فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / اچھے اخلاق

اچھے اخلاق

تاریخ شائع کریں : 2018-03-10 | مناظر : 1767
- Aa +

خطبہ اول:

تمام تعریفیں اللہ تعالی کےلیے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتےہیں،جس کو اللہ تعالی ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ،اور جس کو اللہ تعالی گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

امابعد۔۔۔

اے ایمان والو!اپنے رب سے ڈرو اور تقوی والے اعمال کرو،بیشک اللہ تعالی کے تقوی کی کچھ نشانیاں ہیں  جن کےبغیر تقوی مکمل نہیں ہوتا ،اے اللہ کے بندوں !ان میں سےاچھے اخلاق اور نیک عادتیں بھی ہیں،آپ ﷺ کے بعثت کے مقاصد میں سے اچھے اخلاق کو مکمل کرنا بھی ہے ،اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس کو بھیجا تھا جب نبیوں کے آنے کا زمانہ منقطع تھا ،تا کہ آپ کے ذریعہ اچھے اخلاق کی تکمیل کی جائے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ  ﷺ سے یہ نقل کرتے ہیں کہ:”مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں اچھے اخلاق کو مکمل کروں “۔

اللہ تعالی نے نفسوں کو پاک کرنے اور درست کرنے کا ذریعہ اچھے اخلاق کو بنایا ہے ،نفسوں کو پاک کرنا آپ ﷺ کی نبوت کے مقاصد میں سے ہے ۔اللہ تعالی کاارشاد ہے: ((تحقیق اللہ تعالی نے مؤمنوں پر احسان کیا کہ ان میں ایسے پیغمبر کوبھیجاہے جو ان ہی میں سے ہیں ،ان پر اللہ کے آیات  پڑھتے ہیں ،ان کو پاک کرتے ہیں،اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم کرتے ہیں،اور وہ لوگ اس سے پہلے واضح گمراہی میں تھے ))۔

اے ایمان والو!

اس مبارک شریعت میں اخلاق  کا مرتبہ بہت بڑا ہے ،اس کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اللہ تعالی کے اور بندوں کی حقوق ادا کرنا،جتنا آپ اچھے اخلاق پر ثابت قدم رہیں گے اتنا آپ دین پر ثابت قدم رہیں گے۔

اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی سچائی قرآ ن کی  بڑی آیتوں میں سے ایک آیت میں بیان کی ہےکہ:((اور یقینا آپ ہی عظیم اخلاق پر فائز ہیں ))عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ:اس سے مراد عظیم دین ہے ۔

آپ ﷺ نے اچھے اخلاق کو کامل ایمان کے دلائل میں شمار کیاہے ،آپ ﷺ کاارشاد ہے :”مسلمانوںمیں سے کامل مؤمن وہ ہے جس کے اخلاق ان میں سے سب سے اچھے ہیں“۔

اے ایمان والو!اچھے اخلاق انبیاء ،صدیقین اور نیک لوگوں کی صفات میں سے ایک صفت ہے ،جس کے ذریعہ انسان بلند درجہ اور مقام حاصل کرسکتا ہے ،یہ دین کے واجبات میں سے ایک واجب ہے ،اور شریعت کےفرائض میں سے ایک فرض ہے ،جس کا آپ  ﷺ نے حکم کیا ہے ،ابوذر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:”تم جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرو،اور گناہ کےبعد نیکی کر و تاکہ اس گناہ کو مٹا دے ،اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ“۔

اے ایمان والو!

اچھے اخلاق اور نرم مزاجی سے بہت سارے فضائل قرآن اور حدیث میں اور بزرگوں کے کلام میں وار د ہوئے ہیں۔

اچھے اخلاق کےفضائل میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کا حکم کیا ہے ،اللہ تعالی کاارشادہے: ((درگذر کو پکڑوں،بھلائی کاحکم کرو اور جاہلوں سے اعراض کرو))یہ آیت اچھے اخلاق کی فضیلت کےبارے میں سب سے بڑی آیت ہے ۔

اچھے اخلاق کے فضائل میں سے یہ ہے کہ:آپ ﷺ کی پیروی کی جائے ،جو دنیا اور آخر ت میں ہر بھلائی،کامیابی،اور نیک بختی ہے ۔آپ ﷺ لوگوں میں سے سب سے اچھے اخلاق والے اور سب سے نرم مزاج تھے ،اللہ تعالی کاارشاد ہے: ((یقینا آپ ہی بلند اخلاق پر فائز ہیں ))۔

اے ایمان والو!اچھے اخلاق میں سے یہ ہے کہ انسان ا س کے ذریعہ سے دن کو روزہ رکھنے والوں اور رات کو نماز پڑھنے والوں کے درجے تک پہنچ جاتا ہے ،آپ ﷺ کاارشاد ہے :”بندے اچھے اخلاق کے ذریعہ سے دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کونماز پڑھنے والے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے “۔

اےایمان و الو!اچھے اخلاق کے فضائل میں سے یہ ہے کہ:وہ قیامت کے دن انسان کے نامہ اعمال کو بھاری کریں گے ،مسند امام احمد میں آپ ﷺ کاارشاد ہے :”قیامت کے دن ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ کوئی وزن والی چیز نہیں ہوگی“۔

اے ایمان والو!

اچھے اخلاق کے فضائل میں سے یہ ہے کہ یہ قیامت کے دن آپ ﷺ کے قرب کا ذریعہ ہوں گے ،صحیح ابن حبان میں آپ ﷺ کاارشاد ہے :”سن لو!میں تمہیں بتاتاہوں کہ قیامت کے دن مجھے سب سے محبوب اور سب سے قریب تم میں سے وہ گا جس کے اخلاق اچھے ہوں گے “۔

اے اللہ کے بندوں !آدمی کو صرف نماز اور روزوں کی وجہ سے نہیں پرکا جاتا بلکہ اس کے اخلاق اور عادات کو بھی دیکھا جائے گا،عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے  کہ:آپ ﷺ بے ہودہ گفتگو کرنے والے نہیں تھے ،آپﷺ کہا کرتے تھے کہ:”تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہو“۔

اے ایمان والو!

یہ اچھے اخلاق کے بعض فضائل ہیں ،اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو صر ف یہ  فضیلت بھی کا فی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ:جس کے اخلاق اچھے ہوں گے اس کوجنت میں بلند درجہ ملنے کی میں ذمہ داری لیتا ہوں ،سنن ابو داؤد میں آپ ﷺ کاارشاد ہے :”جس کے اخلاق اچھے ہو ں  اس کو میں جنت کے بلند درجہ میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں “۔

اے ایمان والو!اپنے اخلاق اچھے کرو تاکہ یہ فضائل،بلند درجات اور مکمل بدلہ حاصل کرسکو،جس نے مندرجہ ذیل کلام کہا ہے اس نے سچ کہاہے :

اگر مجھے تمام فضائل حاصل کرنے کا اختیار دیاجائے تو میں اچھے اخلاق کے علاوہ اور فضیلت اختیار نہ کروں۔

اے اللہ !ہمیں نیک اعمال اور اخلاق کی ہدایت فرما،بیشک نیک اعمال کی ہدایت صر ف آپ کرسکتے ہیں اور بد اعمال صرف آپ پھیر سکتے ہیں۔

خطبہ ثانی:

اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈرو،اور اپنے اخلاق اچھے کرلو،اللہ کا تقوی اور اچھے اخلاق اکثر لوگوں کو جنت میں داخل کریں گے ۔

اے ایمان والو!جان لو کہ جن  اچھے اخلاق پر مذکورہ ثواب اور فضائل ملیں گے ان سے وہ اچھے اخلاق مراد ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے ہو ،اور جن میں ظاہر باطن کے مطابق ہو،جیسا کہ آپ ﷺ کاارشاد ہے ”تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب  تک جو چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے وہ اپنے بھائی کےلیے پسند نہ کرے “۔

اے ایمان والو!وہ اچھے اخلاق مطلوب ہیں جن میں ظاہر کی سلامتی اور باطن کی پاکیزگی ہو،بیشک تمام اخلاق کا مجموعہ قرآن پاک کی ایک آیت میں آگیا ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے :((آپ درگذر کو پکڑیں ،بھلائی کا حکم کریں اور جاہلوں سے اعراض کریں ))۔جس شخص نے اس آیت پر عمل کرلیا اس نے اچھے اخلاق کو جمع کرلیا۔

جن میں خیرپہنچانے کا حکم ہے اور تمام لوگوں تک نفع پہنچانا بھی شامل ہے ۔

جن میں گناہوں سے بچنے پر ابھارنا اور لغزشوں سے در گذرکرنا شامل ہے ۔

جن میں نیکیوں کا گناہوں  کے ساتھ مقابلہ کا حکم ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے کہاہے کہ:لوگوں کےساتھ اچھے اخلاق کا مجموعہ یہ ہے کہ آپ  اس کے ساتھ سلام یااکرام کے ساتھ صلہ رحمی کریں جس نے آپ کےساتھ قطع رحمی کی ہے ،اس کے لیے دعاءاور استغفار کریں ،اس کی تعریف اور ملاقات کریں ،جو آپ کو محروم کردے آپ اس کو تعلیم اور فائدہ اورمال دیں،جو آپ پر خون،مال اور عزت وآبرو میں ظلم کرے آپ اس سے در گذر کریں ۔

اے ایمان والو!

سب سے بڑی وہ چیز جس کے ساتھ تم اپنے اخلاق کو پاک،اپنی عادات کو ستھرااور درست کرسکتے ہوں وہ اللہ تعالی کی کتاب ہے ،جس کےاخلاق سب سے پاکیزہ،سب سے بلند ،سب سے افضل اور سب سے ستھرے ہیں ،اللہ تعالی نے آپ ﷺ کے اخلاق بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :((یقینا آپ ہی بلند اخلاق پر فائز ہیں ))۔

حضرت عائشہ سے آپ ﷺ کے اخلاق کےبارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے  وہ جواب دیا تو شافی اورکافی ہے ،انہوں نے فرمایا:آپ کے اخلاق قرآن ہیں،آپ ﷺ بے ہودہ گو،بازاروں میں شور کرنے والے  نہیں تھے ،برائی کےساتھ بدلہ نہیں دیتے تھے ،بلکہ درگذر اور معاف کرتے تھے ،یہ حضرت عائشہ نے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کہا تھا۔

انس بن مالک رضی اللہ نے کہاہےکہ:”میں نے دس سال آپ ﷺ کی خدمت کی ہے کبھی آپ نے مجھے اف نہیں کہا ،اگر میں کوئی کام کیا تو کبھی آپ نے نہیں کہا کہ یہ تم نے کیوں کیا؟یا کوئی چیز میں نے چھوڑ ی تو آپ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تم نے کیوں کیا ؟آپ ﷺ تمام لوگوں سے اچھے اخلاق والے تھے “۔

اے اللہ کے بندوں !بہترین اخلاق وہ ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں ،اے ایمان والو!قرآن کی تلاوت ،یادکرنے ،اس کے علم اور اس پر عمل کرنے کو لازم پکڑو۔

اپنے نبی ﷺ کی سنت کی پہچان اور ان کے اخلاق کو اختیار کرو،کیونکہ آپ ﷺ کے اخلاق ہی سب سے بہتر ین ہیں ۔

اے اللہ !آپ بلند اخلاق کو پسند کرتے ہیں اور برے اخلاق کو ناپسند کرتے ہیں،اے اللہ !ہمیں اچھے اخلاق اور اعمال کی توفیق عطافر ما اور برے اخلاق سے محفوظ فرما۔

اے اللہ !ہم برے اخلاق،خواہشات  اور اعمال سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں۔

خطبة: حسن الخلق

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں