فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / قرض لینے میں دھوکہ کرنے کا حکم اور اس پر جو آثار مترتب ہوتے ہیں انکا بیان

قرض لینے میں دھوکہ کرنے کا حکم اور اس پر جو آثار مترتب ہوتے ہیں انکا بیان

تاریخ شائع کریں : 2017-05-24 | مناظر : 975
- Aa +

محترم جناب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، ایک ملازم ہے جس کو قرض کی ضرورت ہے، اور وہ بنک سے وہ قرض نہیں لے سکتا جو ریٹائرڈ حضرات کو ملتا ہے، اور چونکہ انکا ایک تایا ریٹائرڈ ہے تو انہوں نے اپنے تایا کا نام استعمال کیا تاکہ وہ یہ قرضہ حاصل کرسکے ، اور اسکے بعد انکا وہی تایا انتقال کرگیا۔ کیا یہ کام اس نے ٹھیک کیا؟ یہ بات ذہن میں رہے کہ عام طور پر قرضخواہ کے فوت ہونے کے بعد بنک بقایا قرضہ جو ابھی تک ادا نہیں ہوا معاف کردیتا ہے ۔ اب یہ شخص کیا کرے؟ کیا بقایا قرضہ ادا کرے

حكم التحايل في أخذ قرض وما يترتب على ذلك

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام اصل میں تو ناجائز ہے ۔ کیونکہ اس شخص نے ایسا قرض حاصل کیا جسکے شروط اس میں موجود نہیں تھے ۔

ہاں ضرور کوئی یہ بھی کہے گا : اس میں کیا مسئلہ ہے ! میں تو پیسے واپس کرونگا ۔

تو اسکا جواب یہ ہے کہ : اگر آپ خود کچھ شروط طے کرتے اور کہتے کہ میں صرف اس شخص ہی کوقرضہ دونگا جس میں یہ شروط پایے جاتے ہو ، اور ایک شخص آیا اور دھوکہ کے ساتھ اس قرض کو حاصل کیا ، تو کیا آپ راضی ہوجاتے ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ اور اگر آپ راضی نہیں اس بات پر تو پھر حضور کا فرمان ہے کہ : (تم میں سے کوئی شخص تب تک ایمان (کامل) نہیں لاتا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے) رواہ البخاری عن انس ؓ [۱۳

اور انسان کا محتاج ہونا اس عمل کی ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ اور یہ ایک قسم کا جھوٹ ہے ، کیونکہ اس کے تایا  کوقرض والے بنک جانا پڑے گا اور جھوٹ بولنے پر مجبور ہوگا اور کہے گا کہ میں محتاج ہوں جبکہ وہ حقیقتاََ محتاج نہیں ہے،میں گھر کی ترمیم کرنا چاہتا ہوں ، میں گھر بنانا چاہتا ہوں ، میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ جبکہ ان ساری باتوں کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے ۔

تو مسئلہ کی بنیاد ہی غلط ہے اور ابتداء اسکا تصرف ہی غلط ہے ۔ تو اگر قرض خواہ فوت ہوجائے تو اس مسئلہ پر صاحب معاملہ مقررہ مراعات کا مستحق نہیں ہوگا ،اور اس پر لازم ہے کہ وہ سیونگ فنڈ کا سارا  لیا گیا رقم واپس کرے ، اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر صاحب معاملہ ایسا کرے تو اسکے اس جھوٹ بولنے کے گناہ سے بری ہوجائے گا ۔

ہم اللہ سے دعاء کرتے ہیں ہم سب کو معاف فرمائے ۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حلال کی تحقیق کرے ۔ کچھ لوگوں کا مزاج ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو انکے ہاتھ میں آجائے وہ حلال ہوتی ہے، چاہے جس راستہ سے بھی آئی ہو،اور یہ غلط بات ہے اور قرآن اور سنت کے تعلیمات کے مخالف ہے ، کہ اموال میں تحقیق واجب ہے ۔ اور جو مال آپکے پاس کسی مشتبہ راستہ سے آئے تو آپکے دین دنیا اور دل کیلئے بہتر یہی ہے کہ اس سے بچا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ کتنے سارے لوگوں نے اسی طرح کا راستہ اختیار کیا لیکن اسکو اسکا مراد نہیں ملا ، اور کبھی تو اسکے مراد کے برعکس  معاملہ ہوا ، تو اسکے قرضے بڑھگئے اور سارے کام بگڑ گئے۔ اور گناہ کا بوجھ الگ پڑگیا اگر توبہ نہ کیا ۔

یہ میری نصیحت ہے اپنے لیے بھی اور سب بھائیوں کے لیے کہ اس سے بچے۔ کیونکہ یہ سنت کی اتباع کی نشانی ہے۔ اسی لیے فضیل بن عیاض ؒ نے فرمایا : اہل سنت والجماعت وہ حضرات ہیں جو اپنے کھانے میں حرام سے بچے۔

اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحیح مسلک اور حق کا راستہ صرف نظریاتی باتوں کے ساتھ متعلق نہیں بلکہ عملی چیزوں کے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے ۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے منہج کا تعلق صرف  عقیدہ توحید اور اللہ تعالی کی الوہیت اور اسما ء و صفات کے ساتھ ہے ۔ یا ان جیسے اور جو خالص نظریاتی مسئلے ہیں اور اصول اور بنیاد ہیں ان کے ساتھ ہے ، لیکن در حقیقت یہ معاملہ کچھ اور اخلاقی اور مسلکی مسائل کی طرف بھی تجاوز کرتا ہے ۔ جنکی پابندی مسلمان پر لازم ہے اور یہ سنت کی پیروی کرنے کی نشانیاں ہیں ۔

آپ کا بھائی/

أ.د.خالد المصلح

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں