فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / نیک لوگوں کی صحبت

نیک لوگوں کی صحبت

تاریخ شائع کریں : 2018-03-11 | مناظر : 2753
- Aa +

خطبۂ اول:

تمام تعریفیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کے لئے ہیں ، ہم سب اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں  اوراسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جس کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہدایت دیں تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں  ہےاور جس کو گمراہ کردیں تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔

امابعد!

((اے ایمان والو! دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔)) جان لو کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اپنی نافذ قدرت اور اپنی بالغ حکمت سے اپنی تدبیر کے ذریعہ مخلوق کو پیدا کیا اور اپنی تقدیر سے انہیں وجود بخشا۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے جو تدبیر کی وہ بہت نازک ہے اور جو مقدّر کیا وہ بہت انوکھا ہے۔انسان کی پیدائش اس کی ہم جنس  کی طرف محتاجی، اس کے  ملتے جلتے کےساتھ بیٹھنے کی رغبت، اسی کی نوع کے افراد کے ساتھ میل جول اور اسی کی طرح کے جلد والے لوگوں کے مجالست  پر ڈھالی گئی ہے۔ سارے حکرانوں سے بڑھ کر  حکمران کی شریعت میں اس فطری حاجت کو برقرار رکھا گیا ہے جس سے لوگوں کی زندگی اور آخرت درست ہوتی ہے، لیکن اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ہر انسان کی صحبت مناسب نہیں ہے، لہٰذا شریعت نے متّقی اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے پر اُبھارا ہے اور گناہ گاروں اور شریر لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے منع کیا ہے اور احتیاط برتنے کا حکم دیا  ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ دوست کی صحبت کا دینی، عقلی اور اخلاقی طور پر اثر ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا ہر ایک کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیسے لوگوں کے ساتھ دوستی کرتا ہے۔‘‘

        علماء اور عقلمند حضرات نے دوست کے دوست پر اثر کا ادراک کیا ہے، اس لئے انہوں نے بہتر لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے اور بُرے لوگوں کی صحبت اختیار کرنےسے ڈرایا ہے۔ حضرت مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تم نیک لوگوں کے ساتھ پتھر منتقل کرو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم بُرے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر حلویٰ کھاؤ۔‘‘ حضرت أبو الدرداء رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’نیک انسان کی صحبت اکیلے رہنے سے بہتر ہے اور اکیلے رہنا بُرے دوست سے بہتر ہے۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ کے کچھ اشعار یہ ہیں:؎

        جہالت والے انسان کے ساتھ مت بیٹھو

                تم بھی بچو اور وہ بھی بچے

        کتنے ہی جاہل لوگ ہیں جنہوں نے ہلاک کردیا

                حلیم کو جب وہ ان سے ملے

        ایک آدمی کو دوسرے آدمی پر قیاس کیا جاتا ہے

                کیونکہ انسان جیسا خود ہوتا ہے ویسی ہی وہ چیز چاہتا ہے

مؤمنو!

        بہترین لوگوں اور نیک متّقی حضرات کی صحبت اختیار کرو جن کی صحبت کی وجہ سے استقامت اور درستگی زیادہ ہوتی ہے۔ ان حضرات کی صحبت دنیا اور آخرت میں بھلائی پھیلاتی ہے، اس کے پاکیزہ ثمرات اور مبارک نشانات ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اپنے نبی کو بھی اس کا حکم دیا: اللہ ﷻ فرماتے ہیں: ((اور اپنے آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح وشام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں۔اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں۔ اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کےدل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کررکھا ہے، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہو، اور جس کا معاملہ حد سے گزرچکا ہے۔))

        اچھی صحبت کا وہ  بھی پھل ہے جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی۔آپ ﷺ فرماتے ہیں: ’’اچھی مجلس اور بُری مجلس کی مثال اس طرح ہے جیسے خوشبو بیچنے والا اور بھٹی جھونکنے والا۔ خوشبو بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو دے گا یا تم اس سے خوشبو خرید لو گےیا تم اس سے پالو گے اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلائے گا، یا تم اس سے بُری بُو پالوگے  ‘‘۔ لہٰذا معلوم ہوا  کہ تم اچھی مجلس سے بھلائی کو ضائع نہیں پاؤ گے۔

        اچھی صحبت کا یہ بھی فائدہ ہے کہ اچھی مجلس میں حاضر ہونا گناہوں کی معافی کا سبب ہے۔ صحیحین کی طویل روایت حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’فرشتے راستوں میں گھومتے ہیں اور اہلِ ذکر کو تلاش کرتے ہیں۔‘‘ حدیثِ مبارک میں ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ان حضرات کی مجلس اور وہ ان میں جو باتیں کرتے ہیں ان کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ تو فرشتے جواب دیتے ہیں کہ: ’’وہ آپ کی تسبیح، آپ کی تکبیر، آپ کی تعریف اور آپ کی بزرگی  بیان  کررہے تھے۔‘‘  اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ حدیث کے آخر میں جواب دیتے ہیں کہ: ’’میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں معاف کردیا۔‘‘حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہےکہ: ان میں سے ایک آدمی ذکر کرنے والوں میں سے نہیں تھا بلکہ وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے آیا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میں نے اسے بھی معاف کردیا۔ وہ ایسی قوم ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا کوئی بھی نامُراد نہیں رہتا۔‘‘

        اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کو معلوم ہے کہ اچھی صحبت کا فائدہ کتنا عظیم ہے اور اس کا انجام کتنا اچھا ہے!

اے مؤمنو!

        اچھی صحبت کا پھل نیک لوگوں کی محبّت ہے، اور ان کی محبّت ان کے ساتھ دنیا کی بھلائی اور آخرت کی نعمتوں میں شامل ہونے کاسبب ہے۔ صحیحین کی حدیث حضرت أبو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ: آدمی کسی قوم سے محبّت کرتا ہے لیکن وہ ان سے مل نہیں پاتا؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا:’’ آدمی کا انجام انہی کے ساتھ ہوگا جن سے اسے محبّت ہوگی۔‘‘

        نیک لوگوں کی صحبت کا یہ بھی ثمرہ ہے کہ: جب وہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا ذکر کرتےہیں تو اس سے ان کی عقل اور دین کا فائدہ ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے اولیاء وہ ہوتے ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ یاد آجائیں۔‘‘ نیک لوگوں کو دیکھنا  ہی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی یاد دلاتا ہے تو انکی صحبت اختیار کرنا اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی کیا ہی بات ہوگی؟! بعض سلف صالحین فرماتے ہیں کہ: ’’اگر میں اپنے بھائیوں میں سے کسی سے ملاقات کروں تو میں اس کی ملاقات کی وجہ سے کئی دنوں تک عقلمند رہتا ہوں۔ ‘‘ دوسرے بزرگ فرماتے ہیں: ’’میں اپنے بھائیوں میں سے کسی بھائی کو دیکھ لیتا ہوں تو اسے دیکھنے کی وجہ سے ایک مہینہ تک عمل کرتا رہتا ہوں۔‘‘

        ان حضرات کی صحبت کا وہ بھی پھل ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’تم اپنے بھائیوں کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ دنیا اور آخرت کا سرمایہ ہیں۔کیا تم اہلِ جہنّم کی یہ بات نہیں سنتے ہو: ((نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو ہمیں کسی قسم کی سفارش کرنے والے میسرہیں، اور نہ کوئی ایسا دوست جو ہمدردی کرسکے۔))‘‘

        نیک مؤمنین کی صحبت کا وہ بھی فائدہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ان مؤمنین کے بارے میں بیان فرمایا ہے جب وہ اس وقت کہیں گے جب وہ پل صراط کو پار کرلیں گے: ’’ قسم ہے  اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی  آج اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رضا کے لئے حق بات تلاش کرنے میں اتنا سخت نہیں ہے جتنا وہ قیامت کے دن ہوگا۔  جب مؤمن جہنّم سے نجات پاجائیں گے تو کہیں گے: اے ہمارے پروردگار! کچھ لوگ ہمارے ساتھ روزہ رکھتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے، چنانچہ انہیں کہا جائے گا: تم اسے جہنّم سے نکال لو جس کو تم پہچانتے ہو،  ان مسلمانوں کی صورتوں کو جلانا دوزخ پر حرام کردیا جائے گا۔ اس وقت مؤمنین بہت سے آدمیوں کو دوزخ سے نکال لیں گے جن کی آدھی پنڈلیوں تک دوزخ نے کھا رکھا ہوگا اور بعض کو گھٹنوں  تک دوزخ نے کھا رکھا ہوگا۔‘ ‘

        اللہ أکبر پاکیزہ صحبت کا کتنا عظیم فائدہ اور اس کا انجام کتنا اچھا ہے، اور کتنے زیادہ اس کے فوائد اور کتنا پاکیزہ اس کا پھل ہے! اگر اس کا کوئی اور فائدہ نہ بھی ہو تو بھی نیک صحبت کی لالچ اور ایسے لوگوں کی بہت زیادہ صحبت اختیار کرنے کے لیے یہ بات کافی یہ ہے کہ یہ جہنّم سے نکلنے کا سبب ہے۔

دوسرا خطبہ:

أما بعد۔۔۔

        اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے  تقویٰ اختیار کرو اور فاسقوں، گناہ گاروں اور شریر لوگوں کی صحبت سے ڈرو جو تمہارے لیے گناہوں کے ارتکاب اور واجبات کو چھوڑنے کے ذریعہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی نافرمانی مزیّن کرکے پیش کرتے ہیں اور  اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے حقوق کو ضائع کرنے میں تمہاری مدد کرتے ہیں۔

        ان لوگوں کی صحبت سے بہت زیادہ خوف کرو، کیونکہ یہ لوگ ہدایت کے راستہ کے ڈاکوہیں جو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے راستہ سے روکتےہیں اور اُس میں ٹیڑھ نکالنا چاہتے ہیں۔ حضرت مسیّب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’جب أبو طالب کی موت کا وقت آگیا تو نبی کریم ﷺ اس کے پاس آئے  اور اس کے پاس أبو جہل بن ہشام اور عبد اللہ بن أمیہ بن مغیرہ کو پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے أبو جہل کو کہا کہ: اے میرے چچا آپ کہہ دو: لا إلہ إلّا اللہ۔ تو میں اس کلمہ کے وجہ سے آپ کے بارے میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے خوب درخواست کروں گا۔ اس پر أبو جہل اور اس کا ساتھی کہنے لگے: کیا تم عبد المطلب کے دین سے اعراض کررہے ہو؟ رسول اللہ ﷺ اس پر مسلسل کلمۂ طیّبہ پیش کرتے رہے اور اس کے دو ساتھی اپنی وہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ أبو طالب نے جو آخری بات کہی تھی وہ یہ تھی: کہ وہ عبد المطلب کے دین پر ہیں۔‘‘ اور لا إلٰہ إلّا اللہ کہنے سے انکار کردیا۔ ہم اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے رسوائی اور بری صحبت سے پناہ مانگتے ہیں۔

        دیکھو۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ تمہیں برکت دیں۔ أبوطالب کو  بُری صحبت کی وجہ سے  کتنا نقصان ہوا، یہاں تک اس کے دونوں دوست اس کے اور جنّت کے درمیان حائل ہوگئے اور اسے جہنّم کے حوالے کردیا۔ اللہ کی پناہ۔ لہٰذا اے مؤمنو بری صحبت سے بچو کیونکہ نہ ان کے لئے قرار کی کوئی جگہ  ہے اور نہ ان کے لئے رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہے، یہاں تک کہ وہ تمہیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی نافرمانی میں ڈال دیں گےاور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تم پر جو چیزیں فرض کی ہیں ان کے چھوڑنے کے بھنور میں پھنسا دیں گے۔ فاسق اور شریر لوگوں کی صحبت آگ کا ٹکڑا ہے جو ٹیڑھے لوگوں کا پیچھا کرتا ہے، حسرتیں چھوڑتا ہے اور نافرمانی اور برائیوں پر جری کرتا ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (( اور جس دن ظالم انسان (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائےگا، اور کہے گا: کاش میں نے پیغمبر کی ہمراہی اختیار کر لی ہوتی۔ ہائے میری بربادی! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔میرے پاس نصیحت آچکی تھی، مگر اس (دوست) نے مجھے اس سے بھٹکا دیا، اور شیطان تو ہے ہی ایسا کہ وقت پڑنے پر انسان کو بے کس چھوڑ جاتا ہے۔))

        ہم میں سے ہر ایک چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے برے اور شک میں ڈالنے والے لوگوں سے بچنا چاہئے، کیونکہ ایسا انسان متکبّر ہوتا ہے اور اس کا مزاج چوروں والا ہوتا ہے۔

برے اور بدکار لوگوں کی اچھی زندگی اور ان کی زبان کی شیرینی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے، کیونکہ کبھی پانی کا منظر صاف ستھرا ہوتا ہے، لیکن اس کا ذائقہ نجس ہوجاتا ہے۔  شاعر کہتے ہیں؎

        کیا تم نہیں دیکھتے کہ پانی کا ذائقہ خراب ہوجاتا  ہے

                اگرچہ پانی کا رنگ سفید  اور وہ صاف ستھرا ہو

        شیخ   عبد الرحمٰن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص شریر لوگوں کی صحبت اختیارکرے گا اور ان کے ساتھ میل جول رکھے گا تو ان کی صحبت ہر اعتبار سے نقصان پہنچانے والی ہے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے کتنی قومیں ہلاک ہوگئیں اور  ایسے کتنے ہی لوگوں  نے اپنے دوستوں کی ہلاکت کی جگہوں کی طرف رہنمائی کی جن کا انہیں احساس تھا اور جن کا انہیں احساس نہیں تھا۔‘‘ حضرت رحمہ اللہ یہ بھی فرماتے ہیں:  ’’اے مؤمنو اپنی ذات کے بارے میں ان لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے ڈرو اور اپنی اولادوں اور اپنے گھر والوں کو بھی ان شریر اور بے کار لوگوں کی صحبت سے بچاؤ، کیونکہ یہ انہیں ضائع کرنے اور ان کی خرابی کا بہت بڑا سبب ہیں۔ ‘‘ اے اللہ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں شر اور شریر لوگوں سے بچا اور ہمیں اس بات کے عطیہ سے نواز کہ ہماری گناہوں  اور گناہ گار لوگوں سے حفاظت فرما۔ 

خطبة: صحبة الأخيار 

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں