×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / ڈرگ ڈیلر سے زمین خریدنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-06-30 03:18 PM | مناظر:1760
- Aa +

میں نے ایک زمین خریدی ہے جو بیچنے والے نے منشیات کی تجارتی مال سے خریدی ہے لہٰذا اس کا کیا حکم ہے؟

اشتريت أرضًا من رجل يتاجر بالحشيش

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیق الٰہی آپکے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

یہ زمین آپ کے لئے حرام نہیں ہے اگرچہ یہ اس کے مالک نے حرام کمائی سے خریدی ہو، اس لئے کہ حرمت کا حکم آپ سے نہیں اس سے متعلق ہے، آپ نے تو یہ زمین صحیح عقد اور مباح ذریعہ سے حاصل کی ہے۔

باقی رہا آپ کے خاوند کا سوال کہ اس کے دعوی کے مطابق اس زمین میں اس کا بھی حصہ ہے تو اب آپ دیکھ لیں اگر آپ دونوں کا آپس میں ایسا کوئی ایگریمنٹ ہوا ہو یا آپ نے اسے اس زمین میں سے کچھ ہبہ کیا ہو، الغرض جس پر بھی آپ کا اتفاق ہوا ہو فیصلہ اسی کے مطابق ہوگا، البتہ اگر زمین خریدنے میں سارا مال آپ نے خرچ کیا ہو اور آپ کے خاوند کی اس میں کوئی شرکت نہیں ہے تو اس زمین میں اس کا کوئی حق نہیں ۔

اور جہاں تک بیچنے والے کا یہ کہنا ہے کہ میں نے زمین بیچ دی تو اس کے قول کا کوئی وزن نہیں اس لئے کہ اعتبار اس کے قول کا کیا جاتا ہے جو مال خرچ کرتا ہے۔

اور جہاں تک آپ کے سابقہ شوہر کا یہ کہنا ہے کہ فیکس ایک حجت اور گواہی ہے تو یہ آپ کے خاوند اور زمین کے مالک کا اپنی طرف سے دعوی ہے فیصلہ کا اصل مرجع عدالت ہے، لیکن نظر اور حکم کے اعتبار سے یہ ویسا ہے جیسا پیچھے جواب میں گزرچکا ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے اور آپ کا حال درست فرمائے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں