فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​فتاوی امریکہ / ہوٹلوں میں شراب پیش کرنا

ہوٹلوں میں شراب پیش کرنا

تاریخ شائع کریں : 2017-05-22 | مناظر : 1300
- Aa +

جناب مآب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میں ایک نوجوان ہوں اور فرانس کے ایک ہوٹل میں ویٹری [خادمی] کرتا ہوں، بسا اوقات ہم آنے والوں کے سامنے شراب کے ٹرے لے کر حاضر کرتے ہیں، لہٰذا اس طرح میرا رزق حرام ہے؟ ازراہِ کرم میری راہنمائی فرمائیں

تقديم الخمر في المطاعم

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله و بركاته۔

اگر آپ کا کام شراب پیش کرنا یا اس کو تیار کرنا ہو تو یہ سراسر حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ، اس لئے کہ امام ترمذی [۱۲۹۵] اور امام ابن ماجہ [۳۳۸۱] نے ضحاک اور شبیب بن بشر کے طریق سے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ: "اللہ کے رسول نے شراب میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے ، شراب کے نچوڑنے والے پر ، اس کے نُچڑوانے والے پر ، اس کے پینے والے پر ، اس کے اٹھاکر لے جانے والے پر ، جس کی طرف لے کرجائی جارہی ہو اس پر ، اس کے پلانے والے پر ، اس کے بیچنے والے پر ، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کے خریدنے والے پر ، اور جس کے لئے خریدی جارہی ہو اس پر"۔

اور اسی طرح ابن عمر ، ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے بھی مروی ہے ۔

اس حدیث میں مذکورہ نو افراد پر لعنت و پھٹکار برسائی گئی ہے اس لئے کہ وہ شراب پینے والے کی ایک گونا مدد و معاونت کررہے ہیں اورارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اور گناہوں کے کاموں میں ایک دوسرے کی باہم مدد و معاونت نہ کیا کرو﴾ [المائدۃ: ۲] اس لئے آپ کو دوسروں کے سامنے حرام کردہ چیزیں پیش کرنے سے منع ہونا چاہئے ، اگر یہ آپ کے بس میں نہیں ہے تو پھر یہ کام چھوڑ دیں اس لئے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے لئے ضرور راستہ نکال دیتے ہیں اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتے ہیں جہاں سے اس کو وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتا﴾ [الطلاق: ۲،۳

آپ کا بھائی/

أ. د.خالد المصلح

16 /9/ 1427هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں