فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / جس کی کمائی پر حرام کا غالب گمان ہو اس سے قرضہ لینے اور گفٹ قبول کرنے کا حکم

جس کی کمائی پر حرام کا غالب گمان ہو اس سے قرضہ لینے اور گفٹ قبول کرنے کا حکم

تاریخ شائع کریں : 2017-07-07 | مناظر : 1396
EN
- Aa +

جس کی کمائی پر حرام کا غالب گمان ہو اس سے قرضہ لینے اور کوئی گفٹ قبول کرنے کا کیا حکم ہے ؟

الاستدانة أو الهدية ممن يغلب على كسبه الحرام

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

حرام مال دو حالتوں سے خالی نہیں ہوتا:

پہلی حالت:  یہ ہے کہ وہ مال سرے سے ہی حرام ہو جیسے چوری کردہ اور چھینا ہوا مال وغیرہ، لہٰذاا س صورت میں جس کے ہاتھ میں اس قسم کے اموال ہیں اسکے ساتھ لین دین جائز نہیں ہے، نہ قرض و معاوضہ کے ذریعہ اور نہ ہی ہبہ وغیرہ کے ذریعہ ، اسلئے کہ یہ مال سرے سے ہی حرام ہے کہ یہ اس کے مالک کا حق ہے لہٰذا اس سے یہ مال لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے الا یہ کہ اس سے لے کر اس مال کو اس کے مالک کو واپس کیا جائے ۔

دوسری حالت:  یہ ہے کہ وہ مال کمائی کی جانب سے حرام ہو جیسے سود یا اور حرام کاموں سے کمایا ہوا مال ، اہل علم کے اس میں دو قول ہیں: بعض علماء کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ لین دین جائز نہیں ہے ، اور بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے ، ان حضرات کی دلیل آنحضرتکا یہودیوں کے ساتھ لین دین سے ہے جبکہ وہ ناحق اور سود کا مال بھی کھاتے تھے ، اور سود ان کے مال کا غالب حصہ تھا۔

اور اس کی تائید عبدالرزاق کی روایت کردہ ابن مسعودؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ میرا ایک سود خور پڑوسی ہے جو اکثر میری دعوت کرتا رہتا ہے (تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟) فرمایا: یہ آپ کے لئے خوشگوار ہے اور اس کا گناہ اس کو ملے گا۔

اور اس حدیث کو امام احمد نے صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ ابن رجب نے جامع العلوم والحکم میں نقل کیا ہے ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

11/11/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں