فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / کافروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا

کافروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا

تاریخ شائع کریں : 2018-03-10 | مناظر : 1303
- Aa +

خطبۂ اول:

تمام تعریفیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کے لئے ہیں ، ہم سب اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں  اوراسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جس کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہدایت دیں تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں  ہےاور جس کو گمراہ کردیں تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔

امابعد۔۔۔

اے مؤمنو!

       اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو اور اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اس بہترین اُمّت میں بنایا ہے جو لوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اُمّت بہترین اُمّت ہے اور آپ ﷺ کی جماعت سب سے زیادہ باعزّت جماعت ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((حالانکہ عزّت تو اللہ ہی کو حاصل ہے، اور اُس کے رسول کو، اور ایمان والوں کو۔))

       اے مؤمنو! ہمیں عزّت اس اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی طاقت کی  مدد سے حاصل ہوئی ہے جو بڑی قوّت اور بڑے اقتدار کا مالک ہے۔ وہ رات اور دن کی ہمیشگی کی طرح  ہمیشہ کی عزّت ہے۔ اسے نہ شہری زندگی کی پسماندگی ،  نہ علمی بحث و مباحثہ، نہ فوجی شکست اور نہ مادی انحطاط اٹھا سکتا ہے، بلکہ اگر ہم نے اپنے ایمان  میں  اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی تصدیق کی اور اس کی عبادت میں سچے ہوئے تو ہم اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی وجہ سے باعزّت رہیں گے ۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((مسلمانو! تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین ہو۔ اگر تم واقعی مؤمن ہو تو تم ہی سربلند ہوگے۔))

       شاعر کہتا ہے؎

       میرا مرتبہ اور غرور زیادہ ہوگیا

              تیرے ارشاد: ’’اے میرے بندو‘‘ میں داخل ہونے کی وجہ سے

       میں اپنے پاؤں سے ثریّا ستارے کو روندنے والا تھا

              اور یہ بات بھی باعث ِ شرف ہے کہ أحمد ﷺ میرے نبی ہیں

       اُمّت محمدیہ ﷺ کی اس عزّت اور امتیاز کو پختہ کرنے  کے لئے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے ایمان والوں کو کافروں، یہودیوں، نصرانیوں، مشرکین اور ان کے علاوہ دیگر کافر اُمّتوں کی پیروی سے منع فرمادیا۔اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اہلِ اسلام کو کافروں کی مشابہت، ان کی تابعداری اوران کی فرمانبرداری  سے بھی منع فرمایا۔ اللہ ﷻ فرماتے ہیں: ((اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو)) ۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہو، اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مانو۔ بیشک اللہ بہت علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔))

       عقل والوں کے نزدیک اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کافروں کی پیروی اور ان کی مشابہت اختیار کرنا ان کی فرمانبرداری کی بہت بڑی صورتوں میں سے ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے بہت  زیادہ احادیث میں کافروں کی مشابہت سے منع فرمایا ہے۔ ان میں سے بعض احادیث یہ ہیں:    إمام أحمدؒ اور  إمام أبو داودؒ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے عمدہ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔‘‘ اس حدیث میں کافروں کی مشابہت سے بہت ڈرایا گیا ہے اور بہت نفرت دلائی گئی ہے۔ اس طرح کیوں نہ ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے کافروں کے ساتھ مشابہت کو انہیں میں سے ہونا شمار کیا ہے! ہم اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے رسوائی سے پناہ مانگتے ہیں۔

       رسول اللہ ﷺ کافروں کے ساتھ مشابہت کی سنگینی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’وہ انسان ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے علاوہ کی مشابہت اختیار  کرے۔ نہ یہودیوں کی مشابہت اختیار کرو اور نہ عیسائیوں کی۔‘‘

       اس اُمّت کی دوسری اُمّتوں سے تمییز کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بہت سارے اسلامی قوانین اور احکام کی علّت یہودیوں، عیسائیوں اور ان کے علاوہ دیگر کافر اُمّتوں کی مخالفت بیان فرمائی ہے۔ اس سے اس بات کی رہنمائی ملتی ہے کہ کافروں کی مخالفت کرنا  شریعت اور نبوّت کا مقصد ہے۔ اس کی مثال وہ ہے جو إمام مسلمؒ نے حضرت شدّاد بن أوس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتےہیں: ’’یہودیوں کی مخالفت کرو۔ وہ چپل اور جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے‘‘۔ رسول اللہ ﷺ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں: (( مشرکین کی  مخالفت کرو۔  مونچھوں کو کترواؤ اور داڑھی کو بڑھاؤ)) یہ پاکیزہ سنّت کی بہت زیادہ مثالوں میں سے تھوڑی سی مثالیں ہیں۔

       غیر مسلموں کی مخالفت کی اہمیت اور اس بات پر کہ وہ اُمّت کے بہتر ہونے بلکہ دین کی بلندی اور غلبے کا سبب ہے یہ بات دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:’’دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے، یہودی اور عیسائی افطار کو مؤخّر کرتے ہیں‘‘۔

       جو انسان اہلِ علم کے مذاہب اور آراء  کے مختلف ہونے کے باوجود ان کے کلام میں غور کرے گا وہ اچھی طرح جان لے گا کہ اس بات  میں کوئی شک اور  شبہ نہیں ہے   کہ ان کا کافروں کی مشابہت  نہ اختیار کرنے  اورلازمی طور پر ان کی مخالفت کرنے میں اجماع ہے۔ یہ  اتفاق اس بارے میں  آنے والی بہت زیادہ نصوص کی وجہ سے ہے۔

       اے مؤمنو اور وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے سلامتی والے دل کے ساتھ ملنے پر حریص ہو، وہ اس بات کو اچھی طرح سن لو جو إماموں کے پیشوا ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمائی ہے۔ ’’خلاصہ یہ ہے کہ کافروں کی مثال دِل کے مریض یا اس سے بھی زیادہ بیمار کی طرح ہے۔ جب بھی دل بیمار ہوگا تو دیگر اعضاء بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ إیمان کی درستگی اسی میں ہے کہ دِل کے مریضوں کی ان کے  کسی بھی کام میں پیروی نہ کی جائے۔  ‘‘

       اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غیر مسلموں کی ان کے ہر کام میں  مخالفت شارع علیہ السلام کا مقصد ہے۔ صرف ان کے عقائد یا ان کی عبادتوں میں مشابہت سے ممانعت نہیں ہے، بلکہ یہ ممانعت ان کی عادتوں، آداب، اخلاق اور ان کی زندگی کے تمام کاموں میں ہے۔ علّامہ ابنِ قیّم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’جس شخص نے انگریزوں کی ان کے لباس، ان کے انتظام اوران کے معاملات میں مشابہت اختیار کی تو وہ بغیر کسی شک کے انگریزاور غیر مسلم  ہے، اگرچہ وہ یہ خیال کرے کہ وہ مسلمان ہے۔‘‘

اے ایمان والو! 

باوجود اس کے کہ ایسی نصوص بہت زیادہ ہیں جو کفّار کی مشابہت سے منع کرتی ہیں، پھر بھی رسول اللہ ﷺ نے یہ خبر بیان فرمادی تھی کہ اُمّت ان کی مشابہت اور پیروی  میں پڑجائے گی۔ حضرت أبو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم ضرور اپنے سے پہلے  لوگوں کے طور وطریقوں کی اس طرح پیروی کروگے جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے برابر ہوتی ہے، حتّیٰ کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے تو تم اس میں بھی ان کے پیچھے لگوگے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ! کیا وہ یہودی اور عیسائی ہیں؟  آپ ﷺ نے فرمایا :  تو اور کون ہیں؟‘‘

       آج مشرق اور مغرب میں اُمّتِ مسلمہ کی کچھ جماعتیں شکل وصورت  اور لباس میں کافر اُمّتوں کی  نقل کررہی ہیں اور کھانے پینے کے آداب،  معاشرت اور ملنے جلنے کے طرز ، بات، معاملات اور ان کے علاوہ دیگر چیزوں میں ان کے راستہ کی پیروی کررہی ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان کے خیالات اور آراء بھی حاصل کرتی ہیں، یہاں تک کہ اُمّت ِمسلمہ کی بہت بڑی  جماعت اپنی زندگی، سوچ اور طریقوں میں مغربی زندگی اور سوچ میں ڈوب گئی ہے۔

       اس جماعت کو کافروں کی مشابہت اور ان کی پیروی کی دعوت دینے والے اسباب بہت زیادہ ہیں، لیکن ان میں سے سب سے واضح وجہ ان کی عزّت اور حقیقی سعادت کے سبب سے غفلت ہے۔  بہت سارے لوگ  جنہوں نے کافروں کی مشابہت اختیار کی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کافروں کی عزّت ،ان کی بلندی اور ان کو جو ترقی حاصل ہے اس کا سبب دین کو نظر انداز کرنا اور اس کا اہتمام نہ کرنا ہے۔ یہ لوگ أمیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطّاب رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے غافل ہیں: ’’ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اسلام کی وجہ سے عزّت دی ہے، جب بھی ہم اسلام کو چھوڑ کر عزّت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہمیں ذلیل کردیں گے۔‘‘ : (((مسلمانو!) نہ تم کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو۔ اگر تم واقعی مؤمن رہو تو تم ہی سربلند ہوگے۔))

میرا مرتبہ اور غرور زیادہ ہوگیا

              تیرے ارشاد: ’’ اے میرے بندو‘‘  میں داخل ہونے کی وجہ سے

       میں اپنے پاؤں سے ثریّا ستارے کو روندنے والا تھا

              اور یہ بات بھی باعث ِ شرف ہے کہ أحمد ﷺ میرے نبی ہیں

دوسرا خطبہ:

اے مؤمنو!

       سب سے بڑا سبب جس کی وجہ سے بہت سارے مسلمان یہودی اور نصرانی کافروں کی مشابہت اختیار کررہے ہیں وہ ان کے ساتھ ملنا جلنا اور ان کے ساتھ میل ملاقات ہے۔ ان کافروں کے ساتھ تعلّقات اس وجہ سے ہوئے ہیں کیونکہ  اس زمانہ میں روابط میں انقلاب رونما ہوا ہے جس کی وجہ سے فاصلے قریب ہوگئے ہیں اور مختلف جگہیں مل گئی ہیں یہاں تک آج دنیا کی حقیقت ایسے ہے جیسے کہا جاتا ہے: ’’ایک بستی‘‘۔   اسی طرح نشرو اشاعت کے ذرائع أجنبی ثقافت کو پھیلا رہے ہیں اور مغربی زندگی کا طریقہ جاری کررہے ہیں کہ انہی کا طرزِ زندگی  حقیقت اور مشعل راہ ہے۔ جب یہ چیز  ہوگئی تو آپس میں ٹکراؤ اور ان کے ساتھ معاملات بہت زیادہ ہوگئے۔ اس سے مسلمانوں کی زندگی اور ان کے واقعات میں کافر اُمّتوں کی مشابہت، ان کی فرمانبرداری اور ان کی پیروی کی نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔ ہم اپنے بہت سارے بھائیوں کو دیکھتے ہیں۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ انہیں ہدایت دیں۔ کہ انہوں نے مغرب اور ان کی چیزوں کو لباس وپوشاک، کھانے  پینے اور  بالوں کی ترتیب اور انہیں کاٹنے میں بھی پیشوا بنالیا ہے، یہاں تک کہ وہ افکار اور خیالات میں بھی انہی کی پیروی کرتے ہیں۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔

       اس مشکل کا حل ان سے ملنے جلنے اور مسلمانوں کے درمیان ان کے وجود میں کمی  سے ہی نکلے گا۔ کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کافروں کے  ملکوں میں ضرورت کے بغیر سفر کرے، اور اگر وہ سفر کرے تو یہ ضروری ہے کہ اس کے پاس ان کے شبہات کے بارے میں علم، إیمان، صبر اور یقین ہو جس کے ذریعہ سے وہ ان کے ممالک میں ان فتنوں اور نفسانی خواہشات سے بچ سکے جو مضبوط پہاڑوں کو بھی ہلادیتے ہیں۔

       اسی طرح ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ کافروں کی برتری کو توڑنے  کےلئے  ایک دوسرے کی مدد کریں، ہاں اگر ہم میں سے کوئی وہ کام نہ کرسکے جو وہ کررہے ہیں تو ان کی مدد حاصل کرنا مجبوری ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ ان کا ہمارے  درمیان، ہمارے گھروں، کاموں، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں زیادہ ہونا  ان کے اخلاق کو پھیلانے اور ان کی سوچ کی اشاعت میں گہرا اثر رکھتا ہے۔   

التشبه بالكفار 

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں