فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / زبان کی مصیبتیں۔ غیبت

زبان کی مصیبتیں۔ غیبت

تاریخ شائع کریں : 2018-03-11 | مناظر : 1123
- Aa +

خطبۂ اول    

تمام تعریفیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کے لئے ہیں ، ہم سب اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں  اوراسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جس کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہدایت دیں تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں  ہےاور جس کو گمراہ کردیں تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔

امابعد!

        سب سے زیادہ سچی بات اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی کتاب ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ پہلے لوگوں اور بعد والے لوگوں کا بھی معبود ہے۔((اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات  کہا کرو۔ اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارےکام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جوشخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔))

        مؤمنو! اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اپنے سے تقویٰ اختیار کرنے، سیدھی، درست اور انصاف کے مطابق بات کہنے کا حکم دیا ہے۔ اس پر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تم سے تمہارے کاموں کی اصلاح اور  تمہارے گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا ہے۔ ۔

        اے مؤمنو! اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمتوں اور اس کی ایجاد کی کاریگری میں سے نازک نعمت یہ زبان ہےجس سے تم کلام اور بات کرتے ہو یا جو کچھ دلوں اور جی میں ہے اسے تعبیر کرتےہو۔

        آدمی کی زبان اس کے دل کی کنجی ہے

                جو وہ اس وقت ظاہر کرتا ہے جب وہ اپنے منہ سے بات کررہا  ہوتا ہے

مؤمنو!

        زبان اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمتوں میں سے ہے جس کے ذریعہ اس نے تم پر اس وجہ سے احسان کیا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((کیا ہم نے اسے دوآنکھیں نہیں دیں؟ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟)) اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں: ((وہ رحمٰن ہی ہے۔(۱) جس نے قرآن کی تعلیم دی۔(۲) اسی نے انسان کو پیدا کیا۔(۳)اسی نے اس کو واضح کرنا سکھایا۔(۴))

        اسی کی وجہ سے کفر ایمان سے ممتاز ہوتاہے، رحمٰن کے اولیاء شیطان کے اولیاء سے جدا ہوتےہیں، اسی کی وجہ سے بندہ جنتوں کے سایے میں پہنچتا ہےاور اسی کی وجہ سے جہنم کی گہرائیوں میں گر پڑتا ہے۔ صحیحین کی حدیث حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی ہنسانےکے لئے  ایک بات کرتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنّم کی اتنی گہرائیوں میں گرجاتا ہے جن کا فاصلہ مشرق اور مغرب کے فاصلہ بھی زیادہ ہے  ۔‘‘

        بخاری کی روایت میں ہے کہ: ’’بندہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رضا  کا ایک کلمہ کہتا ہے اور اس کی قدو قیمت نہیں جانتا تو اس کی وجہ سے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس کے جنّت کے درجات  بلند کر دیتےہیں، اور بندہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی ناراضگی کی  ایک بات کہتا ہے اور اس کی پرواہ نہیں کرتا ، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنّم کی وادی میں گرجاتا ہے۔‘‘

        لہٰذا اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرواور اپنی زبان کے بارے میں محتاط رہو، کیونکہ یہ ایسی بہت بڑی چیز ہے جو تمہیں ہلاکت کے اسباب میں ڈال سکتی ہے۔ اس کی حفاظت کرو، کیونکہ اس کی حفاظت میں کامیابی اور کامرانی کے اسباب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ  اس انسان کے لئے جنّت یعنی سلامتی کے گھر کے ضامن ہیں جو اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنی بات کو غلطی سے بچائے۔ صحیح بخاری کی حدیث حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ’’جو شخص مجھے  اس چیز کی ضمانت دیدے جو اس کے دونوں جبڑوں (یعنی زبان) اور اس کی دونوں رانوں  کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ )تو میں اسے جنّت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ‘‘

        ترمذی کی حدیث میں ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے عمل کے بارے میں پوچھا جو انہیں جنّت میں داخل کردے اور جہنّم سے دور کردے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں کچھ بھلائی کے دروازوں اور مختلف قسم کی نیکیوں کے بارے میں بتایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایاکہ کیا میں تمہیں ان سب نیکیوں کی اصل کے بارے میں نہ بتادوں؟ حضرت معاذؓ نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ! تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ’’اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔‘‘ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ، ہم جو باتیں کرتےہیں کیا ان پر ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم کردے! لوگوں کو جہنّم میں اوندھے منہ گرانے والی زبان کی ہی کھیتیاں ہیں۔‘‘     

اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو، اپنی زبان کی ہر اس چیز سے حفاظت کرو جو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو غصہ دلادے اور ناراض کردے اور شریعت کی لگام سے اسے پابند کرو، کیونکہ زبان کی حفاظت اور اسے بچانا اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان کی علامتوں میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جو شخص اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘

اللہ کے بندو!

        آج زیادہ تر لوگوں کی حالت  میں غور کرنے والا، خاص طور پر فرصت اور اجتماع کے مواقع پر عجیب معاملہ اور بڑی غلطی دیکھتا ہے ، وہ لوگوں کو دیکھتا ہے چاہے وہ چھوٹے بڑے ہوں، مرد وعورت ہوں، جوان اور بوڑھے ہوں کہ انہوں نے اپنی زبانوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے اور زبان کی آفتوں اور مصیبتوں سے بچنے میں غفلت برتنے لگے ہیں۔

        وہ انہیں ناحق باتوں میں مشغول،  گناہوں کے بارے میں بات چیت کرتے اور بُرائیوں کو پھیلاتےہوئے دیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ بات سے علی الاعلان برائی کرتے ہیں، وہ جھوٹ، غیبت اور چغلی دیکھتاہے، وہ جھوٹی گواہی اور  بدکلامی دیکھتا ہے، وہ گالم گلوچ اور لعن طعن دیکھتا ہے، وہ فضولیات اور ایسی چیزوں میں مصروفیت دیکھتاہے جو نقصان پہنچاتی ہیں لیکن فائدہ نہیں پہنچاتیں۔ ہماری حالت اس طرح ہے گویا کہ ہم نے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہی نہیں: ((انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کےلیے ) تیار۔)) گویا کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے یہ فرمایا ہی نہیں: ((ہم ان کی یہ بات بھی (ان کے اعمال نامے میں ) لکھ لیتےہیں۔))   

اللہ کے بندو!

        یہ بہت بڑی مصیبتیں اور بہت مہلک بیماریاں  ہیں جن میں بہت سارے لوگ ہلاکت میں پڑگئے ہیں، لیکن ان میں سے سب سے خطرناک جرم، سب سے زیادہ انتشارپھیلانے والی اور علاج کے اعتبار سے سب سے زیادہ مشکل وہ بیماری ہے جو اجتماع کو منہدم کردیتی ہے، اس کی عمارت کو بالکل ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے،  آپس میں میل جول کے میدان کو گرادیتی ہے، محبّت اوربھائی چارے کے عہدو پیمان کو توڑدیتی ہے، پھر دلوں کو کینے سے بھر دیتی ہے، آپس میں دشمنی پیدا کردیتی ہے،  پیارو محبّت کو خراب کردیتی  ہے اور عداوت کا بیج بودیتی ہے۔ یہ سیدھے راستہ سے ہٹی ہوئی، گھٹیا عادت ہے جوسخت حسد کو مضبوط کرتی ہے، بغض کو پروان چڑھاتی ہے اور مؤمنین کے درمیان برائی  اور فساد کو عام کرتی ہے۔اے بھائیو! کیاتم جانتےہو وہ آفت اور مصیبت کیا ہے؟ وہ غیبت ہی ہے جس کی خرابی اور حُرمت کو قرآن عظیم نے بیان کیا ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ فرماتے ہیں: ((اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم خود نفرت کرتے ہو۔!))

        رسول اللہ ﷺ نے بہت زیادہ غیبت سے منع فرمایا ہے اور اس سے بہت زیادہ ڈرایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’ہر مسلمان کی دوسرے مسلمان پر جان، مال اور آبرو حرام ہے۔‘‘

        حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سود کے تہتر حصے ہیں، ان میں سے سب سے ہلکا درجہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے اور سب سے بڑا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عزّت کے بارے میں ظلم کرو۔‘‘   اس حدیث  کا درجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اے مؤمنو!

        غیبت بہت بڑا جرم ہےجس کو بہت سارے لوگوں نےہلکا  سمجھ لیا ہے، حالانکہ وہ سب سے بڑا سود اور سب سے بڑا گناہ ہے۔

اے مؤمنو!

        اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے مسلمانوں کی عزّتوں میں منہ مارنے والوں کو بہت سخت عذاب  اور بہت عبرتناک سزا سے ڈرایا ہے۔ مسند إمام أحمد کی حدیث جیّد سند کے ساتھ حضرت أنس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل!یہ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے، اور ان کی عزّتوں میں عیب لگاتے  تھے۔‘‘

        لہٰذا  اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو۔ غیبت کبیرہ گناہوں  اور بڑی  معصیتوں  میں سے ہے۔

اے مؤمنو!

        اپنی زبانوں کی غیبت اور  ہر ہلاک کرنے والی مصیبت سے حفاظت کرو۔ کتنے ہی ایسے انسان ہیں جنہوں نے اپنی زبانوں کو ایسی باتوں اور ایسے الفاظ کے ذریعہ غیبت کرنے  کے لئے قینچی کی طرح تیز بنا لیا ہے جن سے برائی اور  خرابی ٹپکتی ہے اور جو عزّتوں کو بے آبروکرتےہیں۔

        قبیح اور بری بات میں حد سے آگے بڑھنا     بندوں پر ظلم اور ان کی عزتوں کی پامالی  ہے، پیٹھ پیچھے دوسروں پر عیب لگانا، منہ پر طعنے دینا، عزّت کو نقصان پہنچانا اور حق میں کمی کرنا، یہ لمبا ہے، وہ چھوٹا ہے، یہ بے وقوف ہے اور وہ کند ذہن ہے،  وہ اس طرح ہے اور وہ اس طرح ہے!!

        ایک ہی مجلس میں آپ مخلوق کی لڑائی اور  لوگوں کی غیبت سنو گے جو معتدل انسان کو تشویش میں مبتلا کردے گی  ، جی کو خراب کردے گی،  ٹھیک دل کو مکدّر کردے گی اور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے مؤمن بندوں کو تکلیف پہنچائے گی۔ إنّا للہ وإنّا إلیہ راجعون

        مخلوق کا مذاق اڑانا، ان کی عزّت کو کم سمجھنا عقل کی بیوقوفی اور دین کی گمراہی ہے۔ اگر غیبت کا ایک کلمہ سمندر کےپانی کے ساتھ ملا دیا جائے تو وہ اس کا رنگ تبدیل کردے۔ تو تمہاری لمبی مجلسوں اور چوڑی باتوں کی کیا حالت ہوگی  جن میں تم  مؤمنین کی چغلی کرتے ہو؟!

        صحیح بخاری کی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا کہ: صفیہ تو اس  طرح ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ وہ چھوٹے قد کی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی کےساتھ ملادی جائے تو اس کا رنگ تبدیل کردے۔‘‘

لہٰذا ایمان والو بچو!

        ان مجلسوں سے بچو، کیونکہ ان مجلسوں میں شر اور مصیبتیں ہوتی ہیں جن میں مؤمنین کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کی بے عزّتی کی جاتی ہے اور ان کی عزّت کو بے کار سمجھا جاتا ہے، وہ بربادی کے اسباب اور ہلاکت کی جگہوں  میں سے ہیں۔

        ان مجلسوں میں جو انسان بیٹھے اس پر لازم ہے کہ ان کا انکار کرے، کیونکہ اس میں بہت زیادہ خیر ہے۔

        ان مجلسوں کے بارے میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے جس ناپسندیدہ چیزوں کا انکار واجب کیا ہے اس کو پورا کیا جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ’’تم میں سے کوئی انسان کوئی برائے دیکھے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل میں اس برائی کو برا سمجھے۔‘‘

        اس حدیث سے مسلمان کی عزّت کو بچانا ثابت ہوتا ہے اور اس میں بہت عظیم اجر اور بہت بڑا ثواب ہے۔  مسند أحمد کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’جس  انسان نے اپنے بھائی کے بارے غیبت کرنے سے روکا تو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ پر حق ہے کہ اسے جہنّم سے آزاد کردے۔‘‘

        لہٰذا اے مؤمنو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو اوراپنے مسلمان بھائی کی عزّت کا دفاع کرو۔ جو شخص غیبت کرکے ہلاکت میں پڑنے والا ہو اسے نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اگر تمہاری اسے منع کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسی حالت میں مسلمانوں کا گوشت کھاتے ہوئے تمہارا اس کے ساتھ ٹھہرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا تم وہاں سے اٹھ جاؤ، یہاں تک کہ وہی کسی اور بات میں مصروف ہوجائے۔

دوسرا خطبہ:

أما بعد!

        اللہ کے بندو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو اور تم ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہ چھوڑ دو، غیبت اور بری بات بھی چھوڑ دو کیونکہ یہ ان برائیوں میں سے ہے جو نیکیوں کو ضائع کردیتی ہے، انسانیت لے جاتی ہے اور بندے کو جہنّم میں داخل کردیتی ہے۔

اے مؤمنو!

        وہ غیبت جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہےاس کی تفسیر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سےپوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔‘‘ یہ انصاف کی ترازو ہے اور غیبت کودوسری چیزوں سے جدا کرنے میں عدل کا طریقہ ہے۔ ہر وہ شخص جس نے کسی دوسرے کا ذکر اس کی عدم موجودگی میں ایسی چیز کے ساتھ کیا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ ضروری طور پر غیبت میں داخل ہے۔

اے مؤمنو! 

        غیبت قرآن مجید، سنّت اور اہلِ علم کے إجماع کی وجہ سے حرام ہے۔ یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ غیبت ہر حالت میں حرام ہے، لیکن اہلِ علم کی جماعت میں بعض صورتوں کا استثناء بھی آیا ہے جن میں انہوں نے کسی دوسرے کا اس طرح ذکر کرنے کو جائز قرار دیا ہے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔

        ان میں سے ایک صورت مظلوم کی ہے، مظلوم کے لئے ظلم کرنے والا کے ظلم کا ذکر کرنا اور اس کی ایسے انسان کے پاس جو اسے انصاف پہنچانے اوراس کا حق دلانے کی قدرت رکھتا ہو غیبت کرنا  جائز ہے۔

        وہ صورتیں جن میں کسی دوسرے کا اس طرح ذکر کرنا جائز ہے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو ان میں سے ایک صورت مسلمانوں کی ان کے دین اور دنیا میں خیرخواہی ہے، جیسے فاسقوں، شریروں، کافروں اور اہل ِبدعت کا اس لئے ذکر کیا جائے کہ مسلمان ان کے فسق اور شر سے بچ جائیں یا انہیں پکڑ لیں اور خرابی سے روک لیں۔

        یہ وہ کچھ صورتیں ہیں جن میں کسی دوسرے کا اس طرح ذکر کرنا جائز ہے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ جو کہ بہت بلند ہےسے  ان چیزوں میں جن کا اس نے حکم دیا ہے اور جو گناہ ہیں اس طرح تقویٰ اختیار کرنے کی کوشش کرے جس طرح اس سے تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔

        مؤمن پر لازم ہے کہ وہ بات میں دوسرے انسان کی مصلحت کو پیشِ نظر رکھے اوراس بات کا یقین کرلے کہ جس کے بارے میں بات کی جارہی ہے وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی غیبت کرنا جائز ہے۔ اگر اس پر معاملہ مشتبہ ہوجائے تو سلامتی کے برابر کوئی چیز نہیں ہوسکتی، اگر تم خاموشی اور عافیت میں غلطی کرجاؤ تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم غیبت اور سزا  کے معاملہ میں غلطی کرو۔ اصل بات یہ ہے کہ تمہارا مسلمان بھائی غیبت سے محفوظ اور مضبوط عزّت والا ہے۔

اے مؤمنو!

        بندے پر لازم ہے کہ وہ کسی دوسرے کے بارے میں بات صرف فہم وفراست سے کرے اوراپنی بات سے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ، اس کےرسول اور مسلمانوں کے لئے خیر خواہی کا ارادہ رکھے۔ شیخ الإسلام علّامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’اس شخص کے لئے اچھی نیت ضروری ہےجو کسی کی غیر موجودگی میں اس کا اس طرح ذکر کرے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔ اگر اس نے زمین میں بڑائی اور فساد کے لئے حق بات کی تو وہ اس انسان کی طرح ہوگا جو قومی غیرت اور دکھلاوے کے طور پر لڑائی کرتا ہے اور اگر صرف اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے لئے دین کو خالص کرتےہوئے صرف اسی کی رضا کے لئے بات کی تو انبیاء علیہم السلام کے وارثوں اور رسولوں کے خلفاء میں سے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والوں کی طرح ہوگا۔  ‘‘

مؤمنو!

        جس کی غیبت کی جارہی ہے اس کی حالت کے اعتبار سے غیبت کا گناہ بڑھ جاتا ہے، عام لوگوں اور عوام الناس کی غیبت اہلِ علم، متّقی اور نیک لوگوں کی غیبت کی طرح نہیں ہے۔ شیخ الإسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اسی وجہ سے مؤمن کی حالت کے اعتبار سے غیبت کا گناہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ جب بھی ایمان زیادہ ہوگا تو غیبت کا گناہ اور شدید ہوگا۔‘‘

        لہٰذا اے مؤمنو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ سے ڈرو، اپنی زبانوں کی حفاظت کرو اورانہیں خوب محفوظ بناؤ، کیونکہ جس نے اپنی زبان کو بغیر لگام کے چھوڑ دیا تو شیطان اسے ہر میدان میں لے کر جائے گا اور اسے ایک وادی کے کسی گرتےہوئے کنارے کی طرف کھینچے گا۔ کتنے ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابتداء میں حق اور ہدایت کی بات کی پھر شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کردیاپھر وہ ٹیڑھ اور خواہشات کی وجہ سے لوگوں کی غیبت میں گرپڑے۔

خطبة: آفات اللسان - الغيبة

پچھلا موضوع

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں