فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / موت کے وقت اور قبر کی زندگی میں لوگوں کے حالات

موت کے وقت اور قبر کی زندگی میں لوگوں کے حالات

تاریخ شائع کریں : 2018-02-28 | مناظر : 2119
- Aa +

خطبہ اول:

تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کو صحیح اندازے سے بنایا،پھر اس کےلیے (نکلنے کا )راستہ آسان کیا،پھر اس کو موت دے کر قبر میں پہنچاے گا،پھر جب چاہے گا اس کو اٹھایا گا،پاک ہے اس کی ذات ،کیا ہی عزت اور قدرت والی ہے ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد  صلى الله عليه وسلم اس کےبندے اور رسول ہیں۔

امابعد۔۔۔

اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈرو،عمر ختم ہونے سے پہلے اپنے اعمال درست کرلو،دنیا اگرچہ تمہیں اچھی لگے لیکن اس کا آنے والا وقت جانے والا ہے ،وہ فناء کی طرف جارہی ہے عنقریب وہ ختم ہوجائے گی۔

اے ایمان والو!

یقینا تمہارے رب نے تمہیں باقی رہنے کےلیےپیدا کیا ہے فانی ہونے کےلیے نہیں ،تمہاری پیدائش کے بعد تمہیں دوسرے گھر کی طرف منتفل کرے گا،اللہ تعالی نے تمہیں اس دنیا میں بسایا ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((تا کہ اللہ تمہیں آزمائے کہ کون اچھا عمل کرنے والا ہے))پھر اس کے بعد تمہیں قبر کی زندگی میں منتقل کرے گا،جس میں تم جی اٹھنے کےدن تک رہو گے ،جیسا کہ اللہ تعالی کاارشاد ہے :((اور ان کےآگے برزخ کی زندگی ہے جی اٹھنے کے دن تک ))۔

اے اللہ کے بندوں !تمہیں قبر کی زندگی میں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا،نیک اعمال کے بدلہ میں تمہارا اکرام کیا جائے گا،اور برے اعمال کے بدلہ میں تمہاری اہانت کی جائے گی،اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈرو،اور نیک کام کرو تا کہ تم فلاح پاؤ،اکرام اور اہانت برزخ والوں کے لیے ہیں،جب موت حاضر ہوتی ہے تو روح نکلنے سے پہلے اکرام اور اہانت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کاارشاد ہے:((پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب(کسی کی )جان گلے تک پہنچ جاتی ہے ،اوراس وقت تم (حسرت سے اس کو )دیکھ رہے ہوتے ہو،اور تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں،مگر تمہیں نظر نہیں آتا اگر تمہارے حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ تم اس جان کو اپس لے آؤ،اگر تم سچے ہو؟پھر اگر وہ (مرنے والا)اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہو تو (اس کےلیے )آرام ہی آرام ہے ،خوشبوہی خوشبو ہے ،اور نعمتوں سے بھراباغ ہے ۔اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہوتو (اس سے کہا جائے گاکہ :)تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے کہ تم دائیں ہاتھ والوں میں سے ہو۔اور اگر وہ ان گمراہوں میں سے ہو جو حق کو جھٹلانے والے تھے تو (اس کے لیے )کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی ہے ،اور دوزخ کاداخلہ ہے !اس میں کوئی شک نہیں کہ بالکل صحیح معنی میں یہی یقینی بات ہے ۔لہذا(اے پیغمبر!)تم اپنے عظیم پروردگار کا نام لے کر اس کی تسبیح کرو۔))

اے ایمان والو!تم میں سے ہر ایک کو موت کے وقت اس کا حال معلوم ہوجائے گا،اس عظیم حدیث کو سن لو تاکہ تمہیں اس وقت کی سچائی کا علم ہوجائے ،براء بن عازب سے روایت ہے :”ہم ایک انصار ی کے جنازے میں آپ  صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نکلے ،ہم قبر کے پاس پہنچے ،جب اس کودفنایا گیا تو آپ  صلى الله عليه وسلم بیٹھ گئے تہم بھی و ان کے اردگرد بیٹھ گئے ،ہمارے  سروں پر  پرندے تھے ،آپ  صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس کو زمین میں گاڑرہے تھے ،آپ نے سراٹھا  کر فرمایا:قبر کے عذاب سے اللہ تعالی کی پناہ مانگا کرو،یہ بات دو یا تین دفعہ ارشاد فرمائی،پھر فرمایاکہ:مؤمن بندہ جب دنیا سے آخرت طرف جانے کی حالت میں ہوتاہے تو اس کے پاس سفیدچہروں والے کچھ فرشتے آسمان سےاترتے ہیں،جن کے چہرے سورج کی طرح ہوتے ہیں،ان کےپاس جنت کے کچھ کفن اورحنوط(مختلف خوشبوؤں سے ایک مرکب جو مردے پر غسل کے وقت ملتے ہیں)ہوتے ہیں ،یہاں تک کہ وہ مردے کےپاس تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں ،پھر موت کافرشتہ آتاہے اور وہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتا ہے ،اور کہتا ہے :اے پاک جان ،اللہ تعالی کی مغفرت اور رضامندی کی طرف نکل ،انہوں نے کہا کہ:روح ایسے نکلتی ہے جیسے کہ مشکیزہ کے منہ سے قطرہ نکلتا ہے ،پھر وہ موت کافرشتہ اس کو لیتا ہے ،جب وہ لے لیتا ہے توآنکھ جپکنے کے برابر بھی اپنے پاس نہیں رکھتا یہاں تک کہ دوسرے فرشتے اس سے لے لیتے ہیں،پھر اس کو اس کفن اورحنوط میں ڈالتے ہیں،اور اس سے وہ اس حال میں نکلتی ہے کہ اس کی خوشبودنیا میں سب سے بہترین کستوری سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ،پھر وہ فرشتے اس کو اوپرچڑھاتے ہیں،جب بھی وہ اوپر کے فرشتوں پر گذرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں :یہ کیا پاک روح ہے ؟تو وہ جواب دیتے ہیں کہ:یہ فلاں بن فلاں ہے ،اچھے نام کےساتھ جس کے ساتھ اس کو دنیا میں پکارتے تھے ،یہاں تک کہ اس کو دنیا کے آسمان تک لے جاتے ہیں،تو وہ دستک دیتے ہیں تو دروازہ کھول دیا جاتا ہے ،تو ہر آسمان میں سے مقرب فرشتے اس روح کے ساتھ پیچھے چلتے ہیں یہا ں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں،پھر اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:میرے بندے کا نامہ اعمال علیین میں لکھ دو،اور اس کو واپس زمین میں لوٹادو،کیونکہ میں نے اس کو اس زمین سے پیدا کیا تھا ،اسی کی طرف لوٹا رہا ہوں اور اسی سے دوسری بار نکالوں گا،تو اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے ،تو اس کےپاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھا کر کہتے ہیں کہ:تیرا رب کون ہے ؟وہ کہتا ہے :میرا رب اللہ ہے ،پھر وہ پوچھتے ہیں کہ:تیرا دین کیا ہے ؟وہ کہتا ہے :میرا دین اسلام ہے ،پھر وہ پوچھتے ہیں کہ:وہ آدمی کون ہے جو تمہارے پاس بھیجا گیا تھا؟وہ کہتا ہے :وہ اللہ تعالی کےرسول ہیں،پھر وہ اس سے کہتے ہیں:تیرے پا س کیا علم ہے ؟تو وہ کہتا ہے :میں نے اللہ کی کتاب پڑھی تھی ،اس پر ایمان لایا تھااور اس کی تصدیق کی تھی،تو آسمان سے ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ:میرے بندے نے سچ بولا،اس کے لیے جنت کا فرش بچادو ،جنت کے کپڑے پہنادو ،اور جنت کا دروازہ کھول دو،جس سے اس کی ہوا اور خوشبو اس کے پاس آتی ہے ،اس کے لیے اس کی قبر تاحد نگاہ کھول دی جاتی ہے ،پھر اس کے پاس خوبصورت چہرے اور کپڑوں اور اچھی خوشبو والا ایک شخص آتا ہے ،اس سے کہتا ہے :سن وہ خوشخبری جو تجھے خوش کردے ،یہ وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعد کیا جاتا تھا،پھر وہ اس کو کہتا ہے تو کون ہے ؟تیرے چہرہ تو خیر ہی لارہا ہے ،تو وہ کہتا ہے :میں تیرا نیک عمل ہوں ،پھر وہ کہتا ہے :اےرب!قیامت قائم کرو تاکہ میں اپنے گھر والوں اورمال کی طرف لوٹ جاؤں ،اورکافر بندہ جب دنیا سے آخرت کی طرف جانے کی حالت  میں ہوتا ہے ،تو اس کے پاس آسمان سے کچھ سیاہ چہروں والے فرشتے نازل ہوتے  ہیں ،جن کےپاس کھردرے کپڑے ہوتےہیں،جو اس کےپاس تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں،پھر موت کافرشتہ آجاتا ہے اور اس کے سر کےپاس بیٹھ جاتا ہے ،اس کو کہتا ہے اے خبیث جان!اللہ تعالی کی ناراضگی اور غضب کی طرف نکل جا،تو اس کی روح بدن میں پھیل جاتی ہے ،تو وہ فرشتہ اس کو ایسے نکالتا ہے جیسے سیخ گیلی روئی سے نکالا جاتا ہے ،پھر وہ فرشتہ اس کو لے لیتا ہے ،اور آنکھ جپکنے کے برابر بھی اپنے پاس نہیں رکھتا یہاں تک کہ وہ دوسرے فر شتے اس کو ان کھردرے کپڑوں میں ڈال دیتے ہیں،اور وہ روح اس کیاتنی بدبو دار ہو کر نکلتی ہے کہ اس سے زیادہ بدبو دار کوئی چیز دنیا میں نہیں ہوتی،وہ فرشتے اس کو اوپر چڑھاتے ہیں،تو اس کو اوپر کے جن فرشتوں پر بھی گذارتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ :یہ کیا خبیث روح ہے ؟تو وہ کہتے ہیں یہ فلاں بن فلاں ،سب سے برے نام کے ساتھ جس کے ساتھ اس کو دنیا میں پکارا جاتا تھا،پھر اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھولنے کا کہتے ہیں لیکن آسمان کا دروزہ نہیں کھولا جاتا ،پھر آپ  صلى الله عليه وسلم نے یہ ارشاد  فرمایا:((ان کےلیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ ہی اس وقت تک وہ جنت میں داخل ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے ))۔اس وقت اللہ تعالی فرماتے ہیں:اس کا نامہ اعمال نچلی زمین میں سجین میں لکھا جائے گا،پھر اس کی روح پھینک دی جاتی ہے ،پھر آپ  صلى الله عليه وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:((اور جو شخص اللہ تعالی کےساتھ شرک کرے گویاکہ وہ آسمان سے گرپڑا ،پھر اس کو پرندے اچک لیں یا ہوا اس کو کسی دور جگہ پر گرادے ))پھر اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے ،اور اس کےپا س دو فرشتے آتے ہیں،اس کوبٹھا کر پوچھتے ہیں،تیرا رب کون ہے ؟وہ کہتا ہے :ہائے افسوس میں نہیں جانتا،پھر وہ پوچھتے ہیں:تیرا دین کیا ہے ؟وہ کہتا ہے :ہائے افسوس میں نہیں جانتا ،پھر وہ پوچھتے ہیں :یہ شخض جو تمہارے پا س بھیجا گیا تھا کون ہے ؟وہ کہتا ہے :ہائے افسو س میں نہیں جانتا ،پھر آسمان سے ایک آواز دینے والا آواز دے گا ،اس نے جھوٹ بولا،اس کےلیے آگ کا فرش بچادو،اور آگ کی طرف دروازہ کھولو،جس میں سے اس کی گرم ہوا اور تپش آتی رہیں ،اور اس کے لیے قبر تنگ کی جاتی ہے یہا ں تک کہ اس کی پسلیا ں آپس میں مل جاتی ہیں ،اور اس کے پاس برے چہرے اور کپڑے والا ایک شخص آتا ہے اورکہتا ہے :بری خبر سن لو،یہی وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ کیا جاتا تھا،وہ پوچھتا ہے تو کون ہے ؟تیرا چہرہ تو صرف شر ہی لاتا ہے ،وہ کہتا ہے :میں تیرا خبیث عمل ہوں ،وہ کہتا ہے :اے میرے رب !قیامت قائم نہ کرو“۔

خطبہ ثانی:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں ،جو اکیلا ہے ،جس نے نہ خود بچہ جنا ہے اور نہ اس کے لیے جنا گیا ہے ،اور نہ اس کا کوئی برابر ہے ،میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں  وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد  صلى الله عليه وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں،امابعد،اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈرو،اور نیک کاموں میں کوشش کرو،بھلائی کے  کاموں کی طرف دوڑو،اور توشہ تیار کرو بیشک بہتر ین توشہ تقوی ہے ۔

اے ایمان والو!

انسان جب مرتا ہے تو اس کے بعد تین چیزیں اس کے پیچھے  جاتی ہیں دو چیزیں واپس آجاتی ہیں اور ایک چیز باقی رہتی ہے ،اس کے پیچھے اس کے اہل وعیال،مال اور عمل جاتا ہے ،اہل وعیال اورمال واپس آجاتے ہیں،اور عمل باقی رہتا ہے ،اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈرو،اور اپنے اعمال کا توشہ تیار کرو جو تمہاری وحشت کے وقت انس پیدا کریں گے،اورتمہیں نیک لوگوں کے مرتبہ میں اتاریں گے ،اے اللہ !ہم قبر کے عذاب سے تمہاری پناہ آتا ہیں ۔

أحوال الناس عند الموت وفی البرزخ

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں