فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / کام ختم ہونے سے پہلے آفس سے لوٹنا

کام ختم ہونے سے پہلے آفس سے لوٹنا

تاریخ شائع کریں : 2017-07-08 | مناظر : 1650
- Aa +

ہم چند ملازمین کا ایک گروپ ہیں جو ایک سرکاری ادارہ میں کام کرتے ہیں جس میں کام کا دورانیہ صبح ساڑھے سات بجے سے لے کر ظہر سوا دو بجے تک ہوتا ہے، ہمارا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک خاص ملازم کو کارڈ دے کر رش کی وجہ سے کام کے اختتام سے تقریبا دس منٹ پہلے نکل جاتے ہیں ، اس لئے کہ بعض اپنے بچوں کو سکول سے لے کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ملازم جس کو ہم نے اپنے کارڈ دئیے ہوتے ہیں وہ کام کے ختم ہونے کے وقت ہماری طرف سے وہ کارڈ دے دیتا ہے، لہٰذا اس کا کیا حکم ہے؟

الانصراف قبل نهاية الدوام (العمل الوظيفي)

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

یہ طریقہ کار جائز نہیں ہے اس لئے کہ اس طرح کرنے میں جھوٹ بولنا شامل ہے اور جھوٹ بولنے سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے اور علمائے امت کا جھوٹ کی حرمت پر اجماع ہے، نیز یہ اس لئے بھی ناجائز ہے کہ اس میں خیانت اور امانت کا ادا نہ کرنا پایا جارہا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے عقود کی پاسداری کرنے کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿اے ایمان والو! عقود کی کی پوری ادائیگی کیا کرو﴾ [المائدۃ: 1] اور وقت سے پہلے اس طرح نکلنے میں اللہ تعالیٰ کے اس امر کی مخالفت پائی جارہی ہے۔

اس لئے میں آپ کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں ، اور مخالفت کرنے والوں کی کثرت کی طرف نہ دیکھو بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو لازم پکڑو: ﴿اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ﴾ [التوبۃ: 119]۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

6 / 9 /1424هـ

متعلقہ موضوعات

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں