فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / پڑوسی کا حق

پڑوسی کا حق

تاریخ شائع کریں : 2018-03-11 | مناظر : 987
- Aa +

خطبۂ اول:

تمام تعریفیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کے لئے ہیں ، ہم سب اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں  اوراسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جس کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہدایت دیں تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں  ہےاور جس کو گمراہ کردیں تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔

امابعد!

اے مؤمنو، اللہ کے بندو!

        اس مبارک شریعت میں ہم پر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ  کی نعمتوں میں سے  ایک نعت یہ ہے کہ اس نے مؤمنین کے دلوں کو آپس میں ملایا،منتشر دلوں کو اکھٹا اور  بکھرے ہوئے شیرازے کو جمع کیا۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے آپس کےاتحاد کو یقینی بنانے کےلئے شریعت جاری کی اور حدود مقرر کیں۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے مؤمنین پر ایک دوسرے کے ایسے حقوق اور واجبات فرض کئے جو ان کے درمیان اصلاح کریں، ان کے دلوں کو اکھٹا اور ان کے سینوں کو آپس میں ملائے رکھیں۔ شریعت کے انہی احکامات میں سے پڑوسی کا حق بھی ہے۔

مؤمنو!

        ایک پڑوسی کا دوسرے پڑوسی پر حق واضح آیات اور ایسی احادیث جو کہ مضبوط شریعت اور معتدل سنّت ہیں ان سے تاکید کے ساتھ ثابت ہے۔  اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص اور راہ گیر کے ساتھ،  اپنے غلام باندیوں کے ساتھ (اچھا برتاؤ رکھو) بیشک اللہ کسی اترانے والے  شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔))

        اس آیت مبارکہ میں ہر قسم کے پڑوسی کے حق میں وصیّت ہے چاہے وہ قریبی ہو یا دور کا ہو، مسلمان ہو یا کافر ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کے حق کے بارے  میں بہت ہی زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ صحیحین کی حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتےہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جبریل مجھے پڑوسی کے حق کے بارے میں اس قدر  وصیّت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔ ‘‘

         یہ حدیث پڑوسی کے حق کے بارے میں بہت پختہ ہونے پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ حضرت جبریل علیہ السلام کےبے انتہاء اشتیاق اور ان وصیّتوں کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ یہ سمجھنے لگے تھے  کہ پڑوسی کا میراث میں سے حصّہ ہوسکتا ہے۔

مؤمنو!

        پڑوسی کے حقوق بے شمار اور بہت زیادہ ہیں۔  ان حقوق کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ تین بڑے حقوق کے درمیان گھومتے ہیں:

        (۱) ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا۔(۲) انہیں تکلیف پہنچانے سے بچنا۔ (۳) ان کی تکلیفوں کو برداشت کرنا۔

        پہلا حق، یعنی پڑوسیوں کےساتھ احسان کا معاملہ کیاجائے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اس کا اپنی کتاب میں حکم دیا ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:   ((اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی (کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرو)۔))

        صحیح مسلم کی حدیث حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتےہیں کہ: رسول  اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان  کا معاملہ کرے۔‘‘

        رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کے اکرام کا بھی حکم دیا ہے اور اسے إیمان کے لوازمات میں سے شمار فرمایا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کااکرام کرے۔‘‘

اے مؤمنو!

        پڑوسیوں کے ساتھ احسان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ان کے بارے میں اپنے دل کو صاف رکھا جائے اور ان کے لئے بھلائی کو پسند کیا جائے۔ صحیح مسلم کی حدیث حضرت أنس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتےہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس وقت تک کوئی بندہ کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے پڑوسی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘

        اس حدیثِ مبارکہ میں پڑوسی کے حق کی بہت تاکید ہے اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ شخص جو اپنے پڑوسی کے لئے وہ چیز پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے تو اس کا إیمان ناقص ہے۔ پڑوسی چاہے قریب کا ہو یا  دور کا، اس حدیثِ مبارکہ میں اس  کے  لئے  دل میں بُرائی چھپانے کے بارے میں بہت ڈرایا گیا ہے اور بہت نفرت دلائی گئی ہے۔

مؤمنو!

        پڑوسی کے حق میں سے اسے بھلائی پہنچانے پر بہت حریص ہونا  بھی ہے ، چاہے وہ بھلائی تھوڑی ہو یا زیادہ، جیسا کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((ہر وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق نفقہ دے۔ اور جس شخص کے لیے اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہو، تو جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے وہ اسی میں سے نفقہ دے، اللہ نے کسی کو جتنا دیا ہے، اس پر اس سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ کوئی مشکل ہو تو اللہ اس کے بعد کوئی آسانی بھی پیدا کردے گا۔))

        صحیح بخاری اور صحیح مسلم  میں حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کو حقیر نہ سمجھے،  اگرچہ وہ بکری کے کھر ہی بھیجے۔‘‘ فرسن الشاۃ سے مراد بکری کا کھر ہے۔

        علّامہ ابنِ حجر رحمہ فرماتے ہیں کہ: مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت اپنی پڑوسن کو ایک چھوٹی سی چیز بھی ہدیہ بھیجنے کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ وہ ایسی چیز ہدیہ بھیجے جس سے عام طور سے فائدہ حاصل نہیں کیا جاتا۔‘‘

        مقصد یہ ہے کہ پڑوسیوں کے درمیان بھلائی، محبّت اور نیکی کا تعلّق رہنا چاہئے۔

        صحیح مسلم کی حدیث حضرت أبوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اے أبو ذر! جب تم  گوشت پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ کردو اور اپنے پڑوسی کے پاس بھی کچھ بھجوادو۔‘‘

        پڑوسیوں میں سے تمہارے احسان کا سب سے زیادہ حق  دار وہ پڑوسی ہے جو تمہارے دروازے کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا  کہ: ’’اے اللہ کے رسول! اگر میری دو پڑوسنیں ہوں تو میں ان میں سے کس کی طرف ہدیہ بھیجوں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اس پڑوسن کی طرف ہدیہ بھیجو جو تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہو۔‘‘

        پڑوسی کا دوسرا حق اسے تکلیف پہنچانے سے بچنا ہے ۔ صحیحین کی حدیث حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔‘‘

        صحیحین کی ہی حدیث حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: اللہ کی قسم مؤمن نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم مؤمن نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم مؤمن نہیں ہوسکتا۔ آپ ﷺ سےپوچھا گیا کہ کون؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ شخص جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔‘‘ مطلب یہ کہ اس کی طرف سے نقصان پہنچنے سے پُرامن نہ ہو۔مسلم ہی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’وہ شخص جنّت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کے شر سے بچا ہوا نہ ہو۔‘‘

        ان باتوں میں پڑوسی کے حق کی عظمت اور  اسے تکلیف پہنچانے سے بچنے کا لازم ہونا  ثابت ہوتا ہے اور یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسے نقصان پہنچانا بہت بڑے گناہ اور عظیم معصیت میں سے ہے۔

        اللہ ﷻ نے پڑوسی کو تکلیف پہنچانے کی صورت میں بہت بڑی اور بہت سخت سزا بیان فرمائی ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ سب سے زیادہ بڑا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ: تم اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: پھر کون سا گناہ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ: تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ میں نے پوچھا کہ: پھر کون سا گناہ؟ آپﷺ نے فرمایا کہ: تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ ‘‘

        مسند أحمد کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’آدمی دس گھروں میں چوری کرلے یہ اس سے ہلکا گناہ ہے کہ وہ اپنےپڑوسی کے گھر سے چوری کرے۔‘‘

        پڑوسی کا تیسرا بڑا حق اس کی طرف سے تکلیف کو برداشت کرنا ، اس کی غلطی پر صبر کرنا اور اس کی برائی سے غفلت برتنا  ہے۔ مسند أحمد کی حدیث حضرت أبو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ’’اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ تین طرح کے لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور تین طرح کے لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں۔‘‘ اور آپ ﷺ نے ان تین لوگوں میں سے جنہیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ پسند کرتے ہیں اس آدمی کا ذکر کیا’’جس کا بُرا پڑوسی ہو اور وہ  اسے تکلیف دیتا ہو اور وہ اس کی تکلیف پر صبر کرتا ہو یہاں تک کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی اسے زندگی یا موت کے اعتبار سے کافی ہوجائیں۔‘‘

دوسرا خطبہ:

أما بعد۔۔۔

اے ایمان والو!

        اسلام میں پڑوسی کا بہت عظیم حق ہے، یہاں تک کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے کئی بار پڑوسی کا معاملہ ذکر کیا  اور ہمیشہ اس کے حق کی تاکید اور عزّت کی حُرمت بیان کی۔ لہٰذا اے اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو۔ قابلِ عزّت لوگ پڑوسیوں کے ساتھ اچھےہوتے ہیں۔ یہ شعر کہا گیا ہے؎

        لوگ مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہیں کہ میں نے اپنا گھر بہت کم قیمت پر بیچ دیا

                لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کہ یہاں پر میرا پڑوسی بہت کمزور ہے

        میں نے ان سے کہا کہ: مجھے ملامت کرنے سے رک جاؤ، کیونکہ

                پڑوسی کی وجہ سے گھروں کی قیمت زیادہ اور کم ہوجاتی ہے

اے مؤمنو!

        جس پڑوسی کے حقوق واجب ہیں وہ ایسا  پڑوسی ہے جو عرف میں پڑوسی سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں تعداد یا اس کے علاوہ کسی چیز کا کوئی ضابطہ مقرّرنہیں ہے۔ پڑوسی کی حد بندی کی بات لوگوں کے عرف کی طرف لوٹتی ہے۔ ہر وہ شخص جسے لوگ تمہارا پڑوسی شمار کریں وہ تمہارا پڑوسی ہے، اس کے لئے یہ سب حقوق واجب ہوں گے اور ان میں سے زیادہ حقوق اس کے ہوں گے جو تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہے۔

ایمان والو!

        آج لوگوں کے حالات میں دیکھنے والے کو نظر آتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں دنیا مسلّط ہوچکی ہے، اس نے أخلاقیات اور اقدار کو بہت زیادہ تباہ کردیا ہے اور حقوق اور شرعی واجبات کو بہت زیادہ بھلا دیا ہے، جس کی وجہ سے دل ایک دوسرے سے دور ہوگئے ہیں اور لوگ ایک  دوسرے سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ اولاد اپنے باپ کی نافرمانی کرنے لگی ہے، بھائی اپنے بھائی سے قطع تعلّقی کرنے لگا ہے، پڑوسی اپنے پڑوسی کو چھوڑنے لگا ہے، حقوق ضائع ہونے لگے ہیں اور قطع تعلّقی اور نافرمانی کا بازار قائم ہوگیا ہے، مگر جس پر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ رحم کریں۔

        کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پڑوسیوں سے بُراسلوک کیا، ان سے احسان کو روکا اور ان سے قطع تعلّقی اور انہیں تکلیف پہنچانے کی کوشش کی۔

        لہٰذا اے اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو۔ اسے نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو، اس کے لئے اپنی طاقت کے مطابق بھلائی کی کوشش کرو۔ جتنا تمہاری قدرت میں ہو ان سے شر کو دور کرو اور ہدیہ اور زیارت کے ساتھ اس سے نرمی کا معاملہ کرو۔ اگر تم  کوئی ایسی بھلائی نہ پاؤ جو انہیں پہنچا سکو تو اس سے کم درجہ کوئی نہیں ہے کہ تم انہیں تکلیف پہنچانے سے رک جاؤ۔

خطبة: حق الجار

پچھلا موضوع

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں