×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / اس عہد کی شرائط کے بارے میں آپ کا خیال ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-07-07 12:26 PM | مناظر:1960
- Aa +

میں قرآن پاک کی معلمات تیار کرنے والے ایک ادارے میں پڑھنے والی طالب علمہ ہوں، اس انسٹی ٹیوٹ والوں نے مجھ سے درج ذیل قواعد پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا: ۱- شرعی آداب کی رعایت اور نمازوں کوا پنے اوقات میں ادا کرنے کی پابندی۔ ۲- علمِ شرعی کی طلب اور قرآن کریم یاد کرنے میں خوب دل وجان سے انتھک محنت کرنا۔ ۳- انسٹی ٹیوٹ میں کم از کم ایک سال کے عرصہ کے لئے کام کرنے کا عہد، یا حفظ کے دَور کرنے کا عہد ، یا خواتین کے اجتماعات میں کام کرنے کا عہد، اور یہ سب علمِ شرعی کے تزکیہ کے باب میں سے ہیں ، لہٰذا اس میں شارع علیہ السلام کا کیا حکم ہے ؟

ما رأيكم بشروط هذا التعهد؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

شرعی رُو سے ان میں کچھ شرائط واجب ہیں جن کی شرط لگانا ان شرائط کے لئے مضبوطی ہوگی، اور ان میں سے بعض شرائط شرعی نقطۂ نظر سے مستحب ہیں جن کے ذریعہ ان کی شرط لگانا ان کو لازم قرار دینا ہے، اور ان شرائط کے قبول کرنے سے وہ لازم ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا واجب ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اے ایمان والو! عقود کو پورا کیا کرو﴾ [المائدۃ: ۱] ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ﴿عہد کی پاسداری کیا کرو اس لئے کہ عہد کے بارے میں پوچھ تاچھ ہوگی ﴾ [الاسراء: ۳۴] اور امام ابوداؤدؒ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ذکر کی ہے جس میں آپ کا ارشاد گرامی ہے: "مسلمان اپنی شرائط پر باقی رہتے ہیں"۔

 یہ حدیث امام بخاری ؒ نے معلقا کتاب الاجارہ ’’باب اجر السمسرۃ‘‘ میں بھی روایت کی ہے، اور یہ حدیث اور بھی بیشتر صحابہ سے مروی ہے جس کی وجہ سے اس کو اور بھی تقویت ملتی ہے، ابن العربی نے اس کے بارے میں اپنے عارضہ {۶/۱۰۳} میں لکھا ہے: ’’یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے اور اس حدیث کے الفاظ و معانی پر قرآن وامت کا اجماع ہے‘‘۔

اور بعض شرائط ایسی ہوتی ہیں جو انسٹی ٹیوٹ کے مصلحت کے لئے ہوتی ہیں اور بسا اوقات یہ شرائط طالب علم کے مصلحت کے لئے ہوتی ہیں ، جب طالب علم کو اس کا پابند بنایا جاتا ہے تو اس کے لئے ان کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، ان دلائل کی بناء پر جن کی وجہ سے عقود و عہود کا پورا کرنا واجب ہے۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں