فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

البيوع / کیا یہ ضرورت سود لینے کو مباح کرتی ہے؟

کیا یہ ضرورت سود لینے کو مباح کرتی ہے؟

تاریخ شائع کریں : 2017-07-08 | مناظر : 1661
- Aa +

ایک مرتبہ مجھے بہت زیاہ مالی تنگی درپیش آئی ، اور میری والدہ نے مجھے کچھ رقم بطور قرض دی تھی اور اس کے بعد انہوں نے مجھ پر اس کے واپس لوٹانے پر بڑی تشدید اور سختی کی ، اور مجھے یکسر یہ علم نہیں تھا کہ اس قسم کی ضرورت ممنوعہ کام یعنی بینک سے قرضہ لینے کی اجازت دیتی ہے جبکہ بینک والے تو سود بھی لیتے ہیں، بہر کیف میں نے دو رکعت صلاۃ ِ استخارہ پڑھی اور بسم اللہ کرکے بینک سے قرضہ لے لیا ، اب اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے،اورکیا ضرورت کے لئے حرام کے کام میں استخارہ کرنا جائز ہے؟

هل هذه ضرورة تبيح الربا؟

حمد وثناء کے بعد۔۔۔

اس ضرورت کو ان ضرورتوں میں سے شمار نہیں کیا جاتا جو سود کو مباح کرے اس لئے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اگر وہ تنگدست ہو تو فراخی تک اسے مہلت دو﴾ [البقرۃ: 280] اسی رُو سے آپ کے لئے حرام طریقہ سے اس مال کی واپسی واجب نہیں ہے، بلکہ قرض خواہ کو چاہئے کہ وہ اچھے وقت تک کے لئے صبر اختیار کرے ، اب یہاں یہ بات علم میں رکھیں کہ اہل علم کا کہنا ہے کہ ضرورت سود کو مباح نہیں کرتی۔

اور درست یہی ہے کہ میرے خیال میں یہ باقی محرمات میں سے نہیں ہے لیکن یہ ضرور علم میں رہنا چاہئے کہ ضرورت صرف دو شرطوں کے ساتھ سود کو مباح کرتی ہے:

پہلی شرط:  ضرر دفع کرنے لئے حرام کا ارتکاب متعین کیا جائے ۔

دوسری شرط:  ضرورت کے ذریعہ حرام کردہ کام ختم ہونے کا یقین ہو ۔

باقی رہا استخارہ کا سوال تو استخارہ اس کام میں نہیں کیا جاتا جو واجب ہو اور نہ ہی حرام اور مکروہ کام چھوڑنے کے لئے کیا جاتا ہے بلکہ استخارہ تو دو خیروں کو  طلب کرنے کا نام ہے ، حرام کام سے اجتناب اور گریز واجب ہے کہ اس میں کوئی خیر نہیں ، یا خیر ہو تو لیکن اس کا دارومدار برائی پر ہو ۔

لیکن اگر استخارہ سے مراد حرام کام میں اسکی اباحت کے اسباب پایا جانا ہو یا دونوں حرام کاموں میں موازنہ مراد ہو تو پھر ان جیسے کاموں میں استخارہ مشروع ہے۔ واللہ أعلم

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں