے ان کی صبح ہم سے پہلے ہوتی ہے اب ایسا کرنا صحیح ہے جبکہ یہاں بھی ایک غریب مسلمان طبقہ پایا جاتا ہے اور قربانی کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں؟

إرسال ثمن الأضحية إلى بلد آخر

حمد و ثناء کے بعد۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

سنت تو یہ ہے کہ آپ اپنے وطن میں اپنے گھروالوں کے پاس قربانی کریں ، اس لئے کہ قربانی اللہ تعالیٰ کے ان عظیم شعائر میں سے ہے جس کو کرتے وقت وہاں حاضر ہونا اس کو خود کھانا اور دوسروں کو کھلانا ایک سنت ہے ، باقی رہی بات غریب ممالک کی تو وہاں پیسے بھیجے جاتے ہیں نہ کہ گوشت اس لئے کہ ان کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بھی اس عظیم عمل میں شامل ہوسکیں ، اور اگر ایسا ہو بھی جائے اور انسان کسی دوسرے ملک میں ہو تو اصل اعتبار قربانی کا ہوتا ہے چاہے ان کی عید پہلے ہو یا بعد میں ، جیسا کہ اللہ کے رسولنے ارشاد فرمایا: ’’کہ جو قربانی کا اراداہ کرے تو جب تک وہ قربانی نہ کرے تب تک وہ اپنے بالوں وغیرہ میں سے کچھ بھی نہ کاٹے‘‘۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں