فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / غیر مسلم عورتوں کو لیڈی برہنہ کپڑے بیچنا

غیر مسلم عورتوں کو لیڈی برہنہ کپڑے بیچنا

تاریخ شائع کریں : 2017-06-13 | مناظر : 1477
- Aa +

اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ آپ کو بے حد جزائے خیر عطا فرمائے۔ محترم جناب میرا سوال یہ ہے کہ میں یورپ میں غیر مسلم عورتوں کو لیڈی برہنہ کپڑے فروخت کرتا ہوں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ ستر کو ظاہر کرنے والے کپڑے ہوتے ہیں ، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ غیر مسلم ممالک میں غیر مسلم عورتوں کو اس طرح کے لباس بیچنے کا کیا حکم ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ کی اس دینی کدّ و کاوش کو قبول فرما کر اسے آپ کے میزانِ حسنات کے لئے ذخیرہ بنائے

بيع الملابس النسائية العارية لغير المسلمين

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

یہ مسئلہ ان چیزوں کے بیچنے کے حکم کے تحت داخل ہے جن کے استعمال کے بارے میں یقینایا غالباََ علم نہیں ہے کہ یہ حرام ہے یا نہیں لیکن جمہور علماء میں سے بہت سارے محدثین اور فقہاء کا مذہب اس طرح کی چیزوں میں حرمت کا ہے، اس لئے کہ اس طرح کی چیزیں بیچنا ایک قسم گناہ کے کام میں مدد و معاونت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں حرام قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ﴿گناہ کے کام میں ایک دوسرے کی مدد و معاونت نہ کیا کرو﴾ اسی طرح بعض ایسے لباس کے بیچنے کی حرمت پر صراحت فرمائی ہے جس کے ذریعہ حرام کاموں پہ مددومعاونت حاصل ہوتی ہے ، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ شرح العمدہ {4/386] میں لکھتے ہیں : ہر ایسا لباس جس کے بارے میں یہ غالب گمان ہو کہ اس سے معصیت و گناہ کے کام میں مدد ملے گی تو اس کو ایسے شخص کے ہاتھ بیچنا جائز نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ معصیت و ظلم پر معاونت کرتا ہو، اسی پر میری رائے نہیں ہے کہ آپ ان کپڑوں کو بیچیں چاہے مسلم ممالک میں یا غیر مسلم ممالک میں ۔

اللہ تعالیٰ سب کو خیرکے کاموں کی توفیق عطا فرمائے

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں