فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / بیعِ سلم اور سُود میں فرق

بیعِ سلم اور سُود میں فرق

تاریخ شائع کریں : 2017-07-07 | مناظر : 2887
- Aa +

ہمارے علمائے کرام نے سود کے باب میں ذکر کیا ہے کہ جب علت مختلف ہوجائے تو عدمِ تقابض اور عدمِ تماثل جائز ہوجاتا ہے، اور ان کا استدلال آنحضرتﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے ہے جس میں آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص کسی چیز میں بیع سلم کرے تو اسے چاہئے کہ وہ معلوم ناپ ، معلوم وزن اور معلوم مدت تک کرے‘‘، اور بعض علماء نے بیع سلم کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے: عقدِ سلم ذمہ میں ایک عقدِ موصوف ہے جس میں ثمن مؤجل پر قبضہ مجلسِ عقد میں ہوتی ہے، اب یہاں مجھے اس تعریف میں تھوڑا سا اشکال پیدا ہوگیا ہے وہ یہ کہ ان حضرات نے مجلس عقد میں عدمِ تقابض کے جواز کا استدلال کیسے کیا ہے جبکہ علماء اس کی تعریف میں کہتے ہیں کہ مجلس عقد میں مقبوضہ ثمن کے ساتھ؟

الفرق بين السَّلَم والربا

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وہ قبضہ جو سود سے سلامتی کے لئے شرط ہوتا ہے تو یہ وہ قبضہ ہوتا ہے جو عقد کے دونوں اطراف میں ہوتا ہے ، مثلا اگر کوئی سونے کے بدلے سونا بیچے تو جس پر عقد ہوا ہے اس پر دونوں طرفین کو قبضہ کرنا ضروری ہے، اسی طرح اگر کوئی آٹے کے بدلے کھجور بیچے تو بائع کا آٹے پر اور مشتری کا کھجور پر قبضہ ضروری ہے، رہی بات بیع سلم کی تو اس میں صرف ثمن پر قبضہ کیا جاتا ہے نہ کہ مبیع پر اور یہ اس لئے کہ یہ دَین کے بدلے دَین نہ ہو ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

16/08/1425هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں