فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / علماء شریعت کےحقوق

علماء شریعت کےحقوق

تاریخ شائع کریں : 2018-03-13 | مناظر : 1947
- Aa +

خطبہ اول:

امابعد۔۔۔

 اے ایمان والو !

اللہ تعالی سے ڈرو اور اسکی مضبوط رسی  اورواضح کتاب پکڑو،بیشک اللہ تعالی اس کتاب کے ذریعہ سے کچھ قوموں کو اونچا درجہ دیتے ہیں اور کچھ کوپست کردیتے ہیں ،جن کو اس کتاب کے ذریعہ انچا کرتے ہیں ان میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو شریعت کی بنیاد اور مخلوق میں اللہ تعالی کے امین ہیں ،جو امت میں آپ ﷺ کے نائب ہیں ،علماء انبیاء کے وارث ہیں ،ان کے ذریعہ امت  محفوظ ہے اور شریعت قائم ہے ،وہ دین سے غلو کرنے والوں کی تبدیلی ،باطل لوگوں کا جھوٹ اور گمراہ لوگوں کی تاویل کو دور کردیتے ہیں،ان کا اجر اللہ پر ہے،کیا ہی اچھا اثر ہے ان کا اور کیا ہی بلند ذکر ہے ان کا۔

اے ایمان والو!

بیشک اللہ تعالی نے مضبوط علماء اور امت کے مقتداؤں کے کچھ حقوق فرض کیے ہیں ،جو ان کو لے کر عمل کرے گا وہ نجات پائے گا،اور جو ان سے اعراض کرے گا وہ اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالے گا۔

اے ایمان والو!

مومن پر دوسرے مومنوں کی محبت ضروری قرار دے دی گئی ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے :((مومن مرد او رمومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی اور دوست ہیں ))،شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے کہا ہےکہ مومن پر اللہ تعالی اور رسول ﷺ کی محبت کے بعد دوسرے مومنوں کی محبت واجب ہے ،جیسا کہ قرآن نے کہاہے،خصوصا علماء کی محبت جو انبیاء کے وارث ہیں ۔

علماء کے حقوق میں سے یہ ہےکہ :ان کے ساتھ محبت اورتعلق رکھا جائے ،علماء اور دین دار لوگوں کی محبت قربت اور  نیکی ہے ،جب آپ کسی کو دیکھیں کہ بھلائی کے ساتھ علماء کا ذکر کرہا ہے ،ان سے محبت کرتا ہے  اور ان کی پیروی کرتا ہے تو اس میں خیر کی توقع رکھو،وہ ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والاکبھی بد بخت نہیں ہوسکتا ۔

اے اللہ کے بندوں !علماء کے حقوق میں سے یہ ہےکہ:ان کااحترام  اور عزت کی جائے ،بیشک ان کااحترام او رعزت اللہ تعالی کے احترام اور عزت میں سے ہے ،اسی وجہ سے بعض بزرگوں نے کہا ہےکہ:علماء کا احترام کرنا سنت میں سے ہے ،ہمار ے بزر گ علماء کا بڑا احترام کرتے تھے ،ان کا ادب کرتے تھے ،عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جو اس امت سے بڑے عالم اور قرآن کے ترجما ن سمجھے جاتے ہیں،وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کی رسی پکڑ کر کہتے تھے :ہمیں اسی طرح حکم کیا گیا ہے کہ ہم اپنے علماء اور بڑوں  کے ساتھ کریں ۔

اے ایمان والو!

شریعت کے علماء اور امت کی حفاظت کرنے والوں کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ:ان سے اعراض کرنے سے اور ان پر طعن وتشنیع کرنے سے بچاجائے ،کیونکہ علماء اور آئمہ پر طعن و تشنیع اصل میں دین اور شریعت میں طعن وتشنیع ہے ،یہ بات اولیاء اللہ  کی اذیت کا سبب ہے ،اور اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے ،آپ ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے : ((جس نے میرے ولی کےساتھ دشمنی کی میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کرتا ہوں ))۔

اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈرو،اور علماء پر طعن وتشنیع سے اپنی زبانوں کو روکو،اس لیے کہ علماء کا گوشت زہر آلودہ ہے ،جو ان میں عیب نکالتا ہے  اس کے بارے میں اللہ کا طریقہ معلوم ہے ،علماء امت کی زبان سچی ہے ،ان کا ذکر بھلائی کے ساتھ کرناچاہیے ،جو ان کا ذکر برائی کے ساتھ کرے گا  وہ مسلمانوں کے طریقے پر نہیں ہوگا۔

اے ایمان والو!

علماء کے حقوق میں سے یہ ہے کہ:وہ دین کے جس حکم کے بارے  میں امر کریں اس میں ان کی اطاعت کی جائے ،اللہ تعالی نے قرآن میں ان کی اطاعت کا حکم کیا ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((اے ایمان والو!اللہ تعالی ،اس کے رسول اور اپنے مقتداؤں کی اطاعت کرو))،اولو الامر سے مراد  شریعت کے علماء اور حکمران ہیں ،حکمرانوں کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ : وہ دنیا اور ظاہری  دین میں لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں ،اور علماء کی اطاعت اس لیے کی جائے گی کہ :علم اوردین میں لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں،اے اللہ کے بندوں !اپنے حکمرانوں اور علماء کی اطاعت کرو ہدایت پاؤ گے ،اور جماعت کو لازم پکڑو،اورفرقہ واریت سے بچو،شیطان دو بندوں سے زیادہ ایک کے ساتھ ہوتا ہے ۔

اے اللہ کےبندوں !تم پر علماء کے حقوق میں سے یہ ہے کہ:جب دین کاکوئی معاملہ تمہیں پیش آجائے  تو ان کی طرف رجو ع کرو،اللہ تعالی کا ارشا د ہے: ((اہل علم سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو))جب معاملہ پوشیدہ با پیچیدہ ہوجائے تو علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے ،جو وہ فیصلہ کریں اس کو قبول کرنا چاہیے ،اس لیے کہ اللہ کی کتاب ان کی منتہاء  اور سنت ان کی دلیل ہے اور رسول اللہ ﷺ ان کے مقتداء ہیں اور بزرگوں کے اقوال ان کا ماخذ ہیں ۔

اے ایمان والو!

علماء اور فقہاء کے حقوق میں سے یہ ہے کہ:ان کے صحیح اقوال کو لیا جائے ،جو شریعت اور اس کے احکام کے مطابق ہو،اگر ان کی کوئی بات شریعت یا اس کے احکام کے مخالف ہوگی تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا،جو شخص علماء کے شاذ اورنادر اقول کو لیتا ہے اس میں شر جمع ہوجاتا ہے ،بلکہ امام اوزاعی ؒ نے کہاہے :جو علماء کے نادر اقوال لیتا ہے اس کے منہ میں پتھر ہو۔

اے اللہ کے بندوں !اللہ سے ڈرو،اور شریعت اور اس کے احکام پر ثابت قدم رہو،اور علماء کے جو حقوق اللہ تعالی نے تم پر فرض کیے ہیں ان کو ادا کرو،بیشک علماء ہی امت کے بہترین لوگ ہیں ۔

خطبہ ثانی:

اما بعد

اے ایمان والو!

جان لو کہ علماء کی طرف تمہار ی ضرورت ہر چیز سے  زیاد ہ ہے ،اللہ کی قسم وہ روشنی کے چراغ اور ہدایت کی نشانی ہیں ۔

اگر علماء دنیا میں نہ ہوتے تو دنیا لوگوں پر اندھیر ی ہوتی ،لیکن علماء دنیا میں ماہتا ب اور ستارے ہیں۔

علماء لوگوں میں دنیا کے لیے سورج کی طرح ہیں اور لوگو ں میں عافیت کا ذریعہ ہیں ،ان کا کوئی بدلہ اور عوض نہیں ہے ،لوگ صرف علماء کے باقی رہنےکی وجہ سے اللہ تعالی کی عبادت کا طریقہ سمجھ سکتے ہیں ،جب علماء مرجائیں گے تولوگ حیران ہوجائیں گے اور علم بھی ختم ہوجائے گا اور جہالت ظاہر جو جائے گی،صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ  میں نےآپ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا،”بیشک اللہ تعالی علم بندوں میں سے نکال کر ختم نہیں کرے گا،بلکہ علماء کو اٹھانے کےساتھ علم اٹھ جائے گا،یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہےگا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنائیں گے ،وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے ،خو د بھی گمراہ ہوجائیں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیں گے “۔

اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو،اور علماء سے علم حاصل کرنے میں جلدی کرو پہلے اس کے کہ علم ختم ہوجائے ،اس لیے کہ علم علماء کے ختم ہونے سے ختم ہوگا،اے ایمان والو!متوجہ ہوجاؤ،اے نوجوانوں ،اے طلباء علم،نفع مند علوم کی طرف متوجہ ہوجاؤ ،اپنے بڑوں سے علم حاصل کرو،اس کو یاد کرنے میں محنت کرو،اس کو وقت دو،صبر کرو اور ثابت قدم رہو،اور اللہ سے ڈرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے ۔

اے ایمان والو!

علم کی طلب اور اس کو علماء سے حاصل کرنا بڑے نیک کاموں میں سے ہے ،خاص ان اوقات میں ،جس میں لوگوں کے درمیا ن جہالت پھیل گئی،او ران علماء کی طرف حاجت بڑھ گئی جو اللہ تعالی کے پیغمات اور اس کی شریعتیں پہنچاتے ہیں،جب تم میں سے کوئی یہ امانت خود ادا نہیں کرسکتا تو کم ازکم ان کےساتھ بیٹھنا اور ان سے فائدہ حاصل کرنا تو نہیں چھوڑنا چاہیے ،بیشک دلوں کی اصلاح ان کے ساتھ بیٹھنے میں ہے ،ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:جو آدمی علماء کےساتھ چلتا ہے ،ان کےساتھ اٹھتا اور بیٹھتا ہے تو یہ اس کے فقیہ ہونے کی نشانی ہے ۔

اے اللہ ہمیں دین کی سمجھ اور تاویل سکھا دیجیے ،اے ہمارے رب ،ہمارے علم ،فقہ ،ہدایت اور اصلاح میں اضافہ فرمائیں ۔

اے اللہ ہم آپ سے نفع مند علم اور نیک عمل کا سوال کرتے ہیں۔

اے ہمارے رب ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ایمان کےساتھ ہم سے پہلے گذرے ہیں مغفرت فرما،اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کےلیے کھوٹ نہ بنا جو ایمان لائے ہیں ،اے ہمارےرب آپ بہت مہربان ہیں۔

اے اللہ علماء مسلمین کو دنیا اور آخرت کے ہر اس کام کی توفیق عطافرما جس میں خیر ہو۔

اے اللہ ان کی مددفرما،ان کو توفیق عطافرما،ان کو درستگی عطافرما،ان کو ہدایت عطافرما اور ان کو ان کے نفسوں کے شرور سے محفوظ فرما۔

خطبة: حقوق علماء الشريعة

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں