فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

قسم اور نذر / اللہ کی مشیئت و اردہ کے ساتھ معلق منّت کا حکم

اللہ کی مشیئت و اردہ کے ساتھ معلق منّت کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-23 | مناظر : 1149
- Aa +

فلسطین کی ایک طلاق یافتہ عورت اثنائے گفتگو کہنے لگی کہ انشاء اللہ اگر میں اپنے خاوند کے پاس چلی گئی اور میں نے بچہ جن لیا تو میں اللہ کے نام پر ایک بکرا بھیڑ ذبح کروں گی اور اس کو ہم سب فیملی والے یہاں فلسطین میں کھائیں گے ، کیا یہ منّت ہے؟ اور اگر یہ منّت ہے تو کیا حج کے لئے جانے سے پہلے اس کا پورا کرنا واجب ہے؟ اور کیا اس منّت کو اسی جگہ پورا کرنا ضروری ہے جہاں اس نے یہ منّت مانی تھی؟ اور اس ذبیحہ کے لئے جو صفات ذکر کی تھی کیا انہی صفات پر ذبیحہ ضروری ہے؟ اور کیا اس کے لئے اس ذبیحہ میں سے اپنی فیملی کے ساتھ کھانا جائزطہے؟ اور اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس پر کفارہ آئے گا؟ اللہ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے

النذر المعلق بالمشيئة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اس صیغہ سے مجھے یہی ظاہر لگ رہا ہے کہ یہ منّت ہے ، لیکن یہ مشیئت کے ساتھ معلّق ہے ، اگر چاہو تو اس کو پورا کرلو اگر نہ بھی کرو تو آپ پر کوئی کفارہ نہیں آئے گا۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

11/11/1424هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں