فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / والدین کےساتھ حسن سلوک

والدین کےساتھ حسن سلوک

تاریخ شائع کریں : 2018-03-10 | مناظر : 886
- Aa +

خطبہ اول:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مددچاہتے ہیں،جس کو اللہ تعالی ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ،اور جس کو اللہ تعالی گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اور محمد ﷺ اس کےبندے اور رسول ہیں ۔

اےایمان والو!اللہ سے ڈرو،جان لو کہ اللہ کا تقوی اس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک تم ان واجبات اورحقوق کو حاصل نہ کرو جو اللہ نےتم پر فرض کیے ہیں ،اور ان  نافرمانیوں سےاجتناب نہ کرو جن سے اللہ تعالی نے تم کو روکا ہے ۔

اے ایمان والو!

بیشک والدین کےساتھ حسن سلو ک  ان احکام میں سب سے زیادہ تاکید والا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حکم کیا ہے ،اور کیسے نہ ہو؟جبکہ اللہ تعالی نے ان کےحق کو اپنےحق کے ساتھ ملایا ہے اور ان کے شکر کو اپنے شکر کے ساتھ ملایا ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے :((اللہ کی عبادت کرو اور اس کےساتھ کسی کو شریک مت ٹھراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو))ایک اورجگہ پر اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کر میری طرف ہی لوٹنا ہے))۔

ہمارے دین میں بہت ساری احادیث ایسی ہیں جو والدین کےساتھ حسن سلوک کے درجے کو واضح کرتی ہیں،جو والدین کےساتھ حسن سلوک پر ابھارتی ہیں ،اورجو ان کی نافرمانی سے منع کرتی ہیں،بعض ان میں سے درجہ ذیل ہیں ،بخاری اور مسلم  میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:”میں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے؟تو آپ ﷺ نے فرمایا :اپنےوقت پر نماز پڑھنا ،پھر میں نےپوچھا اس کےبعد کونساہے؟تو آپ نے فرمایا:والدین کےساتھ حسن سلوک کرنا،پھر میں نےپوچھا کہ  اس کےبعد کونسا ہے ؟توآپ نےفرمایا:اللہ کےراستے میں جہاد کرنا “۔

بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے بھی روایت ہے کہ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر جہاد میں جانے کی اجازت لے رہا تھا تو آپ نے فرمایا :”کیا آپ کے والدین زندہ ہیں ؟اس نے کہا جی ہا ں ،تو آپ نے فرمایا:ان میں جہاد کرو“۔

ان سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ ﷺ  نے فرمایا:”اللہ تعالی کی رضامندی والدین کی رضامندی میں ہے ،اور اللہ تعالی کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے “۔

اےایمان والو!

والدین کا فضل بڑا ہے ،ان کا احسان اول اور عظیم ہے ،اپنے بچپن میں ان کی رعایت اور بچپن کی کمزوری یادکیا کرو۔

اے اللہ کےبندے!آپ کی والدہ  نے نو مہینے آپ کو اپنے پیٹ میں رکھا ،کمزوری پر کمزوری برداشت کی،مشقت کےساتھ تجھے اٹھایا اور مشقت کےساتھ تجھےجنا،اے اللہ کےبندے !اللہ کی قسم:

کتنی راتیں انہوں نےتیرے بوجھ کے ساتھ گذاری کہ تو روتا  ہوا شکایت کرتا تھا

اگر تو ولادت کی مشقت کے وقت کوجان لیتا  ،کتنے  ہیں جن سے دل  ڈر ہیں

کتنی دفعہ تیری والدہ بھوکے رہ کر تجھے اپنی طاقت دی،تجھ پر ڈرتے ہوئے جب تو بچہ تھا۔

یہ تیری والد ہ کا حال تھا۔

اے بھائی!اپنے والد کی محنت ،کوشش،نقل وحرکت اور سفر کو بھی یاد کر،انہوں نے آپ کی معیشت کی خاطر کتنے خطرات اور مشقتیں برداشت کی ،اگر تو بھول گیا ہے تو ان کا آپ کے ساتھ مصروف ہونا ،آپ کی اصلاح کی فکر کرنا ،آپ کے مستقبل  کے بارے میں پریشان ہونا مت بھولنا۔

جی ہاں اے معزز بھائی!یہ دونوں تیرے والدین ہیں ،کیا یہ تیرے حسن سلوک،توجہ اور مہربانی کے مستحق نہیں ہیں ؟کیوں نہیں یہ تو بڑے حقوق میں سے ہیں ۔

اے ایمان والو!

ہمیں جو بات والدین کے ساتھ حسن سلو ک پر ابھارتی ہے وہ فضائل ہیں جو اللہ تعالی نے بتائے ہیں ۔

ان فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ:والدین کے ساتھ حسن سلوک جنت  میں داخل ہونے کاسبب ہے ،صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :”اس شخص کی ناک کٹ جائے ،اس شخص کی ناک کٹ جائے ،اس شخص کی ناک کٹ جائے جو اپنے والدین دونوں یا ان میں سے ایک کو پائے پھر وہ اس کو جنت میں دخل نہ کریں “۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ مصیبتیں دور ہوتی ہیں اور دعائیں قبو ل ہوتی ہیں ،ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم سے پہلے لوگوں میں سے تین لوگ چلے گئے یہاں تک کہ ایک پہاڑ میں پناہ  لے کر داخل ہوگئے ،تو پہاڑ سے ایک چٹان گر کر اس نے غار کا منہ بند کردیا،تو انہوں نے کہا :اس چٹان سے اور کوئی چیز تمہیں پناہ نہیں دے سکتی سوائے اس کے کہ تم اپنے نیک اعمال کے ذریعہ سے اللہ تعالی سے دعاکرو،ان میں سے ایک نے کہا :اے اللہ میرے دو بوڑھے والدین تھے ،میں شام کو  ان سے پہلے اپنے اہل و عیال کو دودھ نہیں پلاتا تھا،ایک  دن رزق کی تلاش میں ،میں دور چلاگیا جب میں پہنچا تو میرے والد ین سوگئے تھے ،میں نے ان کےلیے دودھ دھویا لیکن جب میں ان کےپاس گیا تو وہ سو چکے تھے ،میں نے یہ ناپسند سمجھا کہ ان سے پہلے اپنے اہل و عیال کو پلاؤں ،تو میں برتن ہاتھ میں پکڑ کر کھڑا ہوگیا ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور دونوں جاگ گئے اور انہوں نے دودھ پی لیا،اے اللہ اگر میں نے یہ کام تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو آپ ہم سے یہ چٹان ہٹا دیں ،تو تھوڑی سی چٹان ہٹ گئی لیکن اس سے نکل نہیں سکتے تھے ۔

آپ ﷺ نےفرمایا کہ دوسرے نے کہا :اے اللہ میری ایک چچا کی بیٹی تھی جس کے ساتھ میں سب سے زیادہ محبت کرتا تھا ،میں نے اس سے خواہش پوری کرنے کا ارادہ کیا  اس نے مجھے منع کیا ،اس کے بعد ایک یا دو سال گذر گئے ،پھر میرے پاس آگئی تو میں نے اس کو ایک سو بیس دینار دیئے  اس شرط پر کہ وہ مجھے خواہش پوری کرنے دےگی ،وہ اس پر راضی ہوگئی،جب میں نے اس پر قدرت حاصل کی تو وہ کہنے لگی کہ تم اس مہر کو بغیر حق کے مت کھولو،تو میں وہاں سے نکلا حالانکہ وہ مجھے سارے لوگوں میں سے زیادہ محبوب تھی،اور جو سونا میں نےاس کو دیاتھا وہ بھی چھوڑ دیا،اے اللہ اگر وہ کام میں نے تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہم سے یہ مصیبت دور کردیں   تو وہ چٹان کچھ اور ہٹ گئی لیکن وہ اس سے نکل نہیں سکتے تھے ۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیرے شخص نےکہا کہ اے اللہ میں نے کچھ مزدور اجرت پر رکھے ہوئے تھے ان میں سے ایک شخص کے علاوہ باقی کو میں نے ان کی اجرت دےدی،وہ ایک شخص اپنی اجرت چھوڑ کر چلا گیا،میں نے اس کی اجرت کاروربار میں لگائی  تو وہ بہت بڑھ گئی،کچھ مدت بعد وہ شخص آیا  اس نے مجھے کہا کہ اے اللہ کےبندے !مجھے اپنی اجرت دے دو میں نے کہا :سامنے جو بھی آپ اونٹ،گائے ،بکریاں اور غلام دیکھ رہے ہیں یہ سب کچھ آپ کا ہے ، اس نے کہا :اے اللہ کے بندے !میرے ساتھ مذاق نہ کر،میں نے کہا:مذاق نہیں کررہا ،اس نے وہ سب کچھ لے لیا کچھ بھی نہ چھوڑا ،اے اللہ اگر وہ میں نے آپ  کی رضا کےلیے کیا تھا تو ہم سے یہ مصیبت ہٹا دیں ،تو چٹان اور سرک گئی اور وہ تینوں باہر نکل گئے “۔

والدین کے حسن سلوک میں کی فضیلتوں میں سے یہ بھی ہے کہ :اس سے رزق اور عمر میں وسعت آتی ہے ،صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے  حضر ت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جو چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی پیدا کی جائے اور اس کےگناہ مٹادیے جائیں تو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے “اور والد ین کے ساتھ حسن سلوک   صلہ رحمی کی صورتوں میں سے سب سے بڑی صورت ہے ”۔

والد کے ساتھ حسن سلو ک کی فضیلتوں میں سے یہ بھی ہے کہ:ان کی نافرمانی کے بارے میں بہت ساری احادیث میں وعید آئی ہے ،اگر ان میں صرف ایک ہوتی تو وہ بھی کافی تھی یعنی والدین کے نافرمان پر جنت حرام ہے ،صحیح بخاری اور مسلم میں  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد نے فرمایا:”قطعی رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا“۔

اے ایمان والو!

ان کی نافرمانی میں سے وہ مصیبتیں اور تکالیف  جو وہ برداشت کرتے ہیں  اگر اور وعیدیں نہ بھی ہوتیں تو صرف یہی کافی تھیں ،اللہ تجھے برکت دے ان آوازوں کو سن لو جو ایسے والد نے دی ہیں جس کی اولاد نے نافرمانی کی تھی ،والد نے اپنے اس نافرمان بیٹے کو مخاطب کرکے کہاہے:

میں بڑھاپے کی انتہاء اور اس عمر کو پہنچا ہوں جس میں تم سے امیدیں وابستہ تھیں

تو نے مجھے اس کا بدلہ بد خلقی اور سختی دیا گویاکہ تو ہی انعام اور احسان کرنے والا ہے

تو نے والدین کے حقوق کی رعایت نہیں کی کاش کہ تو ایسا ہی کرتا جیسا کہ پڑوسی کرتے ہیں

تو نے مجھ پر پڑوسی کے حق کو ترجیح دی اور اپنے مال کےساتھ مجھ پر بخل کیا۔

اے ایمان والو!

اللہ سے ڈرو،والدین کے ساتھ حسن سلو ک کے بارےمیں اللہ تعالی نے جو کچھ تم پر فرض کیا ہے اس کو ادا کرو،ان کا حق تم پر بہت بڑا ہے ،ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پا س آ کر کہنے لگا کہ میری والدہ بوڑھی ہو چکی ہے  ،وہ  اپنی ضروریات ادا نہیں کرسکتی  ،میری پشت ان کےلیے سوار ی ہے ،کیا میں نے ان کاحق ادا کردیا؟عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نہیں ،وہ بھی تو آپ کےساتھ اس طرح کرتی رہی ہیں  ،وہ تو آپ کی بقاء چاہتی تھیں  ،اور آپ ان کی جدائیگی چاہتے ہیں،لیکن آپ احسان کررہے ہیں او راللہ تعالی احسان کرنے والوں کو ان کے احسان کابدلہ دیتا ہے چاہے قلیل ہو یا کثیر۔

خطبہ ثانی:

اما بعد۔۔۔

اے ایمان والو!

بیشک والدین کے کچھ حقوق اور واجبات ہیں ،ان میں سے بعض میں آپ کےسامنے ذکر کروں گا،اس امید سے کہ اس سے نیک عمل اور حسن سلو ک کا جذبہ پیدا ہوجائے ،بیشک دین کی شریعتوں ،اخلاق کے بلندی اور عقل کی ضروریا ت میں سے یہ بات ہے کہ احسان کا بدلہ احسان کےساتھ دیا جائے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:  ((احسان کا بدلہ صرف احسان ہے ))۔

تجھ پر والدین کےحقوق یہ ہیں کہ :ان سے محبت اور احترام برابر کرو ،امام بخاری نے الادب المفرد میں نقل کیا ہے کہ ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو دیکھا ،ان میں سے ایک سے کہا :یہ آپ کا کیا لگتا ہے ؟اس نے کہا یہ میرے والد ہیں ،انہوں نے فرمایا کہ:”ان کو نام سے مت پکارو،ان کے آگے مت چلو اور ان کےسامنے مت بیٹھو“۔

ان کےساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ:ان کےساتھ بات اور عمل میں احسان کیا جائے ،اللہ تعالی کاارشا د ہے : ((اور والدین کےساتھ احسان کرو))۔ان کے حقوق میں سے یہ ہے کہ زندگی میں اور موت کےبعد ان کے لیے دعاء کی جائے ،اللہ تعالی کاارشاد ہے:  ((اور آپ کہہ دیجیے اے میرے رب ان پر رحم کیجیے جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری تربیت کی تھی))۔ ایک حدیث میں ہے:”بیشک آدمی جنت میں بلند درجوں پرچڑھتا ہے  تو کہتا ہے کہ:یہ درجہ مجھے کیسے ملا؟تو کہا جاتا ہے کہ:تیری اولاد کےتیرے لیےاستغفار کرنے کی وجہ سے “۔

ان کے حقوق میں سے یہ ہے کہ ان کے تعلق والوں کےساتھ صلہ رحمی کی جائے ،عبد اللہ بن عمر رضی اللہ آپ سے نقل کرتے ہیں:”سب سے زیادہ حسن سلوک یہ ہے کہ اپنے والدین کے تعلق والوں کےساتھ صلہ رحمی کی جائے “۔

والدین کے حقوق میں سے یہ ہے کہ:ان پر خرچ کرنا جب ان کو خرچ کی ضرورت ہو،شیخ الاسلام ؒ نے کہاہےکہ:”خوشحال شخص کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ اپنے والد ،ان کی بیوی ،اپنے چھوٹے بھائیوں پر خرچ کرے اگر ایسا نہیں کرے گا تو نافرمان سمجھا جائے گا،قطع رحمی کرنے والا ہوگا  اور دنیا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا“۔

ان کےحقوق میں سے یہ ہے کہ ان کےسامنے عاجزی کرنا ،اور ان کے سامنے کندھے جھکانا ،اللہ تعالی کاارشاد ہے: ((اگر ان  میں سے ایک یا دونوں آپ کے  پاس بڑھاپے کو پہنچ جائے  تو ان کو اف مت کہنا اور مت جھڑکنا اور ان سے اچھی بات کہنا ،اور ان کےلیے تابعداری کے کندھے  جھکاؤ نیازمندی سے اور کہو کہ اے رب ان پر رحم کیجیے جیسا کہ بچپن میں انہوں نے ہماری تربیت کی تھی))۔

ان کےحقوق میں یہ ہے کہ ان کی وصیت نافذ کرنا ،سنن ابی داؤد میں ہے کہ ایک شخص  نے یا رسول اللہ !کیا والدین کی موت کے بعد ان کےحسن سلوک کی کوئی چیز باقی رہتی ہے ؟تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جی ہاں ان کے لیے دعاء کرنا ،ان کی وصیت نافذ کرنا  اور وہ صلہ رحمی کرنا جو صرف ان کے ذریعہ ہوتی ہے “۔

اے ایمان والو!یہ بعض وہ حقوق ہیں جو والدین کے ساتھ حسن سلوک کےبارے میں اللہ تعالی نےفرض کیے ہیں ،جو شخص یہ حقوق ادا کرے وہ یہ گما ن نہ کرے کہ میں نے والدین کے حقوق کا بدلہ ادا کردیا ،آپ ﷺ کا ارشاد ہے:  ”کوئی بیٹا اپنے والد کا حق ادا نہیں کرسکتا مگر یہ کہ جب اپنے والد کو غلام پاکر خریدے اور پھر آزاد کرے “،حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک یمنی شخص کو بیت اللہ کے قریب دیکھا کہ اپنی والدہ کو پشت پر اٹھایا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے :میں ان کاتابعدار اونٹ ہوں اگر اس کی سوار ی گھبرا جائے تو میں نہیں گھبراؤ ں گا۔

پھر کہا اے ابن عمر!آپ کی کیا رائے ہے کیا میں نے ان کا بدلہ دے دیا ؟انہوں نے فرمایا:نہیں ،ولادت کے وقت انہوں نے جو چیخیں ماری تھیں تم نے  ان میں سے ایک کا  بدلہ بھی ادا نہیں کیا۔

اے اللہ !آپ نے مجھ پر جو والدین کےحقوق فرض کیے ہیں ان کو ادا کرنے کی توفیق فرما۔

خطبة: بر الوالدين

پچھلا موضوع
اگلا
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں