فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / مساج کا کام اور اس پر اجرت لینے کا حکام

مساج کا کام اور اس پر اجرت لینے کا حکام

تاریخ شائع کریں : 2017-07-08 | مناظر : 1998
FR
- Aa +

میری بیوی مساج کی کلاس لیتی ہے جس میں فیمیل کسٹمر سے اپنی ران یا سینہ کھولنے کا تقاضا کیا جاتا ہے، بلکہ ایک کیسٹ میں تو میں نے یہاں تک سنا ہے کہ ایک مسلم عورت کے ساتھ دوسری مسلم عورت کا ستر بھی کھولا جاتا ہے، لہٰذا اس معاملہ میں راجح کیا ہے، اور ان مساج کلاس کا کیا حکم ہے جبکہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ یہ جسم کے لئے مفید ہے ، اور بسا اوقات تو اس کی وجہ سے بہت سے امراض سے شفا مل جاتی ہے؟ اور اگر یہ کام حرام ہے تو میری بیوی نے اس پر جو اجرت لی ہے کیا وہ حرام ہے یا نہیں؟

حكم العمل بالتدليك وأخذ الأجرة عليه

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

مساج کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: وہ ہے جس کو ڈاکٹر مریض کے لئے پٹھوں میں کمزوری یا دوسرے اغراض کے طور پر تجویز کرتا ہے ، مساج کی یہ قسم جائز ہے ، اس لئے کہ یہ بھی ان دواؤں میں شامل ہے جن میں اصل کے اعتبار سے اباحت کا حکم ہے، لیکن ضرورت کے علاوہ ستر کو دیکھنے اور چھونے سے حفاظت کرنا واجب ہے، اور ضرورت کے بقدر کم سے کم درجہ میں ستر کو دیکھنا یا چھونا واجب ہے ، اور ستر کی حفاظت میں اللہ تعالیٰ کے امر کا وجوب ضروری ہے: ﴿ایمان والے مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں﴾ [النور:۳۰] اسی طرح ایمان والی عورتوں کے متعلق ارشاد فرمایا: "اور ایمان والی عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں جھکائے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں" [النور: ۳۱] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ﴿اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہیں کیونکہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں﴾ [المومنون: ۵-۶] اور امام احمد اور امام ترمذی وغیرہ رحمہم اللہ نے جید سند کے ساتھ بہز بن حکیم ، ان کے باپ اور ان کے جد کے طریق سے آپ کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ آپ سے جب ستر کے بارے میں پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’اپنی بیوی اور اپنی کنیز کے علاوہ اپنے ستر کی حفاظت کرو‘‘ اس کے بعد پوچھنے والے آدمی نے سوال کیا: اگر ایک مرد دوسرے مرد کے ساتھ ہو تب بھی؟ آپنے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’اگر تم یہ کرسکتے ہو کہ تمہارے ستر کو کوئی بھی نہ دیکھے تو کر جاؤ‘‘، امام بخاری نے اس حدیث کے بعض حصہ کو معلقا روایت کیا ہے۔

آپ نے ایک مرد کو اس بات سے روکا ہے کہ وہ دوسرے مرد کے ستر کو دیکھے ، اور اسی طرح عورت کو بھی منع کیا ہے کہ وہ دوسری عورت کے ستر کے دیکھے ، جیسا کہ آپکا ارشاد گرامی ہے: ’’ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں خلوت نہ کرے‘‘، یہ حدیث عورت کے بدن کے کسی بھی حصہ کو چھونے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔

دوسری قسم: مساج کی وہ ہے جو بعض لوگ یا تو چستی کے لئے کرتے ہیں یا ویسے ہی بغیر کسی ضرورت کے لطف اندوزی کے لئے ، اب اگر اس قسم کے مساج میں ستر نہ کھولی جائے اور یہ شہوت انگیز نہ ہو تو اس صورت میں مساج جائز ہے اور اس پر اجرت لینا بھی جائز ہے، لیکن یہاں میں یہ مشورہ دینا پسند کروں گا کہ ہاتھوں کے بجائے الیکٹرونیکل آلات سے مساج کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ یہ ستر کھلنے اور چھونے وغیرہ جیسے شبہات سے دور ہے اور اس میں شہوت انگیزی بھی نہیں ہوتی ۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

07/09/1424هـ

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں