فتوا فارم کے لئے درخواست

غلط کیپچا
×

بھیجا اور جواب دیا جائے گا

×

افسوس، آپ فی دن ایک فتوی بھی نہیں بھیج سکتے.

نکاح / عورت کے ساتھ دُبر میں وطی کرنا

عورت کے ساتھ دُبر میں وطی کرنا

تاریخ شائع کریں : 2016-10-17 06:51 PM | مناظر : 2112
- Aa +

سوال

کیا عورت کے ساتھ دُبر میں وطی کرنا جائز ہے ؟

حكم إتيان المرأة في دبرها

جواب

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

بارہ سے زیادہ صحابہ کرام ؓ نے عورت کے ساتھ دُبر میں وطی کرنے کی حرمت کو آپ سے نقل کی ہے ، جن میں حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابوہریرہ ، حضرت حذیفہ، حضرت علی بن طلق، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت براء بن عازب ، حضرت عقبہ بن عامر، حضرت انس اور حضرت ابوذر ضی اللہ عنہم ہیں ۔اگر چہ ان احادیث کی سند میں بات ہوئی ہے مگراتنا سارا مجموعہ احادیث کا حکم لگانے کے لئے کافی ہے ۔اور ابن عباسؓ کی حدیث تو مرفوع ہے جس میں ان سے مروی ہے کہ:’’اللہ تعالیٰ اس بندے کو رحمت کی نگا ہ سے نہیں دیکھیں گے جو کسی عورت یا آدمی کے ساتھ دُبر میں وطی کرے‘‘۔اس حدیث کو امام ترمذیؒ نے بھی روایت کی ہے اور اس میں توقف اختیار کیا گیا ہے اور اس قول پر جمہور علماء مخلتف مذاہب کا فتوی ہے ۔ اور جو ہمارے سامنے ظاہر ہورہا ہے وہ یہ کہ منع کرنا’’منع لاجلہ‘‘ ہے ۔یعنی جس طرح حیض کے دوران وطی سے اذیت کی وجہ سے منع کیا گیا ہے تو دُبر میں بھی تو اذیت پائی جاتی ہے ۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حیض کے خون بارے میں جو کہ عارض بن رہا ہے (ترجمہ)  ’’ کہہ دیجئے اے نبی!  کہ یہ اذیت ہے اور حیض کی حالت میں بیویوں سے دور رہو‘‘۔تو پھر کس طرح دُبر میں جائز ہوسکتا ہے کہ وہ دائمی طور پر محل اذیت ہے لہٰذا اس کو بدرجہ ٔ أولیٰ منع کرنا چاہئے ۔ اب عورت کو چاہئے کہ شوہر پر جبر کرے اور جدائی اختیار کرے ا۔اور اگر مرد وعورت دونوں اس بات پر متفق ہوں تو پر قاضی کو چاہئے کہ وہ دونوں کے درمیان جدائی ڈال دے ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

11/03/1425هـ

ملاحظہ شدہ موضوعات

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں