فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / مزدور کو اس کے کفیل کے خلاف بگاڑنا

مزدور کو اس کے کفیل کے خلاف بگاڑنا

تاریخ شائع کریں : 2017-07-07 | مناظر : 1238
- Aa +

میں نے ایک مزدورکے ساتھ اس بات پر ایگریمنٹ کیا کہ وہ اپنے کفالت کنندہ کے عقد کو منظم طریقہ سے فسخ کر دے پھر اپنے وطن جائے اور وہاں سے منظم طریقہ پر میری کفالت میں آجائے ، اب سوال یہ ہے کہ اس کا کیا حکم ہے؟

إفساد أجير على كفيله

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اس طرح کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اللہ کے رسولنے مسلمان کو دوسرے مسلمان کے حق میں زیادتی کرنے سے منع فرمایا ہے ، اسی سے آپکی حدیث مبارکہ بھی ہے جو صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے: ’’تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے سودے پر بیع نہ کرے‘‘، یہ حکم تمام مالی معاملات کو شامل ہے، اب اسی میں سے اجرت پر مزدوروں کے لینے کا حکم بھی ہے، اس لئے اپنے بھائی کے اجرت لینے کے اوپر آپ کے لئے اس مزدور کو اجرت پر لینا جائز نہیں ہے اس لئے کہ ان دونوں کا عقد پر اتفاق ہوا ہے، اور اس کے عدمِ جواز کی وجہ یہ ہے کہ یہ بھی اس حکم کے تحت آتا ہے جس سے اللہ کے رسولنے منع فرمایا ہے ۔

اس کی حرمت پر شیخین کی حضرت انسؓ سے روایت کردہ حدیث بھی تائید کرتی ہے جس میں اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے‘‘، اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہر ایسا معاملہ جو انسان پر شاق گزرے اور اس کے دل پر ناگوار گزرے تو انسان کو چاہئے کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ وہ معاملہ نہ کرے ، اور اگر آپ کو اس مزدور کو اجرت پر لینے کی رغبت ہے تو آپ کو اس کے کفیل سے اجازت لینی چاہئے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے پسند اور رضامندی کے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

13/09/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں