فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / مسلمان کی عظمت اور اُلفت کا وجوب

مسلمان کی عظمت اور اُلفت کا وجوب

تاریخ شائع کریں : 2018-03-11 | مناظر : 1153
- Aa +

خطبۂ اول:

تمام تعریفیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کے لئے ہیں ، ہم سب اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں  اوراسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جس کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہدایت دیں تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں  ہےاور جس کو گمراہ کردیں تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔

امابعد!

        اے مؤمنو! اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو اور آپس کے تعلّقات درست رکھو، کیونکہ یہ اُمّت ایک اُمّت ہے، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ تمہارے پروردگار ہیں لہٰذا اسی کی عبادت کرواوراے اللہ کے بندو اسی سے ڈرو۔

اے مؤمنو!

        اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے مؤمنین کو ان کے رنگوں ، زبانوں، ان کی حالت اور نسب  کے اختلاف کے باوجود   دینی بھائی بنایا ہے، جیسا کہ اللہ ﷻ فرماتے  ہیں:  ((حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔)) یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مؤمنوں کو ہر ایسی بات کا حکم دیا گیا ہے جو ان کے دلوں میں محبّت رکھے اور  ان کےکلمہ کو اکھٹا رکھے اور انہیں ہر اس چیز سے روکا گیا ہے جو ان کی جماعت کو متفرّق کردے، ان کے دلوں میں نفرت بھر دے اور ان کی بات میں اختلاف پیدا کردے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (((لوگو) یقین رکھو کہ یہ (دین جس کی یہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں) تمہارا دین ہے جو ایک ہی دین ہے، اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ لہٰذا تم میری عبادت کرو۔))

        صحیحین کی حدیث حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ‘‘ اس حدیث میں مؤمنین کو ایسے اسباب اختیار کرنےپر اُبھارا گیا ہے جن کی وجہ سے وہ آپس میں محبّت کرنے والے، ایک دوسرے کے  لئے ہمدردی رکھنے والے اور ایک دوسرے پر رحم کرنے والے بھائی بن جائیں۔

        رسول اللہ ﷺ نے بہت زیادہ أحادیث میں مسلمانوں کے درمیان اتفاق کی تاکید فرمائی ہے۔ صحیحین کی حدیث حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان آپس میں پیارومحبّت، رحم وشفقت اور مہربانی کرنے میں ایک جسم کی مثال رکھتےہیں کہ جس کا ایک عضو بیمار پڑجائے تو سارا جسم اضطراب اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔‘‘

        صحیحین کی ہی حدیث حضرت أبو موسیٰ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتےہیں کہ: ’’ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو مضبوط بناتا ہے۔‘‘

اے مؤمنو!

        اسلامی شریعت جو سب سے عظیم چیز  لےکر آئی ہے وہ محبّت اور اتفاق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہر ایسی چیز سے منع فرمادیا جو لڑائی اور نفرت کی طرف لے کر جائے اور ہر ایسی چیز کا حکم دیا جس سے محبّت اور خلوص حاصل ہو، لہٰذا  اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ  نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ طے کیا جس سے تمہارے دل اکھٹے رہیں، تمہاری جدا جدا چیزیں مل  جائیں اور تمہارے دل متّفق ہوجائیں، چنانچہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تم پر  ایک دوسرے کےلئے  حقوق اور لازمی فرائض طے کئے۔ حضرت أبوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے پیچھے جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔‘‘

        یہ حدیثِ مبارک مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی کے حق کے بارے میں  بنیاد ہے۔ مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی پر یہ حق ہے کہ جب وہ اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے۔ حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اس وقت تک جنّت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک إیمان نہ لے آؤ، اور تم اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبّت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جسے تم کرلوگے تو آپس میں محبّت کرنے لگ جاؤ گے؟! تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔‘‘

        مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سلام کا اس طرح جواب دے جو سنا جائے، وہ سلام کی طرح کا جواب یا ا س سے بھی بہتر جواب ہو۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بھی بہتر طریقے پر سلام کرو، یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو۔))

اے مؤمنو!

        مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی پر حق میں سے اس کے لئے خیر خواہی بھی ہے، کیونکہ دین خیر خواہی ہی کا نام ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے رسول اللہ ﷺ سے اطاعت وفرمانبرداری اور ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی پر بیعت کی۔‘‘

        نبی کریم ﷺ نے ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان پر جس نصیحت کو اس کا حق قرار دیا وہ نرمی اور اخلاص، ان پر شفقت اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی دنیا اور آخرت کے بھلائی کے کاموں میں ان کی  رہنمائی کرنا اور انہیں نیکی کا حکم دینا اور بُرائی سے روکنا ہے۔ خیر خواہی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انہیں ہر بھلائی کی چیز بتاکر ان کی رہنمائی کی جائے اور ہر برائی کی چیز کے بارے میں آگاہ کرکے انہیں ڈرایا جائے۔

مؤمنو!

        ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حق میں سے اس کے لئے بھلائی کو پسند کرنا اور اس کے لئے اپنے دل کو صاف رکھنا بھی ہے۔ صحیحین کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتےہیں کہ: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی  کے لئےوہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘

        اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے سچے مؤمنین کی ان الفاظ میں تعریف بیان کی ہے: ((اور (یہ مالِ فیئ) اُن لوگوں کا بھی حق ہے جو ان(مہاجرین اور اَنصار) کے بعد آئے، وہ یہ کہتے ہیں کہ: ’’اے ہمارے  پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے اُن بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے اِیمان  لاچکےہیں، اور ہمارے دِلوں میں اِیمان لانےوالوں کےلئے کوئی بغض نہ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔‘‘))

        ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ بھی حق ہےکہ اس کی دعوت کو قبول کیا جائے۔ صحیح مسلم کی حدیث حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص جو دعوت کو قبول نہ کرے اس نے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔‘‘ یہ مطلب شادی کے ولیمہ میں تاکیدی طور پر ثابت ہوتاہے کہ اس میں جانا بہتر ہے اگر ولیمہ  میں کوئی گناہ یا نافرمانی کا کام نہ ہو۔

        مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق میں سے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا اور ان کی ان کے دین اور دنیا کے کاموں میں مدد کرنا بھی ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ فرماتے ہیں: ((اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔))

        صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت  کو پورا کرتے ہیں۔‘‘

        حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس وقت تک  بندے کی مدد میں ہوتےہیں جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔ ‘‘

        حضرت علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’میں کسی مسلمان کی ضرورت کو پورا کردوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میرے لئے زمین بھر کر سونا اور چاندی ہو۔‘‘

        اے مؤمنو! مسلمانوں کے ایک دوسرے کے حقوق میں سے کمزور مسلمانوں کی دیکھ بھال کرنا، ان میں سے چھوٹوں پر رحم کرنا اور قطع تعلّق آدمی کی مدد کرنا ہے۔ صحیحین کی حدیثِ مبارکہ میں حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’بیوہ اور مسکینوں کےلئے کوشش کرنے والے کا ثواب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میرا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ: ایسے انسان کا ثواب اس عبادت گزار کی طرح ہے جو تھکتا نہیں ہے اور ایسے روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا۔‘‘

        رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: ’’سب سے بُرا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالداروں کو بلایا جائے اور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘

        رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزّت نہ کرے۔‘‘

        لہٰذا اے مؤمنو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو اور بھائی بھائی بن کر اللہ کے بندے بن جاؤ۔

        انہیں نیکی کا حکم دو، بُرائی سے روکواور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے جن سے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے ان سے صلہ رحمی کرو۔

        اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرو، کیونکہ یقین رکھو کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔

        ہر وہ کام کرو جس سے پیارو محبّت، اُلفت اور میل جول عام ہوکر پھیلے۔

        اور ہر اس چیز سے رک جاؤ جو جدائیگی اور دشمنی کا سبب ہو۔

        جو کوئی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرے گا اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کےلئے مشکل سےنکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا، اور جو کوئی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرے گا، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کےکام میں آسانی پیدا کردیں گے، اور جو کوئی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرے گا، اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو زبردست ثواب دے گا۔

دوسرا خطبہ:

أما بعد۔۔۔

        اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو اور جان لو کہ سب کم وہ حق جو تم پر اپنے بھائیوں کے لئے واجب ہے وہ ان سے برائی کو روکنا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں حضرت أبو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے نیکی کے کاموں کے بارے میں پوچھا ، پھر عرض کی اے اللہ کے رسول! بعض کاموں سے اگر میں خود  ناتواں ہوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگوں کو اپنی طرف سے شر پہنچانے سے بچو، یہ تمہاری طرف سے تمہاری جان پر صدقہ ہے۔‘‘

        مسلمان کے مسلمان پر حق میں سے یہ بات ہے کہ تکلیف کی تمام صورتوں میں اس سے تکلیف کو دور کیا جائے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((اور جو لوگ مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچاتے ہیں، انہوں نے بہتان طرازی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد لیا ہے۔))

        اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے نزدیک مؤمن کی بہت بڑی عظمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں تسلّی بخش وضاحت فرمادی ہے۔ آپ ﷺ عظیم مجمع کے سامنے جو خطاب فرماتے تھے ان میں  یہ بات بھی ارشاد فرمائی: ’’تمہارے مال، تمہاری جان اور  عزّتیں تم پر اس طرح حرام ہیں جس طرح اس مہینے اور اس شہر میں تمہارے اس دن کی حُرمت ہیں۔ ‘‘

        صحیح مسلم کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ’’ہر مسلمان کی دوسرے مسلمان پر جان، مال اور عزّت حرام ہے۔‘‘

        لہٰذا اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ، اس کے عذاب اور اس کی ناراضگی سے ڈرو، کیونکہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا عذاب اگر آجائے تو اسے مجرموں سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔ اپنی جانوں کی حفاظت کرو، کیونکہ کعبہ کا ختم ہونا کسی مسلمان کا ناحق خون بہانے سے ہلکا ہے، اور بندہ ہمیشہ اپنے  دین کی کشادگی میں ہی ہوتا ہے جب تک کہ وہ حُرمت والا خون نہ بہائے۔

        اور اپنے مالوں کی بھی حفاظت کرو اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ، کیونکہ کسی مسلمان کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں ہوتا، اور کسی کی بھی حرام مال سے پرورش کی گئی ہے تو وہ آگ کا ہی زیادہ حقدار ہے۔

        اور اے ایمان والو اپنی عزّتوں کی بھی حفاظت کرو، غیبت سے بچو، کیونکہ وہ آدمی کی بُری ساتھی ہے، کیا تم  میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردے بھائی کا گوشت کھائے؟  اس سے تو تم خود نفرت کرتے ہو۔ اور چغل خوری سے بچو، کیونکہ چغل خور جنّت میں داخل نہیں ہوگا، اور اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں  بُرے گمان سے بھی بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے اور عادل مسلمان کے بارے میں بُرا گمان بُری عادت اور خراب نیت کی خبردیتا ہے۔؎

        جب آدمی بُرا ہوتا ہے تو اس کے گمان بھی بُرے ہوجاتے ہیں

                اور اپنی عادت کے مطابق جو بھی وہم کرتا ہے اس کی تصدیق کرنے لگ جاتا ہے

        اللہ کے بندو گالم گلوچ، لعنت بھیجنے اور طعنہ کرنے سے بھی بچو، کیونکہ مؤمن نہ طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت ملامت کرنے والا ہوتا ہے اور نہ بدکلامی کرنے والا ہوتا ہے۔ اللہ کے بندو مسلمانوں کی کمزوریوں کے پیچھے پڑنے سے بچو، کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی خفیہ کمزوری کے پیچھے پڑتا ہے تو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ بھی اس کی خفیہ باتوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں، یہاں تک کہ اسے اس کے گھر میں رُسوا کردیتے ہیں: ((یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لئے دنیا اور آخرت  میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔))

        لہٰذا اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو، کیونکہ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہ پسند نہ کرے جو وہ اپنےلئے پسند کرتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اسے دوزخ سے دور ہٹا لیا جائے اور جنّت میں داخل کردیا جائے، اور اس کی موت اس حالت میں اس کے پاس آئے کہ وہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اور آخرت کے  دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ جو سلوک اپنے ساتھ ہونا پسند کرتا ہے وہی دوسروں کے ساتھ کرے۔‘‘

خطبة: حرمة المسلم ووجوب الألفة

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں