فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / پہلی بیوی سے اعراض کرنا دوسری کی وجہ سے

پہلی بیوی سے اعراض کرنا دوسری کی وجہ سے

تاریخ شائع کریں : 2016-09-06 09:29 AM | مناظر : 506
- Aa +

سوال

میں نے ایک عورت کے ساتھ شادی کرکے سولہ سال گزارے پھر میں نے ایک بڑے خاندان کی عورت سے شادی کی اور شادی کے بعد مجھے اس سے اور اسے مجھ سے اس قدر محبت ہوگئی کہ وہ پہلی بیوی کے پاس میرے جانے کو بالکل برداشت نہیں کر پاتی اور اب چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا کہ میں اس کے پاس نہیں گیا پس میں نے اس کی طلاق کو برقرار رکھا یہ جانتے ہوے کہ اس کو پہلے سے میری طرف سے دو طلاق ہو گئی ہے لیکن اس نے بغیر طلاق کے اسی کے وضع پر دوام قبول کر لیا ہے (تو اب میرا سوال یہ ہے) کہ میں چار مہینے اس نہ ملوں تو میں گناہ گار تو نہیں ہوگا؟ یہ بات ذہن میں رہے کہ میں اس سے نفرت نہیں کرتا لیکن دوسری کو اس پر ترجیح دیتا ہوں اور نہ ہی اسے گنوانا چاہتا ہوں لھذا آپ سے عاجزانہ گزارش ہے کہ آپ مجھے میری پہلی بیوی لوٹانے میں میری مدد کرے اور اس کو بھی امید ہے کہ میں اس کے پاس واپس لوٹ آؤں گا اور اس نے میری دوسری شادی کو بھی قبول کر لیا ہے۔

تزوج بثانية و رفض المبيت عند الأولي

جواب

اگر آپ کی پہلی بیوی نے اپنا حق خود ساقط کر دیا ہے اور ترک جماع کی وجہ سے اس پر کسی فتنہ و فساد کا اندیشہ نہیں ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے لیکن اس کے باوجود بھی میں آپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں اور اللہ پاک سے ڈراتا ہوں کہ آپ اس سے ضرور ملیں تاکہ اسکی (نفسانی ضرورت) پوری ہو اسلۓ کہ اسے بھی ضرورت ہوتی ہے اور رہی بات دوسری بیوی کو پہلی بیوی کے حق کو ساقط کرنے پر راضی کرنا تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ بخاری شریف میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی عورت کے لۓ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی سوکن کے طلاق کا مطالبہ کرے (اسلۓ کہ) وہ اپنی برتن کو بھرے اس لۓ کہ اسے وہی ملے گا جو اس کی تقدیر میں ہے۔ (بخاری: ۵۱۵۲)

 

آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں