فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / سیفٹی اور آپریشن کنٹریکٹ میں دھوکہ

سیفٹی اور آپریشن کنٹریکٹ میں دھوکہ

تاریخ شائع کریں : 2017-07-07 | مناظر : 1177
- Aa +

آج کل اکثر سرکاری محکموں میں آپریٹنگ اور سیفٹی کے عقود پھیل گئے ہیں، صورتِ مسئلہ درج ذیل ہے: کسی عمارت کی سیفٹی یا کسی شہر کی صفائی ستھرائی وغیرہ کے لئے خاص کمپنیوں میں مقابلہ کیا جاتا ہے، پھر یہ کمپنیاں ان مقابلوں کے سائٹ سرچ کرتے ہیں اور اس طرح مطلوبہ اسباب و ذرائع، ملازمتوں، خصوصی سروسز اور دیگر مطلوبہ اعمال پر مطلع ہوتے ہیں، اس کے بعد مذکورہ کمپنیاں کام کا اندازہ لگاتی ہیں کہ اس پر کتنی لاگت متوقعہ ہے، اور اس مقابلہ میں داخل ہوتے وقت مطلوبہ نفع کیا ہے، یعنی کمپنی کا مالک اس کے لئے ایک ایسی حد مقرر کرتا ہے جو نفع سے کم بھی ہوتا ہے اور جس کوحاصل کرنا ضروری بھی ہوتا ہے، پھر کمپنیاں اس مقابلہ کے لئے مطلوبہ قیمت پیش کرتے ہیں، اس کے بعد یہ کمپنیاں کم سے کم قیمت کا چناؤ کرتی ہیں اورجس محدود مدت پر ان کا اتفاق ہوتا ہے تو اس وقت تک کے لئے اس مقابلہ کو قائم کردیتی ہیں، اور یہاں ایک کمرشل ٹھیکدار کا دور ظاہر ہو جاتا ہے بایں طور کہ وہ بہت کم قیمتوں پر سیفٹی اور کمپنی کے چلانے کے لئے سعی کرتا ہے ، اور اس طرح اس کو خالص اور مناسب نفع مل جاتا ہے، اب یہاں سوال یہ ہے کہ بسا اوقات یہ ٹھیکدار خیالی رقم خرچ کرتا ہے جو رقم وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی، اور کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ عقد ختم ہو جاتا ہے لیکن جس رقم پر اتفاق ہوتا ہے اس کو خرچ نہیں کیا ہوا ہوتا اسلئے کہ اس کو سبب حاصل نہیں ہوا ہوتا، لہٰذا آ پ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

الغرر في عقود الصيانة والتشغيل

سیفٹی کنٹریکٹ کی کل دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: سیفٹی کنٹریکٹ یہ ایک حفاظتی گشتی دستے کی قسم ہے جس کے اندر عقد کے دونوں طرفین میں اس شرط پر اتفاق ہوتا ہے کہ سیفٹی کمپنی سائٹ کا جائزہ ، اس کی حفاظت ، اس کے کام کا تسلسل اور اس کی کارکردگی کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے اس کا جائزہ لے گا، نیز ان اجزاء کی تبدیلی کا جائزہ لے گا جس کو استعمال کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، اور یہ ایک مخصوص ٹائم ٹیبل کے مطابق ہوگا جس پر اتفاق ہوا ہے ، اس قسم کے عقود جائز ہوتے ہیں ، اس لئے کہ معاملات میں اصل حکم حلّت کا ہوتا ہے ، اور اس قسم کے عقود کے جواز کی وجہ یہ ہے کہ آج کل لوگوں کو اس کی ضرورت پڑتی ہے اور اس میں جو دھوکہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دے گا۔

دوسری قسمـم: ہنگامی حوادث کے سیفٹی کنٹریکٹ، جس میں اس بات پر اتفاق ہوتا ہے کہ جس چیز کی حفاظت پر اتفاق ہوا ہے تو حفاظتی ادارہ اس کے اجزاء میں واقع ہونے والے خلل و خرابی اور فساد کی اصلاح و معالجہ کرے گا، اور یہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہے:

یا تو اس بات پر اتفاق ہو جائے کہ سیفٹی کا عہد کرنے والے خوب اس عمل کو ادا کرے یا پھر اس بات پر اتفاق ہو جائے کہ وہ اس عمل کو بھی ادا کریگا اور اس میں لاحق ہونے والے فساد وخرابی کی اصلاح بھی کرے گا،  پہلی حالت میں سیفٹی کنٹریکٹ جائز ہے، اور دوسری حالت میں یہ جائز نہیں ہے، اس لئے کہ اس دوسری قسم میں صراحتاََ دھوکہ وفریب پایا جا رہا ہے اور یہ کتاب و سنت اور اجماع کے اعتبار سے جُوے کی ایک قسم ہے ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

13/11/1424هـ

متعلقہ موضوعات

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں