فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / ایسی چیز کے بیچنے کا حکم جس سے حرام کام کا ارادہ ہو

ایسی چیز کے بیچنے کا حکم جس سے حرام کام کا ارادہ ہو

تاریخ شائع کریں : 2017-07-07 | مناظر : 2417
- Aa +

ہم شمالی مغربی چین میں واقع ایک چھوٹے سے شہر سنکیانگ کے رہنے والے مسلمان ہیں جو کہ ایک نہایت ہی غریب شہر ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو قدرتی دولت سے مالامال کیا ہے اور وہ نفیس پتھر (ہیرے جواہرات) کی دولت ہے، لہٰذا یہ بات ظاہر ہے کہ کوئی نہ کوئی ان نفیس پتھروں کی تجارت کرے گا، ان نفیس پتھروں کی تجارت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد بیس ہزار یا اس سے اوپر ہے، اور یہ ان لوگوں کے علاوہ ہیں جو ان پتھروں سے نفع اٹھاتے ہیں، اسی بناء پر ہم ان لوگوں کو تین قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں: [1] لیبر فورس: یہ لوگ پہاڑوں کی کانوں کو ان اجرتوں کے مقابلہ میں کھودکر ان میں سوراخ کرتے ہیں جو ان کو ان کانوں کے مالکو ں کی طرف سے ملتی ہیں۔ [2] درمیانی طبقہ کے لوگ: کانوں سے نکالے ہوئے نفیس پتھروں کو خریدتے ہیں اور پھر وہ پتھر ٹرانسپوٹر کو بیچتے ہیں۔ [3] ٹرانسپوٹر: یہ لوگ ان پتھروں کو درمیانی طبقہ کے لوگوں سے خریدتے ہیں اور کبھی کبھار تو ڈائرکٹ کانوں سے خرید لیتے ہیں ، اور اس طرح کرتے کرتے جب ان کے پاس ان نفیس پتھروں کی ایک بڑی مقدار جمع ہوجاتی ہے تو پھر ان کو لے کر چین کے دوسرے دُور دراز کے علاقوں میں غیر مسلم سنگ تراشوں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں جن سے پھر وہ ستر فیصد بت ، مورتیاں اور حیوانات بناتے ہیں اور تیس فیصد سے غیر مجسمہ اشکال جیسے چوڑیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ بناتے ہیں، لیکن یہاں ایک بات مدِّ نظر رہے کہ یہ پتھر قیمت کے اعتبار سے دو قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں: {1} زیادہ قیمت والے پتھر: جو بہت کم پائے جاتے ہیں، اور اس سے کوئی چیز نہیں بناتے بلکہ اس کو فخریہ طور پر اپنے پاس محفوظ کرتے ہیں۔ {2} کم قیمت والے پتھر: جو ایک بڑی نسبت میں ہیں، وہ پتھر جن سے سنگ تراش مورتیاں اور چوڑیاں وغیرہ بناتے ہیں۔ اور میں آپ کے علم میں اضافہ کرتا چلوں کہ ان میں اکثر کام کرنے والے خیر کے کاموں میں اور فقیروں کی مدد میں خوب خرچ کرتے ہیں ، اور وہ خود بھی صحیح العقیدہ لوگ ہیں ، اور اس میں جس عمدہ پہلو کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کے عمدہ تاجروں کا معاش ان پیشہ وروں کے ہاتھ میں ہے، اب اگر اس کام کو مسلمان نہیں کریں گے تو یہ ظاہری بات ہے کہ غیر مسلم لوگ اس پر مسلط ہو جائیں گے ، جس سے مسلمانوں کا معاشی نظام کمزور ہو جائے گا ، اور پھر اس حالت میں مسلمان خیر کے کاموں میں بے بس ہوجائیں گے ۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اس تجارت کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی زکوٰۃ کیسی نکالی جائے گی ؟ اور اگر حرام ہے تو اس کے ذریعہ سے کمایا ہوا مال کیسے صرف کیا جائے گا؟ ازراہِ کرم دلائل سمیت تفصیل سے ان سوالات کا جواب دیں

حكم بيع ما يُقْصَد به المحرَّم

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

ایسی چیز کو کسی ایسے شخص کے ہاتھ بیچنے کے بارے میں اہل علم کا اختلاف  دو اقوال پر مبنی ہے جس سے حرام کام کا ارادہ ہو جیسا کہ کسی ایسے شخص کے ہاتھ انگور بیچنا جو اس سے شراب بناتا ہے، یا ایسے شخص کے ہاتھ لکڑی بیچنا جو اسے لہو کا آلہ بناتا ہو، یا اس سے کوئی صلیب اور مورتیاں وغیرہ بناتا ہو، اور یہ حکم تب ہے جب اس چیز کو حرام کام میں استعمال کرنے کا مکمل یقین حاصل ہو یا غالب گمان حاصل ہو۔

پہلا قول:  یہ ہے کہ یہ حرام اور ناجائز ہے، اور یہ أصح قول کے مطابق جمہور علماء میں سے شافعیہ ، مالکیہ ، حنابلہ اور ظاہریہ وغیرہ کا قول ہے، ان حضرات کا استدلال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی سے ہے: ﴿اور تم آپس میں ایک دوسرے کے گناہوں کے کاموں میں باہمی مدد نہ کیا کرو﴾ [المائدۃ: 2] اس طرح ان کے اور بھی دلائل ہیں۔

دوسرا قول:  یہ ہے کہ اس طرح کرنا جائز ہے، اس قول کو ابن المنذر نے حسن، عطاء اور ثوری رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے، حضرت ثوری فرماتے ہیں کہ حلال چیز جس کو چاہو بیچ دو۔

یہی امام ابوحنیفہ ؒ کا بھی ان چیزوں میں قول ہے جن میں معصیت پر معاونت کرنے کا معنی نہیں پایا جاتا اور نفسِ مبیع سے معصیت وجود میں نہ آتی ہو، مثال کے طور پر ایسی حلال چیز کا بیچنا جس سے حرام چیز بنائی جاتی ہو تو یہ جائز ہے البتہ جو چیز حرام کام میں استعمال ہو جیسا کہ جنگ کے ایام ہتھیار کا بیچنا تو یہ ان کے نزدیک مکروہ ہے، صاحبین نے اس مسئلہ میں ان سے اختلاف کرکے اس کے مطلقا کراہت کا کہا ہے اور یہی امام شافعی کا بھی قول ہے۔

ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ اصل معاملات اور خرید وفروخت میں حلت ہی ہوتی ہے جیسا کہ ارشا د باری تعالیٰ ہے: ﴿اللہ تعالیٰ نے خریدو فروخت کو حلال قرار دیا ہے﴾ [البقرۃ: 275] یہ حضرات فرماتے ہیں کہ ان جیسی چیزوں کے خریدنے کا گناہ خریدار کو ہوگا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قیامت کے دن کوئی نفس دوسرے نفس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا﴾ [الانعام: 164] لہٰذا یہ بیع کی صحت اور جواز پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

لیکن ان دونوں اقوال میں راجح قول جمہور علماء کا قول ہے کہ جب تک اس چیز کا حرام کام میں استعمال کے بارے میں مکمل یقین نہ ہوجائے یا غالب گمان نہ ہوجائے تب تک یہ حرام نہیں ہوگا۔

اور جہاں تک اس کی اباحت کی سوال ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں یہ عقد حرام کام اور گناہ پر معاونت کا سبب بنتا ہے، اس لئے کہ اصل کو کام میں لانا عدمِ قیام کی حالت میں ہوتا ہے جو اس کو منع کرتا ہے۔

لیکن اس مسئلہ میں جو چیز قابل التفات ہے وہ یہ ہے کہ حرمت کی شدت متفاوت ہوتی ہے، لہٰذا جو حرام کام کے قریب ہونے کا سبب بنتا ہو تو اس کی حرمت اشد اور اغلظ ہوگی، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ بیع یا اجارہ وغیرہ کے ذریعہ حرام کام پرمعاونت کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے، بایں طور کہ خریدار یا اجارہ پر لینے والا وغیرہ جیسے معاونت کرنے والا اس کو بطور عوض یا مفت خریدے اور اس کی اباحت کا عقیدہ رکھتا ہو، لہٰذا بائع کی نیت کا اعتبار ہوگا، اسی طرح مشتری کے مسلمان اور کافر ہونے میں کوئی فرق نہیں، برابر ہے کہ ہم یہ کہیں کہ کفار فروعِ شریعت کے ساتھ مخاطب ہیں یا نہیں، اس لئے کہ حکم تو بائع کے ساتھ متعلق ہے، اور وہ احکامِ شریعت کے ساتھ مخاطب ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلادِ مسلمین یا بلادِ کفار میں اس طرح لین دین کرنے میں کوئی فرق نہیں ۔

اور جیسے کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ جو ان پتھروں کو مورتیوں جیسے حرام کاموں میں استعمال کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے، چاہے اللہ کو چھوڑ کر ان مورتیوں کی عبادت ہوتی ہو یا نہیں، اور یہ بات خوب ذہن نشین کر لو کہ رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اور جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اس کے بدلے میں اس سے بہتر اس کو دے دیتا ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں ہوتا کہ ان پتھروں کو کافروں کیلئے چھوڑا جائے، اس لئے کہ ان پتھروں کو مباح تجارت میں استعمال کرنا جائز ہے۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

12/04/1425هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں