فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / مارکیٹنگ کا یہ طریقہ ممنوع ہے

مارکیٹنگ کا یہ طریقہ ممنوع ہے

تاریخ شائع کریں : 2017-07-07 | مناظر : 1811
EN
- Aa +

ہم ایک کاروباری کمپنی ہیں اور قانونی ضابطوں کے مطابق جائز پراڈکٹس بیچتے ہیں ، اور پرافٹ کے وقت اس کمپنی کے دو طریقے ہیں: پہلاطریقہ: ماہانہ مالی دائرہ کار۔ دوسرا طریقہ: سالانہ مالی دائرہ کار۔ پس ماہانہ مالی اجلاس کے وقت حاصل شدہ پرافٹ کے ایک حصہ سے شاپنگ کرنے والوں میں سے ہر شاپنگ کرنے والے کو چھ سو ریال کے بقدر کچھ تحفے تحائف اور انعامات دئیے جاتے ہیں ، اور سالانہ مالی دورہ مکمل ہونے کے وقت یہ کمپنی اپنے خاص پرافٹ سے ہر شاپنگ کرنے والے کو ایک آخری تحفہ اور انعام دیتی ہے جس کی قیمت پانچ ہزار سعودی ریال سے اوپر ہوتی ہے، اور یہ سب کچھ اپنے پروڈکٹس کو فروغ دینے کے لئے کیا جاتا ہے تاکہ اس کمپنی سے زیادہ سے زیادہ خریداری ہو ۔ جناب یہاں ایک بات ضرور پیشِ نظر رہے کہ کمپنی جو تحفے تحائف تقسیم کرتی ہے تو یہ نہ تو شراکت داری ہے اور نہ ہی ان شاپنگ کرنے والوں کے لئے سرمایہ کاری استحقاق بلکہ یہ تو محض کچھ تحفے تحائف اور انعامات ہیں جو کمپنی اپنے خاص منافع سے شاپنگ کرنے والوں کو بطورِ عزت افزائی ، اپنے سودا کو فروغ دینے اور پروڈکٹس کی خریداری میں رغبت دلانے کیلئے ہے۔ پیچھے مذکورمسئلہ کی بنیاد پر میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ کمپنی ان انعامات اور تحفوں پر ایسا کوئی لینے والے سسٹم پر عمل نہیں کرتی جو کسی دھوکہ کا سبب بنے بلکہ ہر شاپنگ کرنے والا کمپنی کی طرف سے ماہانہ اور سالانہ پروگرام میں تقسیم کردہ تحفے تحائف اور انعامات کا حقدار ہوتا ہے، یہ بات بھی آپ کے علم میں ہونی چاہئے کہ یہ کمپنی بروکریج نظام (کمیشن) کے تحت کام کرتی ہے اور وصول کنندہ کے لئے شاپنگ کی شرط نہیں لگائی جاتی ، دوسرے معنوں میں آپ یوں سمجھیں کہ اگر شاپنگ نہ کرنے والا شخص دوسرے وصول کردہ شاپنگ کرنے والوں کو لے آتا ہے تو ان حاضر کردہ شاپنگ کرنے والوں میں سے ہر ایک کے بدلے اس کو پچھتر ریال ملتے ہیں جو وصولی کی وجہ سے اس کا حق ہوتا ہے۔ اب اللہ آپ کی حفاظت فرمائے ہمارا سوال یہ ہے کہ اس کام کا کیا حکم ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ سے امت کو نفع پہنچائے اور راہِ خیر کی طرف اسی طرح آپ کو گامزن رکھے

طريقة التسويق هذه محرمة

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

شاپنگ کے جس طریقہ کے بارے میں آپ نے پوچھا ہے وہ جائز نہیں ہے اس لئے کہ اس معاملہ میں اس نقد انعام کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اس مبیع کا حصہ ہے جس پر عقد ہوا ہے ، بایں صورت کہ گاہک رقم تو خریداری کے وقت خرچ کرتا ہے تاکہ اسے مطلوبہ سامان ملے جبکہ انعام اسے ماہانہ یا سالانہ پروگرام کے بعد ملتا ہے، اور خریداری میں رغبت دلانے کے لئے یہ طریقہ کار استعمال کرنا سود کی دو قسموں پر مشتمل ہے: (۱) ربا الفضل (زیادتی کا سود)  (۲) ربا النسیئۃ (ادھار کا سود)۔

ربا الفضل تو اس لئے ہے کہ گاہک نے اپنے سامان کو خریدنے کے لئے پانچ سو ریال اس لئے خرچ کئے تاکہ اپنے سامان کے ساتھ چھ سو کا نقد انعام بھی حاصل کرے جو دونوں اجلاس کے پورا ہونے کے بعد پانچ ہزار ریال سے اوپر ہوجاتے ہیں۔

اور ربا النسئیۃ اس لئے ہے کہ اس ماہانہ اور سالانہ اجلاسوں کے پورا ہونے سے ان مالی انعامات پر قبضہ کرنے میں تاخیر ہوتی ہے ، اور جمہور علماء کا تو اس بارے میں بھی حرمت کا مذہب ہے کہ گاہک مثلا نقد ریال خرچ کرے تاکہ ان کے ذریعہ ایسا سامان حاصل کرے جس کے ساتھ نقد ریال ہوں ، تو اس مذکورہ بالا صورت میں تو حرمت بدرجہ أولیٰ ہوگی کیونکہ اس میں انعاما ت دینے میں تاخیر کی جاتی ہے ، لہٰذا اس کی حرمت کے بارے میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے یعنی یہ سراسر حرام ہے ، اور اس سے مسئلہ کے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ان نقد اموال کو تحفے تحائف یا انعامات کا نام دیں ، کیونکہ حقیقت میں ان نقد مالی اجلاسوں کے بعد گاہک کے لئے عقد میں اس کی شرط لگائی جاتی ہے ، اس لئے اس قسم کے طریقوں سے بچنا اور سامان کی خریداری میں رغبت دلانے کے لئے کوئی اور طریقہ کار واجب اور ضروری ہے ۔

اللہ تعالیٰ آپ میں برکت عطاء فرمائے اور آپ کو سیدھی راہ سلجھائے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

25/10/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں