×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / مشترک ملکیت کی مرمت حصوں کے بقدر ہوگی

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-25 06:15 PM | مناظر:2128
- Aa +

میری والدہ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک بلڈنگ میں شرکت کی ہے ، اور اب وہ اس بلڈنگ کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو کیا مرد پر دو عورتوں کی بنسبت ڈبل خرچہ آئے گا، یعنی گھر کی مرمت میں وہ ڈبل پیسہ خرچ کریں گے ؟

إصلاح الملك المشترك يكون على قدر الأنصباء

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

 کیا آپ کا سوال یہ ہے کہ اگر گھر کی ترمیم و مرمت کی ضرورت پڑ جائے تو مرمت کا خرچہ حصوں کے بقدر آئے گا؟

جواب: جی ہاں ، خرچہ حصوں کے بقدر آئے گا، اگر آپ کی والدہ اس بلڈنگ کے ثلث حصہ کی مالکن ہیں اور ان کے بھائی بھی ثلث حصہ کے مالک ہے تو آپ کی والد اپنے حصہ کے بقدر حصہ ڈالے گی اور اس کا میراث کے ساتھ  کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ خرچہ صرف حصہ کے بقدر ہوگا، اس لئے اگر ورثاء میں سے کسی عورت نے اپنی بہن کا حصہ خریدا تو یہ اس کے حصہ کو زیادہ کر دے گا، یہاں ہم یہ نہیں کہیں گے کہ آپ وہ رقم ادا کریں جو پہلے تھا بلکہ وہ تو اس رقم کو ادا کریں گی جو ترمیم اور مرمت کے وقت تھا آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ وہ اپنے ثلث حصہ کے بقدر خرچہ ادا کریں گی ، دو ثلث ، جو کہ حقیقت میں کام کے مطابق ہے ۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں