فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

​فتاوی امریکہ / استاد کا طلباء کی طرف سے ہدیہ کردہ کھانا کھانے کا حکم

استاد کا طلباء کی طرف سے ہدیہ کردہ کھانا کھانے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-22 | مناظر : 1475
- Aa +

جنابِ مآب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں ایک استانی ہوں ، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ طالبات اٹھ کر کلاس میں شیرینی بانٹتی ہیں اور مجھے بھی اس میں سے دے دیتی ہیں ، اسی طرح کبھی کبھی اجتماعی افطاری کا پروگرام بنا کر مجھے بھی اس میں مدعو کرتی ہیں ، اسی طرح بعض اوقات کچھ چھوٹے چھوٹے کارڈ بانٹتی ہیں جن پر کچھ عبارات اور فوائد لکھے ہوتے ہیں ان میں سے مجھے بھی دے دیتی ہیں ، یہ بات ضرور مدّ نظر رہے کہ میں وہ شیرینی اور کارڈ انہیں پر تقسیم کرتی ہوں ، اور بسا اوقات میں ان کے لئے کچھ کھانے کی چیزیں بھی لاتی ہوں ، وہ الحمد للہ ابھی درجۂ متوسطہ {مڈل} کی طالبات ہیں ، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح ان سے میرے قبول کرنے میں کوئی حرج یا گناہ تو نہیں؟ اور کیا یہ خیانت تو شمار نہیں کی جائے گی؟ اللہ آپ کو بے حد جزائے خیر عطا فرمائے

أكل المعلم من الطعام الذي يهدى له من الطلاب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے

بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، اس لئے کہ اس طرح کے امور عام طور پر ہوتے رہتے ہیں اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں ، اور اللہ کے رسولنے رشوت اور کارندوں کے حرام ہدایا کی جو وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں یہ ان میں داخل نہیں ہے ، لیکن اگر استاد اس جیسا کوئی ہدیہ ان کو دے دیں تو یہ زیادہ أولیٰ و أفضل اور شبہ سے أبعد ہو گا۔

آپ کا بھائی/

أ.د.خالد المصلح

4/ 1 /1429 هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں