×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / بیع تام ہو جائے تو اس کے بعد عاقدین کو کسی چیز کا حق نہیں رہتا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-06-12 11:54 PM | مناظر:2796
- Aa +

میں نے ایک گاڑی خریدی اور گاڑی کے مالک کے ساتھ ایک معین قیمت پر اتفاق کرلیا، بعد میں ہمارا کچھ اختلاف ہوا تو گاڑی کے مالک نے کہا کہ میرے والد صاحب میرا اور آپ کا فیصلہ کریں گے ، میں اس پر راضی ہوا اس لئے کہ اس کے والد صاحب امامِ مسجد ہیں ، فیصلہ کرتے وقت انہوں نے کہا کہ یہ رقم فلاں کی بنتی ہے، میں نے طوالتِ عرصہ کے باوجود اتفاق کیا کچھ عرصہ بعد وہ میرے پاس آکر کہنے لگا کہ میں زیادتی چاہتا ہوں کیا میرے لئے اس کو زیادہ رقم دینا جائز ہے جبکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟

إذا تم البيع فلا حقَّ للمتعاقدين بعده في شيء

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

آپ کے سوال کے بارے میں ہمیں جو سمجھ آیا ہے اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ آپ کے لئے اس کو اپنے مال میں سے کچھ بھی واجب نہیں ہے، اس لئے کہ جس مال پر عقد تام ہو ا تھا اس کو اس نے پورا پورا وصول کیا تھا اور اس پر راضی بھی ہوا تھا اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اللہ نے خریدو فروخت کو حلال قرار دیا ہے﴾ {البقرہ: ۲۷۵

 اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿اے ایمان والو! آپس میں اپنے اموال باطل طریقہ سے نہ کھایا کرو الا یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے بطورتجارت ہو﴾ {النساء: ۲۹} اور یہاں آپ کے مسئلہ میں رضامندی حاصل ہوچکی ہے۔

 اور سنن میں آپکا ارشاد گرامی منقول ہے: ’’خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہوتی ہے‘‘ [سنن ابنِ ماجہ: ۲۱۸۵] اور یہاں آپ دونوں میں رضامندی حاصل ہوگئی ہے۔

لہذا اس کے لئے بعد میں رجوع کرکے زیادتی کرنا اس کا حق نہیں بنتا، جیسا کہ اگر کوئی شخص مثال کے طور پر کسی کو کوئی چیز بیچے اور اس سے عقد کیا اور عقد تام ہونے کے بعد وہ رجوع کرکے مطالبہ کرے تو اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے، اس لئے کہ اگر اس طرح ہوتا رہے تو لوگوں کے معاملات اور لین دین خراب ہوجائیں ، اس لئے اس شخص کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے لیکن اگر آپ بطورِ اکرام اور اس کی دلجوئی کے اس کو دینا چاہیں تو یہ آپ کو اختیار ہے لیکن یہ واجب نہیں ہے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں