فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

جمعہ کے خطبہ جات / موسی علیہ السلام کا قصہ

موسی علیہ السلام کا قصہ

تاریخ شائع کریں : 2018-03-13 | مناظر : 4165
- Aa +

خطبہ اول:

یقینا تمام تعریفیں اللہ تعالی کےلیے ہیں ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مددچاہتے ہیں ،جس کو اللہ تعالی ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ،اورجس کو اللہ تعالی گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں و ہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ،اور محمد ﷺ اس کے بند ے اور رسول ہیں ۔

 اے اللہ کے بندوں !اللہ تعالی سے ڈرو،اللہ کے مضبوط رسی اور اس کی واضح کتاب کو پکڑو،اللہ تعالی نے تم پر عظیم کتاب اتاری ہے تا کہ تم اس کی آیات میں غور وفکر کرو ،اس کے واقعات سے عبرت حاصل کرو،بیشک یہ وہ عظیم کتاب ہے ،جس میں تم سے پہلے کی اور تمہاری بعد کی خبریں ہیں ،اورتمہارے درمیان کے فیصلے ہیں ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے :((تحقیق ان کے قصوں میں عقل والو ں کےلیے نصیحت ہے ،یہ کوئی گڑھی ہوئی چیز نہیں ہے ،بلکہ یہ کتاب اپنے سے ماقبل کتابوں کی تصدیق کرتی ہے ،او رہر چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے ،اورہدایت اور رحمت ہے مومن قوم کے لیے ))۔

 اے ایمان والو!

بیشک اللہ تعالی نے اپنی عظیم کتاب میں تم پر بہت سارے قصے ذکر کیے ہیں،جن میں عبرتیں اور نصیحتیں ہیں ،اور ان میں سب سے بڑا قصہ حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کا ہے ،وہ انبیاء کے قصوں میں سب سے بڑا ہے ،اس کو اور قصوں سے زیادہ ذکر کیا ہے ،اکثر سورتو ں میں اس کو ذکر کیا ہے تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں ۔

اے اللہ کےبندوں اور ایمان والو!

اجمالی طور پر اللہ تعالی نے حضرت موسی اور فرعون کا واقعہ جو  ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ فرعون جو مصر کا بادشاہ تھا،اس نے زمین میں سرکشی کی  اور لوگوں کو اپنے تابع بنایا،ان میں سے ایک گروہ یعنی بنی اسرائیل کو کمزور بنایا،جو حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم  علیہم السلام  کی اولاد میں سے تھے ،فرعون نے ان پر کنٹرول حاصل کیا،ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑتاتھا،وہ زمین میں سب سے بڑا فساد  کرنے والا تھا،اور اللہ تعالی فساد کرنے والوں کے عمل کو درست نہیں کرتا ،اللہ تعالی نے ان کمزوروں میں سے ایسے حضرات کو نکالا جو فرعون کو اس کا برا عمل اور گمراہی واضح کردیں ،تو اللہ تعالی نے موسی کو مبعوث فرمایا،اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی کی اور ان سے کلام فرمایا کہ اے موسی!میں ہی اللہ جہانوں کا رب ہوں،اللہ تعالی نے اپنی نشانیوں کے ساتھ ان کی مدد فرمائی،اور اللہ تعالی نے ان کے بھائی ہارون کے ذریعہ سے ان کی قوت بڑھائی،ان کونیک لوگوں میں سے نبی بنایا،پھر اللہ تعالی نے ان کو فرعون کے پاس بھیجا تا کہ اس کوجہانوں کے رب کی طرف دعوت دیں ،تو فرعون نے تکبر اور ضد کرتے ہوئے کہا کہ:جہانوں کا رب کون ہے؟تو موسی نے جواب دیا :((جو آسمانوں اور زمین کا  اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اگر تم یقین رکھتے ہوں))تو جہانوں کے رب کے دشمن فرعون نے  اپنی قوم سے کہا: ((کیا تو لوگ سن نہیں رہے ))تو موسی نے اللہ تعالی کا تعارف کرتے ہوئے فرمایا: ((جو تمہارا اور تمہارے اباء واجداد کارب ہے ))تو فرعون نے کہا : ((بیشک جو رسول تمہارے پاس بھیجا گیا ہے وہ تو پاگل ہے ))تو موسی علیہ السلام نے جواب دیا: ((جو مشرق او رمغر ب کا اور جو کچھ ان کے درمیان  ہے ان سب کا رب ہے اگر تم لوگ عقل رکھتے ہوں))اور((جس نے ہر چیز کو پیدا کرکے پھر اس کو راہ دکھائی))اور ((اور جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا،اوراس میں تمہارے لیے راستے بنائے ،اور آسمان سے پانی برسایا ،جس کے ذریعے ہم نے مختلف قسم کے سبزوں  کے جوڑے بنائے ،خود بھی کھاؤ اوراپنے چوپاؤ ں کو بھی  کھلاؤ،بیشک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ))۔

جب فرعون کی دلیل ختم ہوگئی اور اس کےسامنے واضح ہوگیا کہ جہانوں کا رب کون ہے ؟تو موسی علیہ السلام کو دھمکی دیتا ہوا کہا: ((اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے جیل میں ڈال دوں گا))تو موسی نے اس کی حجت کو باطل کرتے ہوئے  کہا تاکہ اس کو پتا چل جائے کہ جو موسی کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے: ((موسی نے کہا :کیامیں تمہارے پاس واضح چیز نہیں لایا))انہوں نے فرعون  کو و ہ نشانیاں دکھائیں جن میں واضح آزمائش تھی،جب ان کے پاس جہانوں کے رب کی نشانیاں آگئیں تو وہ لوگ کہنے لگے: ((یہ تو کھلاہوا جادو ہے ،اور انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کیا اور ان کو یقین ہوگیا ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے ))،((اور انہوں نے کہا کہ:تم جو بھی ہمارے پاس نشانی لاؤ گےتاکہ ہم پر جادو کریں ،لیکن ہم آپ پر ایمان لانے والے نہیں ))۔

فرعون اور اس کی قوم والے اللہ  کے کفر پر اصرار کرتے رہے ،بڑا تکبر کیا اور مشرق او رمغرب کے رب اور سارے جہانو ں کے رب کو غصہ دلایا،تو اللہ تعالی نے موسی کو وحی کی ،((یہ کہ میرے بندوں کو رات کے وقت لے جاؤ بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا،تو فرعون نے شہروں میں جمع  کرنے والے بھیجے کہ یہ لوگ (موسی اور ان کی قوم )تھوڑی سی جماعت ہے ،اور یہ ہمیں غصہ دلارہے ہیں ،اور ہم سب ڈرنے والے ہیں ))،تو فرعون نے اپنالشکر تیار کیا تا کہ موسی اور ان کے ساتھ مومنوں کے لشکر کا پیچھا کریں ،فرعون اور اس کی قوم والے مصر سے نکل پڑے ،جو باغات،چشموں ،خزانوں کی اور عزت والی جگہ تھی،تاکہ موسی اور ان کے ساتھیوں کو سرکشی کرتے ہوئے قتل کردیں،فرعون نے ان کو دریا کےپاس پایا،اللہ تعالی کا ارشاد ہے ((موسی کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم پکڑے پائے گے ))یعنی فرعون اور اس کی قوم ہمیں گرفتار کریں گے ،موسی نے اپنے رب کے وعدے پر یقین کرتے ہوئے کہا ((ہر گز نہیں بیشک میرارب میرے ساتھ ہے عنقریب وہ میری راہنمائی کرے گا))تو اللہ تعالی کی وحی ان کےپاس آگئی((کہ اپنی لاٹھی دریا پرمارو،تو دریا پھٹ پڑا اور ہر گروہ کےلیے بڑے پہاڑ جیسے راستہ بن گیا))تو موسی اور ان کی قو م ان رستوں پہ چل پڑے ،جب وہ گذر گئے تو فرعون بھی اپنی قوم کےساتھ ان کے پیچھے چل پڑے ،لیکن جہانوں کے رب اور موسی اورہارون کےرب پر ایمان نہیں لایا،جب پانی کے درمیان پہنچ گئے  تو اللہ تعالی نے ان پر پانی کھول دیا اور سارے غرق ہوگئے ،((بس ان پر نہ آسمان رویا اورنہ زمین،او ر وہ مہلت دیے جانے والو ں میں سے نہ تھے ))((اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا))سبب اپنے کفر کے ((آگ پروہ  صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں ))قیامت تک ((اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو آل فرعون کو سخت عذا ب میں ڈالا  جائے گا))((اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود اپنی جانو پرظلم کرنے والے تھے ))((اور ہم نے ان ظلم نہیں کیا تھا بلکہ  انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا تھا ،پھر ان کے معبودوں نے ان سے کچھ بھی دور نہیں  کیا جن کو وہ اللہ کے علاوہ پکارتے تھے ،جب آپ کے رب کا حکم آیا،اور ان معبودوں نے ان کی ہلاکت میں اضافہ کیا ،اور اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہوتی ہے جب وہ بست والوں کو ظلم کی حالت میں پکڑتے ہیں ،بیشک اس کی پکڑ بہت سخت ہے ))۔

اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں  ،وہ بادشاہ،حق اور واضح ہے ،اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے ،اور ظالم اور جھٹلانے والوں سے بدلہ لیتا ہے ،بس تمام  تعریفیں اللہ کےلیے جو جہانوں کارب ہے ،اور بہترین انجام متقین کےلیے ہے ،اور زیادتی صرف ظلم کرنے والوں کےلیے ہے ۔

خطبہ ثانی:

اما بعد۔۔۔

اے ایمان والو!

اللہ تعالی سے ڈرو،پچھلے لوگوں کی سزاؤں سے عبر ت حاصل کرو،اور نیک لوگوں کے بہترین انجام سے بھی ،بیشک اللہ تعالی نے تم پر یہ قصے اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ تم غور وفکر کرو،اور شر سے بچو،اور نیکی کی طرف متوجہ ہوجاؤ ،ان واقعات کو بیان کرو تاکہ وہ غور وفکر کریں ۔

اے اللہ کے بندوں !

بیشک اہل حق کےپاس اللہ کی مددضرور آنے والی ہے ،لیکن اللہ تعالی نے اس کی کچھ شرائط مقرر کی ہیں ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ((اے ایمان والو!اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تعالی تمہاری مدد کرے گا،اور تمہارے پاؤ ں ثابت قدم رکھے گا))او رایک دوسر ی جگہ ارشاد ہے: ((اور قسم ہے زمانے کی ،بیشک انسان خسارے میں ہے ،مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کیے اور حق اور صبر کے ساتھ ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہے ))۔

اے ایمان والو!

یہ تمہاری امت ایک ہی ا مت ہے ،اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر وں  اور نیک لوگوں  کی مدد کا جو ذکر کیا ہے ،وہ ہرزمانے اور ہر جگہ اہل اسلام کی مدد ہے ،اس لیے آپ ﷺ نے دس محرم کا روزہ شکر کے طور پر رکھا کہ اس دن حضرت موسی فرعون پر غالب آگئے تھے ،آپ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائیں تو آپ نے یہودیوں کو پایا کہ اس دن روزہ رکھتے ہیں ،تو ان سے اس روزے کا سبب پوچھا؟تو انہوں نے کہا:یہ نیک دن ہے ،اس میں اللہ تعالی نے موسی اور ان کی قوم کو نجات دی تھی،اور فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیاتھا،آپ ﷺ کا ارشاد ہے ” میں ان سے زیادہ موسی کا حق دار ہوں ،چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور روزہ کا حکم دیا “۔

خطبة: قصة موسى عليه السلام

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں