فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

القضاء والشهادات / رشوت طلب کرنے پر رشوت دینے کا حکم

رشوت طلب کرنے پر رشوت دینے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-05-23 | مناظر : 808
- Aa +

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کسی ادارہ یا شخص کے پاس کام {جاب} کی تکمیل کے لئے مال ادا کرنا رشوت ہے؟ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ جاب میرا اپنا حق ہے ، اور اگر میں یہ مال ادا نہ کروں تو اپنا حق حاصل نہیں کرسکتا ، مثال کے طور پر میں نے یہاں حکومت کے کسی ادارہ میں کام پورا کیا اور جب میں نے اپنا وہ کام پورا کیا جس پر اتفاق ہوا تھا تو انہوں نے مجھ سے کچھ رقم مانگی کہ رقم دوگے تو آپ کو اپنا حق ملے گا وگرنہ نہیں ، اب اس حال میں کیا کروں؟ اگر مال ادا نہیں کرتا تو میرا مال ضائع ہوجاتا ہے اور اگر مال ادا کرتا ہوں تو پھر حرام میں پڑ جاؤں گا ، ازراہ ِ کرم اس مسئلہ میں پوری وضاحت کے ساتھ میری رہنمائی فرمائیں

طلبوا مني الرشوة فهل أدفعها؟

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

اہل علم نے جس رشوت کی حرمت پر اجماع کیا ہے کہ حرام اور باطل مال کا کھانا ہے تو یہ وہ مال ہے جو حق کو باطل کرنے کے لئے یا باطل کو حق ثابت کرنے کے لئے دیا جاتا ہے ۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنے آپ سے ظلم دفع کرنے کے لئے اپنے مطلوبہ حق تک پہنچنے کے لئے کوئی مال دیتا ہے تو یہ مال خرچ کرنے والے کے لئے حرام نہیں ہے ، اگرچہ اس کا لینا اس شخص پر حرام ہوا ہے جس پر حق ادا کرنا یا ظلم کو روکنا واجب ہوا ہے اور وہ اس سے رک کر بالمقابل چیز کو لے لے۔

 اور اللہ کے رسولایسا کیا کرتے تھے جب بھی ان سے کوئی شخص کچھ مانگتا اور وہ اس کا مستحق نہ ہوتا تو وہ اس شخص کو دے دیتے تھے جبکہ وہ اپنے بغلوں میں آگ لے کر جا رہا ہوتا تھا، اگر آپ اپنا حق اسی طرح ہی حاصل کرسکتے ہیں تو پھر یہ مال آپ کے لئے حلال ہے اور جو شخص یہ مال لے گا اس کے لئے حرام ہے ، اس لئے کہ یہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانا ہے ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

09/11/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں