×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / شئیرز کی خریدو فروخت کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-07-07 03:02 PM | مناظر:2141
- Aa +

ان مباح کمپنیوں کے شئیرز کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے جو سود پر قرضہ لیتے ہیں اور اپنے فلو ایبلٹی کو سود کے ذریعہ رکھتے ہیں؟

حكم تداول الأسهم

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

ایسی مباح کمپنیوں کے شئیرز کے حکم کے بارے میں دور حاضر کے علماء کا اختلاف ہے جس کے کچھ کام بعض خارجی محرمات سے ملتے ہوں جیسا کہ سود پر قرضہ لینا اور بینکوں کا سود پر قرضہ دینا وغیرہ، اور اس میں علماء کا اختلاف تین اقوال پر مبنی ہے: ایک قول اس کی اباحت کا ہے ، دوسرا قول اس کی حرمت کا ہے اور تیسرا قول اسکی کراہت کا ہے کہ اس کا چھوڑنا اس میں حصہ لینے سے بہتر ہے، اور مجھے تقوی ، احتیاط اورحلال رزق کے اعتبار سے جو قول زیادہ قرینِ قیاس اور أقرب الی الصواب نظر آتا ہے وہ یہ تیسرا قول ہے، اس لئے کہ یہی ہمارے شیخ محمد صالح عثیمین ؒ کا قول بھی ہے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

29/03/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں