فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / ایک سُودی بینک جس کی کوئی اسلامی برانچ ہو

ایک سُودی بینک جس کی کوئی اسلامی برانچ ہو

تاریخ شائع کریں : 2017-07-07 | مناظر : 881
- Aa +

اس مسئلہ میں ہم آپ سے حکم کی وضاحت کے طلبگار ہیں، اور یہ مسئلہ کسی اسلامی بینک میں مال رکھوانے کے متعلق ہے جس میں مال کی سرمایہ کاری پر عقد کی صراحت کردی جاتی ہے جو احکامِ شریعت کے عین مطابق ہوتا ہے، اور پرافٹ غیر متعین ہوتا ہے ، اور یہ پرافٹ متغیر ہوتا ہے ، لیکن اس میں ایک کنفیوژن ہے اور وہ یہ کہ اصل میں یہ بینک سُودی بینکوں کی ایک برانچ ہے بایں طور کہ جب اس بینک والوں نے دیکھا کہ اسلامی بینک روز بہ روز پھیل رہے ہیں تو انہوں نے بھی سوچا کہ اس کی کوئی ایسی برانچ کھولی جائے جس میں اسلامی طریقہ سے لین دین ہو، لہٰذا اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اس اسلامی بینک کے برانچ میں پیسے رکھوانے کے حکم میں اثر پذیر ہے؟

البنك الربوي الذي له فرع إسلامي

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

معاملات اور لین دین کے حلال ہونے میں صرف اتنا کافی نہیں ہوتا کہ اس کا وصف بیان کرتے ہوئے اتنا کہا جائے کہ یہ احکامِ شریعت کے مطابق ہے، بلکہ اس کی حقیقت اور وصف کو صراحت سے بیان کیا جائے تاکہ مکمل طور پر علم ہو کہ کیا یہ شرعی محرمات سے سالم ہے یا اس میں کوئی ممنوعہ چیز بھی پائی جا رہی ہے ، باقی جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو اس کا جواب اہل علم کے راجح قول کے مطابق یہ ہے کہ ایسے بینک میں اثر پذیر نہیں ہوتا جس کے دوسرے حرام بینکوں سے بھی تعلق ہو ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

13/11/1424هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں